مشرقِ وسطیٰ کی بڑھتی کشیدگی سے ڈالر اور تیل کی قیمتوں میں تیزی، جبکہ گولڈ اور بڑے کرنسی پیئرز میں اتار چڑھاؤ برقرار۔
"sanctions on crypto currencies will not be effective warns imf" کے لیے 540 نتائج۔
مشرقِ وسطیٰ کی بڑھتی کشیدگی سے ڈالر اور تیل کی قیمتوں میں تیزی، جبکہ گولڈ اور بڑے کرنسی پیئرز میں اتار چڑھاؤ برقرار۔
آج 18 اگست 2026 کو پاکستانی مارکیٹ میں 24 قیراط سونے کی قیمت 453,700 روپے فی تولہ پر برقرار رہی جبکہ عالمی مارکیٹ میں XAU/USD $4,393.80 پر مستحکم ہے۔ DXY 99.67 پر ٹریڈ کر رہا ہے، جو سونے کے لیے ممکنہ طور پر منفی رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔
آج انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر پاکستانی روپے کے مقابلے میں 277.92 روپے پر بند ہوا، جبکہ روپے نے 0.40% کی معمولی بہتری دکھائی۔ عالمی DXY انڈیکس میں بھی معمولی اضافہ دیکھا گیا۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں KSE-100 انڈیکس 180,502 پوائنٹس پر بند ہوا، معمولی تبدیلی کے ساتھ۔ سرمایہ کار آئندہ حکومتی پالیسیوں اور معاشی اشاروں کا انتظار کر رہے ہیں۔
Gold سونا 4,400 ڈالر کے قریب مضبوط ہے، جبکہ کمزور امریکی ڈیٹا اور فیڈ ریٹ ہائیک کی گھٹتی توقعات قیمت کو سپورٹ کر رہی ہیں۔
آج 17 اگست 2026 کو سونے کی قیمتیں مقامی اور عالمی منڈیوں میں مستحکم رہیں، پاکستانی مارکیٹ میں 24 قیراط سونا 453,700 روپے فی تولہ پر برقرار ہے جبکہ عالمی سطح پر XAU/USD $4,392.20 پر ٹریڈ ہو رہا ہے۔
آج انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں معمولی بہتری دیکھی گئی، جبکہ عالمی سطح پر DXY انڈیکس میں گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں KSE-100 انڈیکس آج 0.12% کی معمولی گراوٹ کے ساتھ 180,105 پوائنٹس پر بند ہوا۔ سرمایہ کاروں نے دن بھر محتاط رویہ اپنائے رکھا۔
EUR/USD نئے ہفتے میں 1.1500 سے اوپر تیزی کے رجحان کے ساتھ داخل ہو رہا ہے، جبکہ کمزور امریکی معاشی اعداد و شمار نے ڈالر پر دباؤ بڑھایا ہے۔ FOMC Minutes اور یورو زون کے معاشی اعداد و شمار پیئر کی اگلی بڑی سمت کا تعین کر سکتے ہیں۔
16 اگست 2026 کو سونے کی عالمی اور مقامی قیمتیں بغیر کسی بڑی تبدیلی کے مستحکم رہیں، جبکہ ڈالر انڈیکس (DXY) 99.64 پر مستحکم رہا۔
مارکیٹ میں اچھی Trading Strategy کے باوجود ایک غلط ٹریڈ بڑے نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک کامیاب ٹریڈر صرف منافع کے امکانات نہیں دیکھتا۔ بلکہ نقصان کی حد بھی پہلے سے طے کرتا ہے۔
امریکہ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی IAEA کے آئندہ اجلاس میں ایران کے معاملے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل تک بھیجنے والی قرارداد کی حمایت کر رہے ہیں۔ رائٹرز کی جانب سے دیکھے گئے مجوزہ متن کے مطابق قرارداد IAEA کے ڈائریکٹر جنرل سے موجودہ اور سابقہ قراردادیں سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کو منتقل کرنے کا مطالبہ کرے گی۔ مجوزہ قرارداد ابھی باضابطہ طور پر جمع نہیں ہوئی، اس لیے ایران کو سلامتی کونسل رپورٹ کیا جانا ابھی منظور شدہ فیصلہ نہیں۔ IAEA کے مطابق ایران نے بمباری سے متاثرہ تنصیبات تک مکمل رسائی بحال نہیں کی اور ایجنسی افزودہ یورینیم کے ذخائر کی موجودہ مقدار کی تصدیق نہیں کر پا رہی۔ اگر قرارداد منظور ہوتی ہے تو یہ تقریباً 20 سال بعد ایران کے جوہری معاملے کو IAEA بورڈ سے سلامتی کونسل تک لے جانے کی ایک بڑی سفارتی کشیدگی ہوگی۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں