تلاش
"euro pound and franc continue positive trend while us dollar stayed in bearish mood" کے لیے 600 نتائج۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج KSE-100 انڈیکس 0.48% اضافے کے ساتھ 177,434 پوائنٹس پر بند ہوا، دن بھر کی ٹریڈنگ میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔
آج پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں KSE-100 انڈیکس معمولی گراوٹ کے ساتھ 176,592 پوائنٹس پر بند ہوا، دن بھر مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کا راج رہا۔
سونے کی قیمت 4,500 ڈالر کے قریب مضبوط ہے۔ کمزور امریکی ڈالر اور ٹریژری ییلڈز میں کمی نے سونے کو سہارا دیا ہے۔ 4,525 ڈالر اہم مزاحمت ہے، جبکہ 4,447 ڈالر اہم سپورٹ ہے۔ اس کے اوپر رہنے کی صورت میں سونا 4,595 ڈالر کی طرف بڑھ سکتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ( نے ایران کے خلاف ایک انتہائی سخت، غیر معمولی اور تباہ کن معاشی کارروائی شروع کرنے کا باضابطہ اعلان کیا ہے
زیورات، سکے، ETF، یا ڈیجیٹل گولڈ — ہر طریقے کے فائدے اور نقصانات، اور پاکستان میں کون سا آپ کے لیے بہتر ہے۔
اگر انفرادی اسٹاک منتخب کرنا مشکل لگے تو میوچل فنڈز مکمل حل ہیں — ماہر مینیجرز، خودکار تنوع، اور کم رقم سے شروع۔
PSX پر پہلا اسٹاک خریدنے کے لیے مکمل مرحلہ وار گائیڈ — CDC اکاؤنٹ، بروکر کا انتخاب، اور پہلا ٹریڈ۔
پاکستان کی معیشت کو آسان اردو میں سمجھنے کے لیے مکمل learning hub — مہنگائی، شرحِ سود، روپیہ، IMF، بجٹ، GDP اور روزمرہ زندگی پر اثرات۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں KSE-100 انڈیکس 180,502 پوائنٹس پر بند ہوا، معمولی تبدیلی کے ساتھ۔ سرمایہ کار آئندہ حکومتی پالیسیوں اور معاشی اشاروں کا انتظار کر رہے ہیں۔
آج 17 اگست 2026 کو سونے کی قیمتیں مقامی اور عالمی منڈیوں میں مستحکم رہیں، پاکستانی مارکیٹ میں 24 قیراط سونا 453,700 روپے فی تولہ پر برقرار ہے جبکہ عالمی سطح پر XAU/USD $4,392.20 پر ٹریڈ ہو رہا ہے۔
امریکہ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی IAEA کے آئندہ اجلاس میں ایران کے معاملے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل تک بھیجنے والی قرارداد کی حمایت کر رہے ہیں۔ رائٹرز کی جانب سے دیکھے گئے مجوزہ متن کے مطابق قرارداد IAEA کے ڈائریکٹر جنرل سے موجودہ اور سابقہ قراردادیں سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کو منتقل کرنے کا مطالبہ کرے گی۔ مجوزہ قرارداد ابھی باضابطہ طور پر جمع نہیں ہوئی، اس لیے ایران کو سلامتی کونسل رپورٹ کیا جانا ابھی منظور شدہ فیصلہ نہیں۔ IAEA کے مطابق ایران نے بمباری سے متاثرہ تنصیبات تک مکمل رسائی بحال نہیں کی اور ایجنسی افزودہ یورینیم کے ذخائر کی موجودہ مقدار کی تصدیق نہیں کر پا رہی۔ اگر قرارداد منظور ہوتی ہے تو یہ تقریباً 20 سال بعد ایران کے جوہری معاملے کو IAEA بورڈ سے سلامتی کونسل تک لے جانے کی ایک بڑی سفارتی کشیدگی ہوگی۔