معاشی دنیا میں اس وقت ہلچل مچ گئی جب European Stock Markets اور بانڈز میں ایک شاندار تیزی دیکھنے میں آئی۔ سرمایہ کاروں کی تمام تر توجہ اب جمعہ کو آنے والے اہم US Nonfarm Payroll اور مرکزی بینک کے عہدیداروں کے بیانات پر مرکوز ہے
"us stocks tumbled amid increasing bonds yields and taiwan earthquake" کے لیے 866 نتائج۔
معاشی دنیا میں اس وقت ہلچل مچ گئی جب European Stock Markets اور بانڈز میں ایک شاندار تیزی دیکھنے میں آئی۔ سرمایہ کاروں کی تمام تر توجہ اب جمعہ کو آنے والے اہم US Nonfarm Payroll اور مرکزی بینک کے عہدیداروں کے بیانات پر مرکوز ہے
گزشتہ روز کے سیشن میں تقریباً ایک فیصد کی گراوٹ کے بعد KSE100 انڈیکس نے جمعرات کی صبح زبردست واپسی کی۔ کاروبار کے ابتدائی منٹوں میں انڈیکس 950 سے زائد پوائنٹس اوپر چلا گیا اور 175734.10 کی سطح تک پہنچ گیا۔
space warfare and markets کا گہرا تعلق اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ جب مدار میں تنازعات جنم لیتے ہیں، تو اس کے اثرات زمین پر موجود گلوبل فنانشل مارکیٹس اور معیشت پر براہ راست پڑتے ہیں
عالمی سونے کی قیمت (XAU/USD) اپنی 'bearish trend continuation' کو برقرار رکھے ہوئے ہے، جو $4,454.99 کی سابقہ سپورٹ سطح کے نیچے ایک مستحکم 'daily close' کے بعد مزید مضبوط ہوئی ہے۔ DXY کی مسلسل مضبوطی سونے پر دباؤ ڈال رہی ہے، جبکہ امریکی ٹریژری ییلڈز میں اضافہ 'non-yielding' سونے کی کشش کو کم کر رہا ہے۔
کریکن کی پیرنٹ کمپنی پےورڈ نے اپنی ابتدائی عوامی پیشکش (initial public offering یا IPO) کو سال 2027 کی دوسری سہ ماہی تک ملتوی کر دیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف حالیہ بیان اور ایرانی قیادت کے سخت ردعمل نے سرمایہ کاروں کو ایک بار پھر محتاط کر دیا ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج PSX میں بدھ کے روز کاروباری سرگرمیوں کے دوران شدید دباؤ دیکھا گیا۔ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، توانائی کی سپلائی میں ممکنہ خلل کے خدشات اور عالمی مارکیٹس میں فروخت کے دباؤ نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کیا۔
کرپٹو مارکیٹ میں Bitcoin اور Ethereum نے معمولی ریکوری کی کوشش کی لیکن اہم مزاحمتی سطحوں کو توڑنے میں ناکام رہے، جس کے بعد اب ایک معمولی گراوٹ دیکھی جا رہی ہے۔ میکرو اکنامک دباؤ اور ڈیریویٹوز مارکیٹ میں محتاط پوزیشننگ رینج باؤنڈ کنسولیڈیشن کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کے آغاز پر شدید فروخت کا دباؤ دیکھا گیا، جس کے نتیجے میں بینچ مارک KSE100 انڈیکس ابتدائی کاروبار کے دوران تقریباً 1300 پوائنٹس تک گر گیا
آج ایشیائی سیشنز میں بھی عالمی بانڈ مارکیٹس میں شدید فروخت کا رجحان دیکھا گیا ہے، جس کے نتیجے میں سرکاری بانڈز کی Yields اور قرض لینے کے اخراجات کئی دہائیوں کی بلند سطحوں تک پہنچ گئے ہیں۔
جنگ صرف میدانِ جنگ کو نہیں ہلاتی بلکہ اس کے اثرات دنیا کی معیشت، تیل کی قیمتوں اور فنانشل مارکیٹس تک پہنچتے ہیں۔ US Iran War نے بھی عالمی سرمایہ کاروں کے سامنے ایک بڑا سوال کھڑا کر دیا ہے
ریزرو بینک آف نیوزی لینڈ نے اپنیMonetary Policy میٹنگ کے بعد شرح سود میں 25 بنیادی پوائنتس کا اضافہ کرتے ہوئے اسے 2.50 فیصد سے بڑھا کر 2.75 فیصد کر دیا ہے
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں