امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف حالیہ بیان اور ایرانی قیادت کے سخت ردعمل نے سرمایہ کاروں کو ایک بار پھر محتاط کر دیا ہے۔
"news commodities" کے لیے 680 نتائج۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف حالیہ بیان اور ایرانی قیادت کے سخت ردعمل نے سرمایہ کاروں کو ایک بار پھر محتاط کر دیا ہے۔
کرپٹو مارکیٹ میں Bitcoin اور Ethereum نے معمولی ریکوری کی کوشش کی لیکن اہم مزاحمتی سطحوں کو توڑنے میں ناکام رہے، جس کے بعد اب ایک معمولی گراوٹ دیکھی جا رہی ہے۔ میکرو اکنامک دباؤ اور ڈیریویٹوز مارکیٹ میں محتاط پوزیشننگ رینج باؤنڈ کنسولیڈیشن کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج KSE-100 انڈیکس نے 177,000 کی اہم نفسیاتی اور تکنیکی سطح سے نیچے ایک فیصلہ کن بریک ڈاؤن دکھایا۔ مارکیٹ کی وسعت میں کمی اور بڑھتے ہوئے ٹرن اوور نے اس گراوٹ کی تصدیق کی، جو سرمایہ کاروں کے محتاط رویے اور ایک نئے منفی رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔
پاکستانی روپے (PKR) نے امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں اپنی قدر میں مزید کمی کی ہے، انٹربینک مارکیٹ میں 277.87 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ درآمدی ادائیگیوں کا دباؤ اور عالمی سطح پر ڈالر کی مضبوطی اس گراوٹ کی اہم وجوہات ہیں۔
تبدیلی صرف چین کی مانیٹری پالیسی کا ایک اشارہ نہیں بلکہ US Dollar اور Chinese Yuan کے درمیان طاقت کے توازن، چینی برآمدات اور عالمی کرنسی مارکیٹ کے لیے بھی اہم پیغام رکھتی ہے
آج کرپٹو مارکیٹ میں Bitcoin اور Ethereum نے معمولی ریکوری کی کوشش کی، لیکن وسیع تر میکرو اکنامک دباؤ اور ڈیریویٹوز مارکیٹ میں محتاط پوزیشننگ کے باعث اہم مزاحمتی سطحوں کو توڑنے میں ناکام رہے۔ Bitcoin $78,000 کی سطح سے نیچے مستحکم ہے، جو موجودہ رینج باؤنڈ رجحان کی تصدیق کرتا ہے۔
آج KSE-100 انڈیکس نے 177,000 کی نفسیاتی سطح سے نیچے بندش دی، جو مارکیٹ میں محتاط رویے اور ایک واضح رجحان کی عدم موجودگی کی نشاندہی کرتا ہے۔ کمزور مارکیٹ وسعت اور ٹرن اوور میں کمی نے اس منفی جھکاؤ کو مزید تقویت بخشی۔
پاکستانی روپے (PKR) انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں اپنی قدر میں کمی جاری رکھے ہوئے ہے، جو 277.70 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ درآمدی ادائیگیوں کا دباؤ اور عالمی سطح پر ڈالر کی مضبوطی روپے کی کمزوری کی بنیادی وجوہات ہیں۔
آج صبح کرپٹو مارکیٹ میں ایک معمولی ریکوری دیکھنے میں آئی، جہاں Bitcoin نے $78,454 پر استحکام حاصل کیا، جبکہ Ethereum میں معمولی گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔ یہ حرکت وسیع تر میکرو اکنامک دباؤ کے باوجود رینج باؤنڈ کنسولیڈیشن کے تسلسل میں ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں آج KSE-100 انڈیکس نے 1.05 فیصد کی نمایاں گراوٹ کے ساتھ 176,976 پوائنٹس پر بندش دی، جو 177,000 کی نفسیاتی سطح سے نیچے ہے۔ مارکیٹ کی وسعت اور ٹرن اوور میں کمی نے سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے محتاط رویے اور ایک واضح رجحان کی عدم موجودگی کو نمایاں کیا ہے۔
آج نئے کاروباری ہفتے کے پہلے روز ایران کے لارک جزیرے پر امریکی حملے کے بعد PSX میں شدید مندی دیکھنے میں آئی ہے۔
WTI Crude Oil Prices اس وقت توجہ کا مرکز بن گئیں جب ایران کی جانب سے امریکی حملوں کے جواب میں میزائل داغے گئے۔ اس کشیدگی نے سرمایہ کاروں کو چوکنا کر دیا ہے، کیونکہ دنیا کے ایک اہم ترین تجارتی راستے یعنی آبنائے ہرمز (Strait Of Hormuz) پر خطرات کے بادل منڈلا رہے ہیں۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں