بینک آف جاپان کے ڈپٹی گورنر شینیچی اوچیڈا نے ایک اہم بیان میں انکشاف کیا ہے کہ BOJ AI Monetary Policy کے فیصلوں میں اب ایک مرکزی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔
"us dollar index uprise near 105 level" کے لیے 990 نتائج۔
بینک آف جاپان کے ڈپٹی گورنر شینیچی اوچیڈا نے ایک اہم بیان میں انکشاف کیا ہے کہ BOJ AI Monetary Policy کے فیصلوں میں اب ایک مرکزی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں KSE-100 انڈیکس 168,155 پر گراوٹ کے ساتھ بند ہوا، جبکہ کارپوریٹ نتائج کے سیزن سے قبل انسٹی ٹیوشنل فنڈز کا توجہ بینکنگ، ای اینڈ پی اور فرٹیلائزر سیکٹرز پر مرکوز ہے۔
وال اسٹریٹ پر اینویڈیا کی $1,090 کی سطح عبور کرنے اور ٹیسلا کے 4.65 فیصد اضافے نے 'میگنیفشینٹ 7' کی بلش پیش قدمی کو نئی طاقت دی ہے، جبکہ بینکنگ سیکٹر میں معمولی دباؤ قائم ہے۔
امریکی 10 سالہ ٹریژری ییلڈ 5.277 فیصد تک بڑھنے اور 2 سالہ ییلڈ گرنے سے 2s10s اسپریڈ 85.5 بیسس پوائنٹس تک پہنچ گیا ہے۔ بڑھتا ہوا ٹرم پریمیم عالمی قرض منڈیوں میں دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہے۔
امریکی افراط زر کی 3.35 فیصد سطح اور 10 سالہ ٹریژری ییلڈ کے 5.277 فیصد پر استحکام نے فیڈرل ریزرو کی سخت پالیسی طویل تر رکھنے کی توثیق کر دی ہے، جس سے ڈالر انڈیکس 101.92 پر کھڑا ہو کر عالمی اثاثوں کو متاثر کر رہا ہے۔
پاکستان بیورو آف شماریات کے مطابق ہیڈلائن افراط زر 11.10 فیصد پر آنے کے بعد اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے 11.50 فیصد پالیسی ریٹ کے باعث مثبت حقیقی شرح سود بحال ہو چکی ہے، جس سے آئندہ مانیٹری پالیسی اجلاس میں مزید ریٹ کٹ کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔
بین الاقوامی منڈی میں برینٹ خام تیل 102.25 ڈالر پر مستحکم ہو گیا ہے جس نے پچھلی بئریش تھیسس کو منسوخ کر دیا ہے، جبکہ ڈبلیو ٹی آئی کے 91.11 ڈالر تک گرنے سے بینچ مارک سپریڈ 11.14 ڈالر تک پھیل گیا۔
انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر 276.82 روپے پر ٹریڈ ہو رہا ہے جبکہ مثبت حقیقی شرح سود روپے کو بنیادی سہارا فراہم کر رہی ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں KSE-100 انڈیکس 168,155 کی سطح پر 0.40 فیصد کی کمی کے ساتھ ٹریڈ کر رہا ہے۔ نتائج کے سیزن کے قریب بینکنگ، ای اینڈ پی، سیمنٹ اور دیگر 6 اہم سیکٹرز کا جامع بنیادی اور تکنیکی تجزیہ۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی آنے والی مانیٹری پالیسی میٹنگ میں 11.10 فیصد کی سی پی آئی مہنگائی اور 11.50 فیصد پالیسی ریٹ کے تناظر میں 50 سے 100 بیسس پوائنٹس کی کٹوتی کا قوی امکان ہے۔
پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس (PBS) کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، ستمبر 2026 میں پاکستان کا تجارتی خسارہ (Trade Deficit) 6 فیصد اضافے کے ساتھ 3.56 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔
بین الاقوامی سطح پر بڑھتی ہوئی کشیدگی اور مشرق وسطیٰ میں فوجی اضافے کی اطلاعات کے بعد، پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں ایک انتہائی اتار چڑھاؤ والا کاروباری ہفتہ دیکھنے میں آیا
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں