جنگ صرف میدانِ جنگ کو نہیں ہلاتی بلکہ اس کے اثرات دنیا کی معیشت، تیل کی قیمتوں اور فنانشل مارکیٹس تک پہنچتے ہیں۔ US Iran War نے بھی عالمی سرمایہ کاروں کے سامنے ایک بڑا سوال کھڑا کر دیا ہے
"usdjpy rebound analysis us cpi inflation impact" کے لیے 1052 نتائج۔
جنگ صرف میدانِ جنگ کو نہیں ہلاتی بلکہ اس کے اثرات دنیا کی معیشت، تیل کی قیمتوں اور فنانشل مارکیٹس تک پہنچتے ہیں۔ US Iran War نے بھی عالمی سرمایہ کاروں کے سامنے ایک بڑا سوال کھڑا کر دیا ہے
ریزرو بینک آف نیوزی لینڈ نے اپنیMonetary Policy میٹنگ کے بعد شرح سود میں 25 بنیادی پوائنتس کا اضافہ کرتے ہوئے اسے 2.50 فیصد سے بڑھا کر 2.75 فیصد کر دیا ہے
پاکستان اسٹاک ایکسچینج PSX میں منگل کے روز تجارتی سیشن کے آغاز پر ہی نمایاں خریداری دیکھی گئی، جس کے نتیجے میں بینچ مار KSE100 انڈیکس میں 400 پوائنٹس سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
پاکستانی روپے (PKR) انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں اپنی قدر میں کمی جاری رکھے ہوئے ہے، جو 277.70 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ درآمدی ادائیگیوں کا دباؤ اور عالمی سطح پر ڈالر کی مضبوطی روپے کی کمزوری کی بنیادی وجوہات ہیں۔
اگست میں COMEX Gold میں تقریباً 9.4 فیصد اضافہ ہوا جو بلاشبہ عمدہ ماہانہ کارکردگی ہے، لیکن آخری سیشن میں spot price دباؤ کا شکار رہی۔ September Fed rate hike کی market-implied probability تقریباً 64 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ 10-year Treasury yield بڑھ کر 4.764 فیصد پر ریکارڈ ہوئی۔ مشرق وسطیٰ میں U.S.-Iran کشیدگی اور Brent crude کے $90 سے اوپر جانے کے باوجود سونے کی قیمتوں کا نہ بڑھنا واضح کرتا ہے کہ فی الوقت rates concerns نے safe-haven demand کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ ستمبر کے دوران سونے (Gold) کی اگلی سمت کا فیصلہ محض geopolitical headlines پر نہیں بلکہ U.S. payrolls، inflation data، Treasury yields اور Fed expectations کا باہمی تعلق پر منحضر ہو گا۔
آج نئے کاروباری ہفتے کے پہلے روز ایران کے لارک جزیرے پر امریکی حملے کے بعد PSX میں شدید مندی دیکھنے میں آئی ہے۔
WTI Crude Oil Prices اس وقت توجہ کا مرکز بن گئیں جب ایران کی جانب سے امریکی حملوں کے جواب میں میزائل داغے گئے۔ اس کشیدگی نے سرمایہ کاروں کو چوکنا کر دیا ہے، کیونکہ دنیا کے ایک اہم ترین تجارتی راستے یعنی آبنائے ہرمز (Strait Of Hormuz) پر خطرات کے بادل منڈلا رہے ہیں۔
30 اگست کے رپورٹنگ ٹایم پر Bitcoin تقریباً $78,142 پر تھا، اگر ایک ہفتہ پہلے کے مقابلے میں موازنہ کریں تو یہ تقریباً ڈھائی فیصد اوپر بنتا ہے۔ U.S. spot-Bitcoin ETFs میں ہفتے کے دوران تقریباً $924.5 million کے net inflows آئے، جبکہ جمعہ کے روز $201.9 million کا outflow ریکارڈ ہوا۔ Ethereum ETFs کے پانچوں sessions مثبت رہے اور weekly net inflows تقریباً $815.7 million تھے، مگر اسی دوران ETH/BTC میں تقریباً 1.1 فیصد کی کمی ہوئی۔ Bitcoin dominance اس ہفتہ 59.37 فیصد سے 59.48 فیصد تک معمولی بڑھی، جس سے اشارہ ملتا ہے کہ market کی لیڈ اب بھی Bitcoin کے پاس ہے۔ Stablecoin capitalization تقریباً $304.6 billion رہی اور ہفتہ وار اضافہ صرف 0.48 فیصد تھا، Liquidity مددگار ہے، مگر مارکیٹ میں اس سے معتلق کوئی غیر معمولی سرگرمی نظر نہیں آ رہی۔ جمعہ کے دن hawkish Fed repricing کی وجہ سے yields، dollar اور crypto دباؤ کا شکار رھے، اب اگلے ہفتے کا labor data اس outlook کا اہم macro امتحان ہوگا۔
عالمی سونے کی قیمت (XAU/USD) $4,454.99 پر اپنی 'bearish trend continuation' کو برقرار رکھے ہوئے ہے، جو $4,584 کی سابقہ سپورٹ سطح کے نیچے ایک مستحکم 'daily close' کے بعد مزید مضبوط ہوئی ہے۔ $4,590 کی سطح اب ایک اہم مزاحمت کے طور پر کام کر رہی ہے، جبکہ DXY کی مضبوطی سونے پر دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہے۔
پاکستانی روپے (PKR) آج انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں مزید گراوٹ کا شکار ہوا، جو کہ 277.86 پر بند ہوا۔ درآمدی ادائیگیوں کا دباؤ اور عالمی سطح پر ڈالر کی مضبوطی اس رجحان کی بنیادی وجوہات ہیں۔
امریکہ کی جانب سے وینزویلا کے تیل کے شعبے میں بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور سرمایہ کاری سے متعلق پیش رفت نے عالمی Energy Market میں نئی بحث کو جنم دیا ہے۔
پاکستانی روپے (PKR) آج انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں مزید کمزور ہو کر 277.91 پر بند ہوا۔ درآمدی ادائیگیوں کا مسلسل دباؤ اور مقامی مارکیٹ میں ڈالر کی طلب میں اضافہ اس گراوٹ کی بنیادی وجوہات ہیں۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں