اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس 11.10 فیصد افراطِ زر اور 11.50 فیصد پالیسی ریٹ کی موجودگی کے باعث 40 بیسس پوائنٹس کی مثبت حقیقی شرحِ سود موجود ہے، جس سے آئندہ مانیٹری پالیسی میٹنگ میں شرحِ سود میں 50 تا 100 بیسس پوائنٹس کمی کا راستہ صاف نظر آتا ہے۔
"us default is out of the table says biden" کے لیے 1172 نتائج۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس 11.10 فیصد افراطِ زر اور 11.50 فیصد پالیسی ریٹ کی موجودگی کے باعث 40 بیسس پوائنٹس کی مثبت حقیقی شرحِ سود موجود ہے، جس سے آئندہ مانیٹری پالیسی میٹنگ میں شرحِ سود میں 50 تا 100 بیسس پوائنٹس کمی کا راستہ صاف نظر آتا ہے۔
آسٹریلین ڈالر نے امریکی لیبر مارکیٹ کے کمزور اعداد و شمار کے بعد ایشیائی سیشن کے آغاز میں مثبت رجحان دکھاتے ہوئے 0.6950 کی سطح کو عبور کر لیا ہے۔ اس وقت مارکیٹ کے شرکاء اس بات کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں کہ کس طرح امریکہ اور آسٹریلیا کے معاشی اشاریے AUDUSD کو متاثر کر رہے ہیں۔
وال اسٹریٹ پر اینویڈیا کی $1,090 کی سطح عبور کرنے اور ٹیسلا کے 4.65 فیصد اضافے نے 'میگنیفشینٹ 7' کی بلش پیش قدمی کو نئی طاقت دی ہے، جبکہ بینکنگ سیکٹر میں معمولی دباؤ قائم ہے۔
امریکی 10 سالہ ٹریژری ییلڈ 5.277 فیصد تک بڑھنے اور 2 سالہ ییلڈ گرنے سے 2s10s اسپریڈ 85.5 بیسس پوائنٹس تک پہنچ گیا ہے۔ بڑھتا ہوا ٹرم پریمیم عالمی قرض منڈیوں میں دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہے۔
امریکی افراط زر کی 3.35 فیصد سطح اور 10 سالہ ٹریژری ییلڈ کے 5.277 فیصد پر استحکام نے فیڈرل ریزرو کی سخت پالیسی طویل تر رکھنے کی توثیق کر دی ہے، جس سے ڈالر انڈیکس 101.92 پر کھڑا ہو کر عالمی اثاثوں کو متاثر کر رہا ہے۔
پاکستان بیورو آف شماریات کے مطابق ہیڈلائن افراط زر 11.10 فیصد پر آنے کے بعد اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے 11.50 فیصد پالیسی ریٹ کے باعث مثبت حقیقی شرح سود بحال ہو چکی ہے، جس سے آئندہ مانیٹری پالیسی اجلاس میں مزید ریٹ کٹ کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔
ڈالر انڈیکس (DXY) کی 101.92 پر پیش قدمی کے نتیجے میں عالمی سونا $4,140.52 کی سطح پر آ گیا ہے۔ پاکستان میں 24 قیراط سونا 441,000 روپے فی تولہ پر برقرار ہے جبکہ تکنیکی ڈھانچہ بئریش دباؤ کی نشان دہی کر رہا ہے۔
انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر 276.82 روپے پر ٹریڈ ہو رہا ہے جبکہ مثبت حقیقی شرح سود روپے کو بنیادی سہارا فراہم کر رہی ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی آنے والی مانیٹری پالیسی میٹنگ میں 11.10 فیصد کی سی پی آئی مہنگائی اور 11.50 فیصد پالیسی ریٹ کے تناظر میں 50 سے 100 بیسس پوائنٹس کی کٹوتی کا قوی امکان ہے۔
پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس (PBS) کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، ستمبر 2026 میں پاکستان کا تجارتی خسارہ (Trade Deficit) 6 فیصد اضافے کے ساتھ 3.56 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔
بین الاقوامی سطح پر بڑھتی ہوئی کشیدگی اور مشرق وسطیٰ میں فوجی اضافے کی اطلاعات کے بعد، پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں ایک انتہائی اتار چڑھاؤ والا کاروباری ہفتہ دیکھنے میں آیا
ڈالر انڈیکس کی 101.94 کی سطح پر مضبوطی نے عالمی رسک‑آن لہر کو کمزور کر کے مارکیٹ کو خطرہ‑آف رجیم کی طرف موڑ دیا، حالانکہ امریکی CPI 3.35% پر مستحکم رہنے سے ڈس انفلیشن کی امید برقرار ہے۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں