یہ مضمون برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی کی قیمتوں کے بنیادی عوامل، عالمی ذخائر، OPEC+ کی پالیسی اور بحری فریٹ کی لاجسٹکس کو واضح کرتا ہے اور ان کا پاکستان کے پیٹرول کے ریٹ پر کیا اثر پڑتا ہے۔
"decline continues in pakistani rupees where as gold prices also reached on ever high level" کے لیے 1166 نتائج۔
یہ مضمون برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی کی قیمتوں کے بنیادی عوامل، عالمی ذخائر، OPEC+ کی پالیسی اور بحری فریٹ کی لاجسٹکس کو واضح کرتا ہے اور ان کا پاکستان کے پیٹرول کے ریٹ پر کیا اثر پڑتا ہے۔
چاندی کی قیمت آج کے سیشن میں امریکی ڈالر کی کمی اور صنعتی طلب کے دباؤ کے باعث مستحکم رہی۔ تاہم COMEX پر بڑھتی ہوئی بائیک پوزیشن اور گولڈ‑سِلور ریشیو کی اوور بائی‑سائڈ سطحیں آئندہ کے لیے خطرے کا اشارہ دیتی ہیں۔
EUR/USD 1.1350 کی اہم حمایتی سطح پر بائرز کے دوبارہ ابھرنے کے بعد 1.1380 کے قریب مستحکم ہو رہا ہے۔ DXY میں معمولی کمی نے یورو کو کچھ ریلیف فراہم کی ہے، لیکن 1.1450-1.1480 کی مضبوط مزاحمتی سطح کو توڑنے کے لیے ٹھوس بنیادی محرکات کی ضرورت ہوگی۔ مرکزی بینکوں کی پالیسی میں فرق اور اقتصادی اعداد و شمار آئندہ رجحان کا تعین کریں گے۔
EUR/USD 1.1380 کی سطح پر مستحکم ہو رہا ہے، جو 1.1350 کے اہم سپورٹ لیول سے بائرز کے دوبارہ ابھرنے کی نشاندہی کرتا ہے۔ تاہم، 1.1450-1.1480 کی مزاحمتی سطح کو توڑنے کے لیے ٹھوس بنیادی محرکات کی ضرورت ہوگی۔ امریکی ٹریژری ییلڈز میں اضافہ ڈالر کو سپورٹ فراہم کر رہا ہے، جبکہ DXY میں معمولی گراوٹ یورو کو کچھ ریلیف دے رہی ہے۔
ایلیٹ ویو تھیوری ایک طاقتور تکنیکی تجزیہ کا آلہ ہے جو رالف نیلسن ایلیٹ نے 1930 کی دہائی میں متعارف کروایا تھا۔ یہ تھیوری اس بنیادی اصول پر مبنی ہے کہ مالیاتی منڈیاں بے ترتیب حرکت نہیں کرتیں بلکہ انسانی نفسیات کے اجتماعی رجحانات کی عکاسی کرتی ہوئی قابلِ شناخت، بار بار دہرائی جانے والی لہروں (waves) میں آگے بڑھتی ہیں۔ یہ گائیڈ ایلیٹ ویو تھیوری کے بنیادی تصورات، اس کے اطلاق اور عام غلطیوں پر تفصیلی روشنی ڈالے گا۔
دنیا کی سب سے بڑی کریٹو کرنسی یعنی Bitcoin ایک محدود دائرے میں ٹریڈ کر رہا ہے، وہیں دوسری طرف عالمی مارکیٹس میں بانڈز کی فروخت میں کمی اور خام تیل (Crude Oil) کی قیمتوں میں نرمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، سرمایہ کاروں کی توجہ اب روایتی سرمائے سے ہٹ کر متبادل کرپٹوز (Altcoins) کی طرف منتقل ہو رہی ہے۔
ڈیجیٹل کرنسی مارکیٹ میں ایک اہم موڑ اس وقت آیا جب امریکی مرکزی بینک (US Federal Reserve) نے GENIUS Act stablecoin regulations کے نفاذ کے لیے باضابطہ قوانین کی تجاویز پیش کر دیں۔
Bitget کے مطابق 24 ستمبر کو بعض Hot اور Warm Wallets سے تقریباً 351.6 ملین ڈالر کے اثاثوں کی غیر مجاز منتقلی ہوئی؛ حتمی نقصان کا تعین تحقیقات اور بازیابی کے بعد ہوگا۔ ایکسچینج نے رقوم نکلوانا (Withdrawals) معطل رکھا ہے، جبکہ جمع کرانا اور تجارت جاری ہیں۔ بحالی کا حتمی وقت سامنے نہیں آیا اور صارفین کی رسائی اہم سوال ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ Cold Wallets محفوظ ہیں اور 464 ملین ڈالر سے زیادہ کا تحفظ فنڈ نقصان پورا کرسکتا ہے؛ یہ ادارے کا دعویٰ ہے، آزادانہ آڈٹ کا نتیجہ نہیں۔ 25 ستمبر کی دستیاب ریڈنگز میں BTC تقریباً 84,000 ڈالر اور ETH تقریباً 2,676 ڈالر پر تھا؛ محدود قیمت ردعمل کو پورے خطرے کے خاتمے کی تصدیق نہیں سمجھنا چاہیے۔ اب توجہ مکمل تحقیق، رقوم کی واپسی، متاثرہ پتوں اور اثاثوں کی بازیابی پر ہے۔ محض والیٹ منتقلی فروخت ثابت نہیں کرتی، نہ قیمت میں ہر کمی کو اس حملے سے جوڑا جاسکتا ہے۔
صنعتی ترقی اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ اور صنعتی ترقی کے لیے قائم کردہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسٹیول کونسل (SIFC) کی کوششیں رنگ لانے لگی ہیں۔ Hunan Resources SMC (Private) Limited نے سندھ کے علاقے ڈھابجی میں اپنی صنعتی تنصیب (industrial facility) کے آپریشنز باضابطہ طور پر دوبارہ شروع کر دیے ہیں۔
عالمی سرکاری بانڈ مارکیٹ میں امریکی ٹریژری کی قیادت میں 'اسٹیپننگ' کا رجحان مزید گہرا ہو گیا ہے۔ US 10Y ییلڈ 5.162% تک بڑھ گئی ہے جبکہ US 2Y ییلڈ میں کمی آئی ہے، جو مستقبل میں مضبوط معاشی نمو اور افراط زر کی توقعات میں اضافے کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ پیش رفت فیڈرل ریزرو کی مستقبل کی پالیسی کے بارے میں مارکیٹ کی توقعات کو بھی متاثر کر رہی ہے۔
عالمی مالیاتی منڈیاں ایک 'رسک-آن' ماحول میں مزید مستحکم ہو رہی ہیں، جس کی بنیادی وجہ امریکی افراط زر (US CPI) میں مسلسل کمی اور مرکزی بینکوں کی جانب سے شرح سود میں کمی کے بڑھتے ہوئے امکانات ہیں۔ ڈالر (DXY) پر دباؤ بڑھ رہا ہے جبکہ کیری ٹریڈز (carry trades) میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس سے عالمی ایکویٹی مارکیٹوں کو تقویت مل رہی ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج ( PSX) میں جمعہ کے روز کاروبار کے آغاز پر زبردست خریداری کا رجحان دیکھا گیا، جس کی بنیادی وجہ امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ جنگ بندی اور مصالحت کی خبریں تھیں۔ بینچ مارک KSE100 انڈیکس میں چار سو سے زائد پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں