یہ مضمون MetaTrader 4 (MT4) اور MetaTrader 5 (MT5) کا تفصیلی تعارف پیش کرتا ہے، ان کے فرق، خصوصیات اور فاریکس ٹریڈنگ کے لیے موزوں ترین پلیٹ فارم کے انتخاب کے بارے میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
تلاش
"positive rally continues in psx after rescheduling of chinese loans and sbp dollar policy" کے لیے 1167 نتائج۔
عالمی سطح پر معاشی چیلنجز اور غیر یقینی صورتحال کے باوجود، پاکستان کی معیشت اس وقت ایک اہم موڑ سے گزر رہی ہے۔ نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی (UNGA) کے اجلاس کے سائیڈ لائنز پر وزیراعظم شہباز شریف اور انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (IMF) کی مینیجنگ ڈائریکٹر کرسٹینا جارجیوا کی ملاقات نے معاشی حلقوں میں نئی امیدیں جگائی ہیں۔
فاریکس اور اسٹاک مارکیٹوں میں بنیادی تجزیہ (fundamental analysis) معاشی کیلنڈر کے اہم اشاریوں، مرکزی بینک کے فیصلوں، COT رپورٹ اور عالمی میکرو رجحانات کو سمجھنے پر منحصر ہے۔ یہ مضمون ان تمام عوامل کا تفصیلی جائزہ پیش کرتا ہے جو مالیاتی منڈیوں کی نقل و حرکت کو متاثر کرتے ہیں، اور پاکستان کے تناظر میں بھی ان کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔
پاکستانی روپیہ (PKR) انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں اپنی حالیہ گراوٹ کو برقرار رکھے ہوئے ہے، جہاں 276.97 کی سطح پر بندش عالمی ڈالر کی مضبوطی اور مقامی درآمدی طلب کے دباؤ کی عکاسی کرتی ہے۔ پچھلی invalidation سطح 276.80 برقرار نہیں رہ سکی، جو روپے کی کمزوری کی تصدیق کرتی ہے۔
عالمی سونے کی قیمت (XAU/USD) نے $4,331.56 کی کلیدی حمایتی سطح کو توڑ دیا ہے، جو کہ امریکی ڈالر (DXY) کی مضبوطی اور امریکی ٹریژری ییلڈز میں استحکام کے درمیان مزید مندی کے رجحان کی نشاندہی کر رہا ہے۔ اس بریک ڈاؤن کے بعد، سونے کی قیمت اب $4,250 کی نفسیاتی اور تکنیکی سطح کی طرف بڑھ سکتی ہے۔
خام تیل کی عالمی مارکیٹ میں حالیہ معمولی کمی کے باوجود، Brent اور WTI دونوں کی قیمتیں اب بھی سپلائی کی تنگی اور OPEC+ کی جانب سے ممکنہ پیداواری کٹوتیوں کے خدشات کے باعث بلش رجحان میں ہیں۔ Brent $97.31 پر ٹریڈ کر رہا ہے، جو $95 کی اہم حمایتی سطح سے اوپر ہے۔ مارکیٹ کا ڈھانچہ (backwardation) بھی فوری طلب کی مضبوطی کی نشاندہی کرتا ہے۔
Cosmos Hub نے 23 ستمبر کو تقریباً 25 گھنٹے کے تعطل کے بعد بلاک سازی بحال کردی؛ نیٹ ورک Neutron حملے سے منسلک ATOM کی مزید منتقلی روکنے کے لیے روکا گیا تھا۔ ہب کے مطابق اس کا اپنا نظام حملے کا شکار نہیں ہوا؛ اصل واقعہ Neutron کی گورننس اور Astroport و Drop سے متعلق معاہدوں کے انتظامی اختیار سے جڑا تھا۔ تحقیق میں تقریباً 94 لاکھ ڈالر کے اثاثے متاثر ہونے کا تخمینہ ہے، مگر منتقل شدہ رقم، روکے گئے اثاثے اور حتمی ناقابلِ واپسی نقصان الگ اعداد ہیں۔ بحالی کے پہلے بلاک میں 1,227,121 ATOM نئے پتے پر منتقل ہوئے؛ بعد میں THORChain سے لوٹنے والے 168,991 ATOM کو صارفین کی بازیابی قرار دینا درست نہیں۔ اب مکمل تکنیکی رپورٹ، نئے پتے کے اختیار اور متاثرین کو واپسی کی تفصیل اہم ہے؛ بلاک سازی کی بحالی سے تمام اثاثوں کی بازیابی یا گورننس کی خامی دور ہونے کی تصدیق نہیں ہوتی۔
امریکی معیشت کی رفتار کے حوالے سے حالیہ معاشی اعداد و شمار نے عالمی سرمایہ کاروں کو چونکا دیا ہے۔ ستمبر کے مہینے میں US S&P Global Composite PMI کی فلیش ریڈنگ 58.4 پر آ گئی ہے، جو کہ اگست میں 56.0 تھی
یورو زون کا ابتدائی جامع PMI ستمبر میں 53.1 رہا، جبکہ توقع 51.7 اور اگست کی ریڈنگ 52.0 تھی؛ کاروباری سرگرمی کی رفتار اپریل 2023 کے بعد بلند ترین رہی۔ خدمات کا PMI بڑھ کر 53.0 ہوگیا، مینوفیکچرنگ PMI 52.7 پر برقرار رہا اور صنعتی پیداوار کا سروے اشاریہ 53.4 ہوگیا؛ خدمات میں بہتری زیادہ نمایاں رہی۔ نئے آرڈرز میں مئی 2022 کے بعد تیز ترین اضافہ ہوا، لیکن کاروباری لاگت اور فروخت کی قیمتیں بھی تیزی سے بڑھیں؛ بہتر طلب کے ساتھ مہنگائی کا خطرہ برقرار ہے۔ ECB پہلے ہی ستمبر میں شرح سود بڑھا چکا ہے؛ نئی رپورٹ مزید سختی کی بحث کو تقویت دے سکتی ہے، مگر کسی اگلے اضافے کی ضمانت نہیں اور فیصلہ دیگر اعداد پر ہوگا۔ مضبوط PMI کے باوجود EUR/USD، 1.1400 کے قریب دباؤ میں رہا؛ 1.1450 کی بازیابی اور امریکی ابتدائی PMI اگلی سمت کے اہم حوالے ہیں، جبکہ کسی سطح کا مختصر عبور کافی نہیں ہوگا۔
آئی ایم ایف کا ایک وفد پاکستان پہنچ چکا ہے تاکہ ملک کے ساتھ ایکسٹینڈڈ فنڈ سہولت کے چوتھے جائزے اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی کے تیسرے جائزے کے لیے باضابطہ مذاکرات کا آغاز کیا جا سکے
0.7100AUD/USD کے قریب دباؤ میں ہے۔ کمزور آسٹریلوی PMI ڈیٹا نے دباؤ بڑھایا ہے۔ مضبوط امریکی ڈالر بھی رکاوٹ بن رہا ہے۔ 0.7100 اہم support ہے۔ اس کے نیچے 0.7075 اور 0.7050 اگلے support levels ہیں۔ 0.7140 اہم resistance ہے۔ اس کے اوپر 0.7180 اور 0.7240 اگلے resistance levels ہیں۔
عالمی سیاسی منظر نامہ اس وقت ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے جہاں نیویارک میں یو این جنرل اسمبلی (UN General Assembly) کا اجلاس جاری ہے۔ امریکی صدر Donald Trump اسوقت اس سے خطاب کر رہے ہین۔