ریاض کے ہنگامی اجلاس میں Mecca Defence Agreement کو فعال کرنے اور سعودی عرب میں عسکری تعیناتی کے اعلان نے خطے کی جیو پولیٹیکل (Geopolitical) صورت حال کو ایک بالکل نئے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔
"crypto regulations institutions are waiting for the new legislations" کے لیے 1019 نتائج۔
ریاض کے ہنگامی اجلاس میں Mecca Defence Agreement کو فعال کرنے اور سعودی عرب میں عسکری تعیناتی کے اعلان نے خطے کی جیو پولیٹیکل (Geopolitical) صورت حال کو ایک بالکل نئے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔
فاریکس مارکیٹ میں کرنسیز کو اس وقت شدید ترین دباؤ کا سامنا ہے، کیونکہ Euro کی کمزوری، مالیاتی اور سیاسی خدشات) نے سرمایہ کاروں کو گہری تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ آج ایشیائی سیشن کے دوران یورو گر کر 1.1220 ڈالر کے قریب آ گیا،
پاکستان کی معیشت 11.50 فیصد پالیسی ریٹ اور 11.10 فیصد افراط زر کے ساتھ مثبت حقیقی شرح سود کے بل بوتے پر توازن برقرار رکھے ہوئے ہے، جہاں روپیہ انٹربینک میں 277.10 پر مستحکم ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اہم ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کرتے ہوئے ڈیزل کی مختلف اقسام پر عائد پابندیوں کو نرم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس پالیسی تبدیلی کا بنیادی مقصد بڑھتی ہوئی قیمتوں کو قابو میں لانا اور صارفین کے لیے ایندھن کے بڑھتے ہوئے اخراجات کو کم کرنا ہے
آج صبح سے یمنی حکومت کی فورسز کی جانب سے حوثیوں کے خلاف ایک بڑے عسکری آپریشن ’فجر الیمن‘ کا آغاز کیا گیا ہے، جس میں 100 جنگی طیاروں نے حصہ لیا اور درجنوں اہداف کو نشانہ بنایا۔ اس کارروائی کے دوران اہم اسٹریٹجک مقام یعنی باب المندب اور ذو باب ہوائی اڈے کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں آج کے پورے سیشن کے دوران شدید فروخت کا دباؤ دیکھا گیا، جس کی بڑی وجوہات بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور ملک کے اندر بڑھتی ہوئی سیاسی شورش تھیں ۔ اس دباؤ کے نتیجے میں بینچ مارک KSE100 انڈیکس تقریباً 2,300 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ بند ہوا۔
امریکی افراطِ زر 3.35 فیصد پر جمود کا شکار رہنے کے بعد ڈالر انڈیکس (DXY) 102.21 کی سطح تک پہنچ گیا ہے، جس سے عالمی مالیاتی مارکیٹوں میں خطرہ ٹالنے کے رجحان کو تقویت مل رہی ہے۔
عالمی مارکیٹ میں سونا (XAU/USD) $4,160.88 پر بحالی کی کوشش کر رہا ہے، تاہم پاکستان میں 24 قیراط سونا 0.92 فیصد کمی کے ساتھ 432,979 روپے فی تولہ پر آ گیا ہے۔ پڑھیں اس ڈائیورجنس کی مکمل وجوہات اور تکنیکی جائزہ۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں 5 اکتوبر 2026 کے سیشن کے اختتام پر KSE-100 انڈیکس 1.36 فیصد گر کر 165,867 پوائنٹس پر بند ہوا۔ سیشن کے دوران انڈیکس 172,756 کی بلند ترین سطح کو چھونے کے بعد شدید سیلنگ پریشر کا شکار ہوا۔
EUR/USD اس وقت تقریباً 1.1208 کے قریب ٹریڈ کر رہا ہے، جبکہ حالیہ price action میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں یورو پر واضح دباؤ نظر آ رہا ہے۔ قیمت مسلسل lower highs اور lower lows بنا رہی ہے، جس سے مجموعی رجحان bearish دکھائی دیتا ہے۔ حالیہ شدید گراوٹ کے بعد قیمت نے 1.1160–1.1180 کے علاقے سے معمولی recovery دکھائی ہے، لیکن جب تک اہم resistance levels دوبارہ حاصل نہیں ہوتے، موجودہ recovery کو مکمل bullish reversal تصور کرنا قبل از وقت ہوگا۔
GBP/USD اس وقت تقریباً 1.3229 کے قریب ٹریڈ کر رہا ہے اور مجموعی تکنیکی ساخت اب بھی محتاط اور قدرے bearish دکھائی دے رہی ہے۔ بڑے رجحان میں قیمت مسلسل lower highs اور lower lows بنا رہی ہے، جبکہ حالیہ گراوٹ کے بعد مختصر مدت میں معمولی recovery نظر آ رہی ہے۔
فنانشل مارکیٹس میں ہفتے کے آغاز پر ہی غیر معمولی ہلچل دیکھنے میں آئی ہے، جہاں دنیا کی سب سے بڑی کرنسیز کا ٹریڈنگ پیئر EURUSD کے تحت شدید دباؤ کا شکار ہو گئی۔ یورو کی قدر میں اس زبردست کمی نے اسے مئی 2025 کی کم ترین سطح پر لا کھڑا کیا ہے
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں