آج 18 اگست 2026 کو پاکستانی مارکیٹ میں 24 قیراط سونے کی قیمت 453,700 روپے فی تولہ پر برقرار رہی جبکہ عالمی مارکیٹ میں XAU/USD $4,393.80 پر مستحکم ہے۔ DXY 99.67 پر ٹریڈ کر رہا ہے، جو سونے کے لیے ممکنہ طور پر منفی رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔
"what will be impacts of us monetary policy on global markets" کے لیے 570 نتائج۔
آج 18 اگست 2026 کو پاکستانی مارکیٹ میں 24 قیراط سونے کی قیمت 453,700 روپے فی تولہ پر برقرار رہی جبکہ عالمی مارکیٹ میں XAU/USD $4,393.80 پر مستحکم ہے۔ DXY 99.67 پر ٹریڈ کر رہا ہے، جو سونے کے لیے ممکنہ طور پر منفی رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔
آج انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں معمولی بہتری دیکھی گئی، جبکہ عالمی سطح پر DXY انڈیکس میں گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔
آج 16 اگست 2026 کو کرپٹو مارکیٹ میں Bitcoin اور Ethereum دونوں میں معمولی اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔ پاکستانی P2P مارکیٹ میں USDT/PKR کی قیمت 277.57 روپے پر مستحکم رہی۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا KSE-100 انڈیکس 174,600 کی اہم سپورٹ سطح سے اوپر برقرار رہنے میں کامیاب رہا، جس نے پچھلی بیئرش تھیسس کو غلط ثابت کر دیا ہے۔ یہ مارکیٹ میں استحکام کی کوششوں کی نشاندہی کرتا ہے، تاہم، پائیدار رجحان کے لیے وسیع تر شرکت کی ضرورت ہے۔
امریکہ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی IAEA کے آئندہ اجلاس میں ایران کے معاملے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل تک بھیجنے والی قرارداد کی حمایت کر رہے ہیں۔ رائٹرز کی جانب سے دیکھے گئے مجوزہ متن کے مطابق قرارداد IAEA کے ڈائریکٹر جنرل سے موجودہ اور سابقہ قراردادیں سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کو منتقل کرنے کا مطالبہ کرے گی۔ مجوزہ قرارداد ابھی باضابطہ طور پر جمع نہیں ہوئی، اس لیے ایران کو سلامتی کونسل رپورٹ کیا جانا ابھی منظور شدہ فیصلہ نہیں۔ IAEA کے مطابق ایران نے بمباری سے متاثرہ تنصیبات تک مکمل رسائی بحال نہیں کی اور ایجنسی افزودہ یورینیم کے ذخائر کی موجودہ مقدار کی تصدیق نہیں کر پا رہی۔ اگر قرارداد منظور ہوتی ہے تو یہ تقریباً 20 سال بعد ایران کے جوہری معاملے کو IAEA بورڈ سے سلامتی کونسل تک لے جانے کی ایک بڑی سفارتی کشیدگی ہوگی۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا KSE-100 انڈیکس 177,000 کی اہم سطح سے نیچے بریک ڈاؤن کے بعد ایک رینج باؤنڈ کنسولیڈیشن میں داخل ہو گیا ہے۔ مارکیٹ میں فروخت کا دباؤ کم ہوا ہے اور خریداروں کی محتاط واپسی ہوئی ہے، جس سے استحکام کی ابتدائی علامات نظر آ رہی ہیں، حالانکہ وسیع البنیاد بحالی کا ابھی بھی فقدان ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں KSE-100 انڈیکس نے آج بھی ایک تنگ رینج میں اتار چڑھاؤ دکھایا، جہاں انڈیکس نے معمولی مثبت بندش دی لیکن مارکیٹ کی مجموعی وسعت (breadth) اور ٹرن اوور میں کمی نے سرمایہ کاروں کے محتاط رویے کی نشاندہی کی، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مارکیٹ اب بھی ایک واضح رجحان کی تلاش میں ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) کا بینچ مارک KSE-100 انڈیکس 177,167 پوائنٹس پر برقرار رہا، جہاں مارکیٹ میں آج کوئی خاص تبدیلی نہیں دیکھی گئی۔ سرمایہ کار آئندہ معاشی اعلانات اور کارپوریٹ نتائج کا انتظار کر رہے ہیں۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج KSE-100 انڈیکس 0.48% اضافے کے ساتھ 177,434 پوائنٹس پر بند ہوا، دن بھر کی ٹریڈنگ میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔
آج پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں KSE-100 انڈیکس معمولی گراوٹ کے ساتھ 176,592 پوائنٹس پر بند ہوا، دن بھر مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کا راج رہا۔
اگر انفرادی اسٹاک منتخب کرنا مشکل لگے تو میوچل فنڈز مکمل حل ہیں — ماہر مینیجرز، خودکار تنوع، اور کم رقم سے شروع۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں