ریزرو بینک آف آسٹریلیا نے شرح سود میں 0.25 فیصد اضافے کا اعلان کرتے ہوئے اسے 15 سال کی بلند ترین سطح یعنی 4.6 فیصد پر پہنچا دیا۔ اس سے قبل شرح سود 4.35 فیصد پر تھی
"us china dialogue both parties agreed to continue the negotiations" کے لیے 1112 نتائج۔
ریزرو بینک آف آسٹریلیا نے شرح سود میں 0.25 فیصد اضافے کا اعلان کرتے ہوئے اسے 15 سال کی بلند ترین سطح یعنی 4.6 فیصد پر پہنچا دیا۔ اس سے قبل شرح سود 4.35 فیصد پر تھی
فی الوقت، AUDUSD جوڑا 0.7016 کے قریب ٹریڈ کر رہا ہے، جب کہ سرمایہ کاروں کی تمام تر توجہ ریزرو بینک آف آسٹریلیا کے آنے والے مانیٹری پالیسی (Monetary policy) کے فیصلے پر مرکوز ہے۔
یورپی سینٹرل بینک کی صدر کرسٹین لیگارڈ نے حال ہی میں ایک اہم بیان میں واضح کیا ہے کہ زون کی معیشت کا پھیلاؤ مختلف شعبوں اور ملکوں میں جاری ہے، تاہم ECB کیلئے افراط زر میں عالمی حالات کی وجہ سے اضافے کے تحت حالات اب زیادہ چیلنجنگ ہوتے جا رہے ہیں۔
آج پاکستان کی صرافہ مارکیٹ میں فی تولہ سونے کی قیمت (Per Tola Gold Price in Pakistan) میں ایک بڑی گراوٹ دیکھی گئی ہے، جس نے سرمایہ کاروں کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔
ان دنوں گلوبل مارکیٹ میں USDCAD میں تیزی کا موضوع انتہائی زیرِ بحث ہے، جہاں کینیڈین ڈالر (CAD) کو امریکی ڈالر کے مقابلے میں شدید دباؤ کا سامنا ہے۔
کرپٹو کرنسی (cryptocurrency) کی تاریخ میں ایک اہم موڑ اس وقت آیا جب U.S. spot Solana Exchange Traded Funds (Solana ETF) نے ایک ہفتے کے دوران ریکارڈ $188 ملین (188 ملین ڈالر) کی سرمایہ کاری حاصل کی
اٹک ریفائنری لمیٹڈ نے حال ہی میں اپنی سالانہ رپورٹ میں ایک نہایت اہم منصوبے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت ملک میں ایک نیا 50,000 بیرل یومیہ کا جدید ڈیپ کنورژن پلانٹ قائم کرنے کا ارادہ ظاہر کیا گیا ہے
امریکی فیڈرل ریزرو کی سخت پالیسی اور 10 سالہ ییلڈ کی 5.184 فیصد کی بلند سطح نے عالمی منڈیوں میں ری پرائسنگ کے عمل کو جاری رکھا ہوا ہے۔ افراط زر کے 3.35 فیصد پر قائم رہنے سے ابھرتی ہوئی معیشتوں پر شدید دباؤ ہے۔
STOXX 600 ابتدائی یورپی تجارت میں 0.3 فیصد بڑھ کر 640.43 پوائنٹس پر پہنچا، لیکن شعبوں کی کارکردگی میں نمایاں فرق رہا۔ برطانیہ نے پہلی مرتبہ گھر خریدنے والوں کے لیے نئے ایکویٹی قرض پروگرام کا اعلان کیا ہے؛ مزید تفصیلات آئندہ ماہ کے بجٹ میں آنی ہیں۔ برطانوی ہاؤسنگ کمپنیوں کا اشاریہ تقریباً 16 فیصد بڑھا، بڑی کمپنیوں کے حصص میں 6 سے 23 فیصد تیزی آئی اور FTSE 250 تقریباً 1 فیصد اوپر رہا۔ برینٹ خام تیل میں 3 فیصد سے زیادہ اضافے کے ساتھ توانائی کے حصص بڑھے، جبکہ مضبوط ڈالر اور دھاتوں کی کمزوری سے کان کنی کا شعبہ دباؤ میں رہا۔ تیزی کے تسلسل کے لیے خریداری کا دوسرے شعبوں تک پھیلنا اہم ہوگا؛ تیل، بانڈ منافع اور ECB و BoE حکام کے بیانات اگلے نمایاں عوامل ہیں۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کے آغاز پر ہی فروخت کا دباؤ دیکھا گیا، جس کے نتیجے میں بینچ مارک KSE100 انڈیکس میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔ معاشی اور سیاسی غیر یقینی صورتحال کے سائے میں سرمایہ کاروں کا رسک لینے کا رجحان محدود نظر آتا ہے
ایتھیریم کی قیمت 2.04 فیصد کمی کے بعد $2,651 پر ٹریڈ ہو رہی ہے، جس کے باعث پچھلی بلش کنسولیڈیشن کمزور ہو گئی ہے۔ مارکیٹ اب $2,639 تا $2,696 کی حد میں نئی ساختی سمت تلاش کر رہی ہے۔
بٹ کوائن تقریباً 82,914 ڈالر پر ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کی نچلی قیمت 82,778 ڈالر رہی، اس لیے پہلے زیرِ بحث 82,819 ڈالر کی حد اب برقرار نہیں رہی۔ 83,000 ڈالر کی واپسی ابتدائی بہتری ہوگی، لیکن خریداروں کو 84,000 ڈالر کے علاقے تک پیش قدمی اور اس کے بعد خریداری کا تسلسل بھی دکھانا ہوگا۔ 24 گھنٹوں کی بلند ترین قیمت تقریباً 85,089 ڈالر ہے۔ صرف 85,000 عبور کرنے کے بجائے اس پورے علاقے کے اوپر قیام بحالی کو زیادہ وزن دے گا۔ حالیہ نچلی قیمت کے قریب اچھال بذات خود آزمودہ سپورٹ یا کامیاب ری ٹیسٹ نہیں۔ دوبارہ کمی پر خریداروں کا ردعمل اور بالائی سطحوں کی بازیابی اہم ہوگی۔ 78,000 ڈالر کو اس محدود جائزے کا فوری ہدف یا مثبت منظرنامہ غلط ثابت ہونے کی سطح نہیں بنایا جاسکتا؛ اس کے لیے وسیع تر چارٹ کا الگ تجزیہ ضروری ہے۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں