Ethereum پچھلی چوٹی سے پیچھے ہٹنے کے بعد $2,696 کے قریب ایک تنگ انٹرا ڈے رینج میں داخل ہو گیا ہے، جہاں سرمایہ کار اگلے فیصلے کے منتظر ہیں۔
"eurozone sentix investor confidence data released which caused decline in euro" کے لیے 1126 نتائج۔
Ethereum پچھلی چوٹی سے پیچھے ہٹنے کے بعد $2,696 کے قریب ایک تنگ انٹرا ڈے رینج میں داخل ہو گیا ہے، جہاں سرمایہ کار اگلے فیصلے کے منتظر ہیں۔
بٹ کوائن نے 0.52 فیصد اضافے کے ساتھ 85,012 ڈالر کی سطح حاصل کر لی ہے۔ موجودہ مارکیٹ سٹرکچر، 84,713 ڈالر کی کلیدی انٹرا ڈے سپورٹ اور آگے کے اہم محرکات کا جامع تجزیہ۔
بٹ کوئن 84,620 ڈالر کے پسپائی کے بعد 85,012 ڈالر پر بحال ہوا ہے جبکہ ایتھیریم 2,696 ڈالر پر مستحکم ہے۔ پاکستانی مارکیٹ میں USDT 276.81 روپے پر ٹریڈ ہو رہا ہے۔
پاکستان بیورو آف شماریات کے مطابق ہیڈلائن افراط زر 11.10 فیصد پر آنے کے بعد اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے 11.50 فیصد پالیسی ریٹ کے باعث مثبت حقیقی شرح سود بحال ہو چکی ہے، جس سے آئندہ مانیٹری پالیسی اجلاس میں مزید ریٹ کٹ کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔
پاکستان کی معیشت 11.50% پالیسی ریٹ اور 11.10% افراط زر کے ساتھ مثبت حقیقی شرح سود کے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ بیرونی کھاتوں کے استحکام اور آئی ایم ایف پروگرام کے تحت USD/PKR 276.83 پر متوازن قائم ہے۔
بٹ کوائن (BTC/USD) $85,940 کی سابقہ بلندی سے معمولی پسپائی کے بعد $84,829 پر استحکام حاصل کر رہا ہے۔ مارکیٹ کی موجودہ ساخت، ہالوِنگ سائیکل کے ساختی اثرات اور $84,447 کی تکنیکی سپورٹ پر مبنی تفصیلی ڈیسک رپورٹ۔
ڈالر انڈیکس (DXY) کی 101.92 پر پیش قدمی کے نتیجے میں عالمی سونا $4,140.52 کی سطح پر آ گیا ہے۔ پاکستان میں 24 قیراط سونا 441,000 روپے فی تولہ پر برقرار ہے جبکہ تکنیکی ڈھانچہ بئریش دباؤ کی نشان دہی کر رہا ہے۔
بٹ کوئن 85,900 ڈالر کی مزاحمت عبور نہ کر سکنے کے بعد 84,620 ڈالر تک پسپا ہو گیا ہے جبکہ ایتھیریم 2,684 ڈالر پر شدید مندی ظاہر کر رہا ہے، اور مقامی مارکیٹ میں USDT کا ریٹ 276.79 روپے پر مستحکم ہے۔
بین الاقوامی منڈی میں برینٹ خام تیل 102.25 ڈالر پر مستحکم ہو گیا ہے جس نے پچھلی بئریش تھیسس کو منسوخ کر دیا ہے، جبکہ ڈبلیو ٹی آئی کے 91.11 ڈالر تک گرنے سے بینچ مارک سپریڈ 11.14 ڈالر تک پھیل گیا۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی آنے والی مانیٹری پالیسی میٹنگ میں 11.10 فیصد کی سی پی آئی مہنگائی اور 11.50 فیصد پالیسی ریٹ کے تناظر میں 50 سے 100 بیسس پوائنٹس کی کٹوتی کا قوی امکان ہے۔
پاکستان کی معیشت 11.50% پالیسی ریٹ اور 11.10% CPI افراط زر کے ساتھ مثبت حقیقی شرح سود کے دور میں قائم ہے۔ انٹربینک مارکیٹ میں USD/PKR 0.33% کی بہتری کے ساتھ 276.82 پر بند ہوا، جبکہ KSE-100 انڈیکس 168,155 پوائنٹس پر معاشی استحکام کی عکاسی کر رہا ہے۔
امریکی 10 سالہ بانڈ ییلڈ 5.237% اور ڈالر انڈیکس 102.01 پر پہنچنے سے فیڈرل ریزرو کی سخت مالیاتی پالیسی کا تسلسل ثابت ہو رہا ہے۔ افراط زر کی 3.35% سطح پر موجودگی عالمی اثاثوں کے لیے اہم خطرہ ہے۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں