پاکستان کی معیشت کو آسان اردو میں سمجھنے کے لیے مکمل learning hub — مہنگائی، شرحِ سود، روپیہ، IMF، بجٹ، GDP اور روزمرہ زندگی پر اثرات۔
"us senate will pass the crypto bill in next two months" کے لیے 562 نتائج۔
پاکستان کی معیشت کو آسان اردو میں سمجھنے کے لیے مکمل learning hub — مہنگائی، شرحِ سود، روپیہ، IMF، بجٹ، GDP اور روزمرہ زندگی پر اثرات۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج KSE-100 انڈیکس 176,846 پوائنٹس پر بند ہوا، جس میں 0.44% کی معمولی گراوٹ دیکھی گئی۔ سرمایہ کار آئندہ مارکیٹ رجحانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔
برطانیہ کی مہنگائی 2.9% تک بڑھنے کے باوجود GBP/JPY دباؤ میں ہے، جبکہ BoJ کی شرحِ سود میں اضافے کی توقعات جاپانی ین کو مضبوط کر رہی ہیں۔
یورو/ڈالر آج 1.1580 کے قریب ٹریڈ کر رہا ہے جبکہ امریکی ڈالر کی کمزوری نے یورو کو سپورٹ فراہم کی ہے۔ 1.1600 مزاحمت اور 1.1550 سپورٹ اہم سطحیں ہیں۔ آج فیڈرل ریزرو کی میٹنگ منٹس اور ECB کے اشارے EUR/USD کی اگلی سمت اور مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
مہنگائی، تیل کی قیمتوں اور فیڈ پالیسی کی توقعات کے باعث امریکی ٹریژری ییلڈز میں اضافہ ہوا۔ جانیں اس کا ڈالر، سونے اور فاریکس مارکیٹ پر کیا اثر پڑ سکتا ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں KSE-100 انڈیکس 180,502 پوائنٹس پر بند ہوا، معمولی تبدیلی کے ساتھ۔ سرمایہ کار آئندہ حکومتی پالیسیوں اور معاشی اشاروں کا انتظار کر رہے ہیں۔
آج 17 اگست 2026 کو سونے کی قیمتیں مقامی اور عالمی منڈیوں میں مستحکم رہیں، پاکستانی مارکیٹ میں 24 قیراط سونا 453,700 روپے فی تولہ پر برقرار ہے جبکہ عالمی سطح پر XAU/USD $4,392.20 پر ٹریڈ ہو رہا ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں KSE-100 انڈیکس آج 0.12% کی معمولی گراوٹ کے ساتھ 180,105 پوائنٹس پر بند ہوا۔ سرمایہ کاروں نے دن بھر محتاط رویہ اپنائے رکھا۔
مارکیٹ میں اچھی Trading Strategy کے باوجود ایک غلط ٹریڈ بڑے نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک کامیاب ٹریڈر صرف منافع کے امکانات نہیں دیکھتا۔ بلکہ نقصان کی حد بھی پہلے سے طے کرتا ہے۔
امریکہ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی IAEA کے آئندہ اجلاس میں ایران کے معاملے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل تک بھیجنے والی قرارداد کی حمایت کر رہے ہیں۔ رائٹرز کی جانب سے دیکھے گئے مجوزہ متن کے مطابق قرارداد IAEA کے ڈائریکٹر جنرل سے موجودہ اور سابقہ قراردادیں سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کو منتقل کرنے کا مطالبہ کرے گی۔ مجوزہ قرارداد ابھی باضابطہ طور پر جمع نہیں ہوئی، اس لیے ایران کو سلامتی کونسل رپورٹ کیا جانا ابھی منظور شدہ فیصلہ نہیں۔ IAEA کے مطابق ایران نے بمباری سے متاثرہ تنصیبات تک مکمل رسائی بحال نہیں کی اور ایجنسی افزودہ یورینیم کے ذخائر کی موجودہ مقدار کی تصدیق نہیں کر پا رہی۔ اگر قرارداد منظور ہوتی ہے تو یہ تقریباً 20 سال بعد ایران کے جوہری معاملے کو IAEA بورڈ سے سلامتی کونسل تک لے جانے کی ایک بڑی سفارتی کشیدگی ہوگی۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں