امریکی افراطِ زر 3.35 فیصد پر جمود کا شکار رہنے کے بعد ڈالر انڈیکس (DXY) 102.21 کی سطح تک پہنچ گیا ہے، جس سے عالمی مالیاتی مارکیٹوں میں خطرہ ٹالنے کے رجحان کو تقویت مل رہی ہے۔
"eur usd analysis iran ceasefire tensions and hawkish fed keep pair near 1 1660" کے لیے 1003 نتائج۔
امریکی افراطِ زر 3.35 فیصد پر جمود کا شکار رہنے کے بعد ڈالر انڈیکس (DXY) 102.21 کی سطح تک پہنچ گیا ہے، جس سے عالمی مالیاتی مارکیٹوں میں خطرہ ٹالنے کے رجحان کو تقویت مل رہی ہے۔
عالمی مارکیٹ میں سونا (XAU/USD) $4,160.88 پر بحالی کی کوشش کر رہا ہے، تاہم پاکستان میں 24 قیراط سونا 0.92 فیصد کمی کے ساتھ 432,979 روپے فی تولہ پر آ گیا ہے۔ پڑھیں اس ڈائیورجنس کی مکمل وجوہات اور تکنیکی جائزہ۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کے آغاز پر شدید فروخت کا رجحان دیکھا گیا، جس کے نتیجے میں KSE100 انڈیکس ایک ہزار پوائنٹس پوائنٹس نیچے آ گیا۔ عالمی معاشی دباؤ، بڑھتی ہوئی امریکی ٹریژری ییلڈز ، اور مقامی معاشی اشاریوں نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کیا ہے۔
بینک آف جاپان کے ڈپٹی گورنر شینیچی اوچیڈا نے ایک اہم بیان میں انکشاف کیا ہے کہ BOJ AI Monetary Policy کے فیصلوں میں اب ایک مرکزی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔
وال اسٹریٹ پر اینویڈیا کی $1,090 کی سطح عبور کرنے اور ٹیسلا کے 4.65 فیصد اضافے نے 'میگنیفشینٹ 7' کی بلش پیش قدمی کو نئی طاقت دی ہے، جبکہ بینکنگ سیکٹر میں معمولی دباؤ قائم ہے۔
امریکی افراط زر کی 3.35 فیصد سطح اور 10 سالہ ٹریژری ییلڈ کے 5.277 فیصد پر استحکام نے فیڈرل ریزرو کی سخت پالیسی طویل تر رکھنے کی توثیق کر دی ہے، جس سے ڈالر انڈیکس 101.92 پر کھڑا ہو کر عالمی اثاثوں کو متاثر کر رہا ہے۔
پاکستان بیورو آف شماریات کے مطابق ہیڈلائن افراط زر 11.10 فیصد پر آنے کے بعد اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے 11.50 فیصد پالیسی ریٹ کے باعث مثبت حقیقی شرح سود بحال ہو چکی ہے، جس سے آئندہ مانیٹری پالیسی اجلاس میں مزید ریٹ کٹ کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔
انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر 276.82 روپے پر ٹریڈ ہو رہا ہے جبکہ مثبت حقیقی شرح سود روپے کو بنیادی سہارا فراہم کر رہی ہے۔
ستمبر کے مہینے کے لیے جاری ہونے والی اس رپورٹ نے نہ صرف وال اسٹریٹ (Wall Street) کو ہلا کر رکھ دیا بلکہ دنیا بھر کے کرنسی اور کموڈٹی ٹریڈرز کو بھی نئی حکمت عملی اپنانے پر مجبور کر دیا۔
یورپی یونین کے ممالک پر امریکی دباؤ کے بعد ہنگامی ڈیزل ذخائر جاری کرنے کے حوالے سے اہم مشاورت شروع ہو چکی ہے۔ موجودہ جغرافیائی سیاسی تنازعات اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے دنیا بھر کی معیشتوں کو متاثر کیا ہے۔
برینٹ (Brent Crude Oil) 2.77 فیصد کم ہوکر 99.48 ڈالر، جبکہ WTI 3.61 فیصد گر کر 89.52 ڈالر فی بیرل رہا۔ فرانسیسی تجویز میں یورپی ممالک سے 50 ملین بیرل ڈیزل اور عالمی توانائی ایجنسی کے ارکان سے مزید 50 ملین بیرل خام تیل جاری کرنے کی بات شامل ہے۔ یورپی گیس آئل فیوچرز 5 فیصد سے زیادہ گر کر تقریباً 1,377 ڈالر فی میٹرک ٹن تک آئے۔ مذاکرات میں امریکا کی جانب سے یکطرفہ ڈیزل برآمدی پابندی نہ لگانے کی یقین دہانی بھی اہم معاملہ ہے۔ مجوزہ حجم کے ساتھ منظوری، ترسیل کا شیڈول اور ریفائنڈ ایندھن کی حقیقی دستیابی اگلا فیصلہ کن مرحلہ ہوں گے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں زبردست فروخت کے دباؤ کی زد میں آ گئی ہیں جہاں برینٹ خام تیل 3.11 فیصد کمی کے ساتھ 99.13 ڈالر اور ڈبلیو ٹی آئی 4.02 فیصد گر کر 89.14 ڈالر پر آ گیا ہے۔ سپریڈ پھیلاؤ اور پرافٹ ٹیکنگ نے مارکیٹ کے سابقہ استحکام کو ختم کر دیا ہے۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں