حال ہی میں پاکستان نے ایک تاریخی سنگ میل عبور کیا ہے جب اسے اس کے 1.75 ارب چینی یوان یا تقریباً 258 ملین امریکی ڈالر کے پائیدار پانڈا بانڈ پر بین الاقوامی اعزاز سے نوازا گیا
"what is us gdp report and how it can effect the markets" کے لیے 1169 نتائج۔
حال ہی میں پاکستان نے ایک تاریخی سنگ میل عبور کیا ہے جب اسے اس کے 1.75 ارب چینی یوان یا تقریباً 258 ملین امریکی ڈالر کے پائیدار پانڈا بانڈ پر بین الاقوامی اعزاز سے نوازا گیا
فنانشل مارکیٹس اور کرپٹو انڈسٹری کی تاریخ میں کچھ لمحات ایسے آتے ہیں جو طویل مدتی سمت کا تعین کرتے ہیں۔ Clarity Act کی امریکی سینیٹ میں ناکامی ایسا ہی ایک اہم موڑ ہے، جس نے سرمایہ کاروں اور پالیسی سازوں کو ہلا کر رکھ دیا۔
پاکستانی روپیہ (PKR) آج انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں مزید کمزور ہو کر 277.72 روپے پر بند ہوا، جو عالمی ڈالر کی مضبوطی اور مقامی مارکیٹ میں طلب کے دباؤ کی عکاسی کرتا ہے۔ پچھلے دن کی معمولی بہتری کا رجحان برقرار نہ رہ سکا، جس سے روپے پر قلیل مدتی دباؤ برقرار رہنے کا امکان ہے۔
عالمی سونے کی قیمت $4,328 کی نچلی سطح سے ریکوری کے بعد $4,349 پر مستحکم ہوئی ہے۔ امریکی ٹریژری ییلڈز اور ڈالر انڈیکس (DXY) میں استحکام نے سونے پر 'bearish pressure' کو عارضی طور پر کم کیا ہے، تاہم $4,370 کی اہم مزاحمت ابھی بھی برقرار ہے۔
154.60USD/JPY کے قریب ٹریڈ کر رہا ہے۔ زیادہ US Treasury yields اور بڑھتی ہوئی oil prices ڈالر کو support دے رہی ہیں، جبکہ BOJ کی مزید rate hike کی توقعات ین کو support فراہم کر رہی ہیں۔ Technical analysis میں 154.55 اور 154.66 اہم resistance levels ہیں، جبکہ 154.25 اور 153.97 اہم support levels ہیں۔ US CPI data اور BOJ کے آئندہ فیصلے pair کی اگلی direction کے لیے اہم رہیں گے۔
ڈیجیٹل اثاثہ جات کی مارکیٹ میں حالیہ دنوں ایک دلچسپ رجحان دیکھنے میں آیا ہے جہاں اسپاٹ بٹ کوائن ETFs سے مسلسل دوسرے روز سرمائے کا انخلا ریکارڈ کیا گیا
پاکستانی روپیہ انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں معمولی استحکام دکھا رہا ہے، جو 277.28 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ یہ صورتحال عالمی ڈالر کی مضبوطی اور مقامی درآمدی دباؤ کے درمیان ایک نازک توازن کی عکاسی کرتی ہے۔
Fabric Processing Unit کی بہتری اور جدید کاری پر تقریباً 1.789 ارب روپے خرچ کیے گئے ہیں۔ Spinning Division کی Balancing, Modernization and Replacement پالیسی کے تحت 515.50 ملین روپے لگائے گئے ہیں۔ دونوں حصوں کو ملا کر مجموعی سرمایہ کاری 2.3045 ارب روپے بنتی ہے۔ منصوبے میں Bleaching Range، Stenter، Biomass-fired Thermal Oil Heater اور spinning machinery کی تبدیلی شامل ہے۔ کمپنی نے Long Term Finance Facility (LTFF) کے تحت بینک financing حاصل کرنے کی اطلاع دی ہے۔ حقیقی مالی اثر execution، capacity utilization، financing cost اور textile demand پر منحصر ہوگا۔
امریکی ہنگامی خام تیل ذخیرہ (SPR) گزشتہ ہفتے تقریباً 12 لاکھ بیرل کم ہوکر 28 کروڑ 54 لاکھ بیرل رہ گیا؛ یہ نومبر 1982 کے بعد کم ترین سطح ہے۔ مارچ میں ذخیرہ تقریباً 41 کروڑ 50 لاکھ بیرل تھا؛ اس تقابلی مقدار سے موجودہ سطح تقریباً 12 کروڑ 96 لاکھ بیرل، یعنی 31 فیصد کم بنتی ہے۔ امریکہ نے 17 کروڑ 20 لاکھ بیرل جاری کرنے کا اعلان کیا تھا، جو عالمی سطح پر 40 کروڑ بیرل تیل اور تیار مصنوعات کی مربوط فراہمی کے منصوبے کا حصہ ہے۔ تبادلے کے تحت حاصل کیا گیا تیل کمپنیوں کو اضافی بیرل کے ساتھ واپس کرنا ہے؛ تاہم مستقبل کی واپسی موجودہ دستیاب ذخیرے میں شمار نہیں کی جاسکتی۔ Brent تقریباً 98 ڈالر کے آس پاس اور خلیجی رسد خطرات کی زد میں ہے؛ کم SPR فوری امریکی قلت ثابت نہیں کرتا، مگر نئے جھٹکے سے نمٹنے کی گنجائش محدود کرتا ہے۔ تجارتی ذخائر اور ملکی پیداوار اس سے الگ ہیں۔
ٹوکیو میں قائم کمپنی Metaplanet نے جب اپنی کارپوریٹ حکمت عملی کو تبدیل کر کے بٹ کوائن ٹریژری اسٹریٹجی (Bitcoin Treasury Strategy) اپنائی، تو اس نے عالمی سطح پر سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کر لی۔
نئی تاریخی بلند سطح: لندن میٹل ایکسچینج (LME) پر تانبا 14,533 ڈالر فی میٹرک ٹن کی نئی تاریخی بلند ترین سطح کو چھو گیا، جس نے جنوری کا ریکارڈ توڑ دیا۔ ذخائر کا جغرافیائی تضاد: امریکہ میں تانبے کے ذخائر ریکارڈ سطح پر پہنچ چکے ہیں، جبکہ چین (SHFE) اور لندن کے گوداموں میں فوری دستیاب دھات نایاب ہو رہی ہے۔ شنگھائی میں 85 فیصد کمی: چین میں شنگھائی فیوچرز ایکسچینج کے زیرِ نگرانی ذخائر مارچ کے وسط کی بلند سطح سے گر کر صرف 63,000 ٹن رہ گئے ہیں، جو جنوری 2024 کے بعد کم ترین سطح ہے۔ امریکی ٹیرف کا اثر: متوقع امریکی تجارتی محصولات اور قیمتوں کے فرق نے عالمی تانبے کے بہاؤ کا رخ زبردستی امریکی گوداموں کی طرف موڑ دیا ہے۔ فوری رسد کا خطرہ: اگر LME سے دھات کا اخراج جاری رہا اور چین میں سپلائی بحال نہ ہوئی، تو مجموعی عالمی پیداوار کے باوجود فزیکل مارکیٹ میں شدید تنگی برقرار رہے گی۔
بٹ کوائن 79,000 ڈالر کی حد کے قریب ٹریڈ کر رہا ہے جبکہ مارکیٹ میں کیپیٹل روٹیشن (capital rotation) جاری ہے۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں