PSX میں کاروباری ہفتے کے آخری روز ابتدائی سیشن کے آغاز پر مثبت رجحان دیکھا گیا، جہاں بینچ مارک انڈیکس KSE100 نے تقریباً 200 پوائنٹس کا اضافہ حاصل کیا۔ سرمایہ کاروں کی جانب سے منتخب شعبوں میں خریداری نے مارکیٹ کو سہارا دیا،
"usd steady as ecb hawkish tone counters us iran uncertainty" کے لیے 1092 نتائج۔
PSX میں کاروباری ہفتے کے آخری روز ابتدائی سیشن کے آغاز پر مثبت رجحان دیکھا گیا، جہاں بینچ مارک انڈیکس KSE100 نے تقریباً 200 پوائنٹس کا اضافہ حاصل کیا۔ سرمایہ کاروں کی جانب سے منتخب شعبوں میں خریداری نے مارکیٹ کو سہارا دیا،
پاکستانی روپے (PKR) آج امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں انٹربینک مارکیٹ میں مزید کمزور ہوا، جو 0.16% کے اضافے کے ساتھ 277.77 پر بند ہوا۔ یہ گراوٹ درآمدی ادائیگیوں کے مسلسل دباؤ اور عالمی سطح پر ڈالر کی مضبوطی کی وجہ سے ہوئی ہے۔
Jackson Hole Symposium میں نئے Federal Reserve چیئرمین Kevin Warsh کا خطاب ایسے وقت میں سامنے آ رہا ہے جب امریکی معیشت مسلسل افراط زر کے دباؤ سے دوچار ہے اور Financial Markets فیڈ کی آئندہ مانیٹری پالیسی سمت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
ایئر لائنز کے میلز اور پوائنٹس درحقیقت اربوں ڈالر کی ایک بڑی معیشت ہیں، جنہیں اب Tokenized Airline Loyalty کے ذریعے ایک نئے ڈیجیٹل دور میں داخل کیا جا رہا ہے۔ حال ہی میں FlyEdge نے اپنے Multilingual Public Preview کا آغاز کیا ہے۔
آج انٹربینک مارکیٹ میں پاکستانی روپے (PKR) امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں 0.34% گراوٹ کا شکار ہوا اور 277.66 پر بند ہوا۔ درآمدی ادائیگیوں کا دباؤ اور عالمی سطح پر ڈالر کی مضبوطی کی توقعات اس گراوٹ کی اہم وجوہات ہیں۔
آج ڈالر ریٹ پاکستانی روپے کے مقابلے میں 277.53 روپے پر بند ہوا، جس میں 0.24% کا معمولی اضافہ دیکھا گیا۔ یہ تفصیلی تجزیہ موجودہ مارکیٹ اور آئندہ امکانات کا جائزہ لیتا ہے۔
آج ڈالر ریٹ انٹربینک میں 277.77 روپے پر بند ہوا، 0.43% کی گراوٹ کے ساتھ۔ اس تجزیے میں پاکستانی روپے کی موجودہ صورتحال اور آئندہ امکانات کا جائزہ لیا گیا ہے۔
معاشی دنیا میں اس وقت سب سے بڑی بحث کا محور Bitcoinہے، جو 80 ہزار ڈالر کی اہم نفسیاتی سطح کو چھونے کے قریب پہنچ چکا ہے۔ گزشتہ ایک ماہ کے دوران تقریباً 27 فیصد اضافے نے سرمایہ کاروں میں ایک نئی امید پیدا کی ہے
KSE-100 انڈیکس 176,967 پوائنٹس پر -0.11% کی معمولی گراوٹ کے ساتھ بند ہوا، جبکہ سرمایہ کار مستقبل کی سمت کے لیے تکنیکی اور بنیادی عوامل کا جائزہ لے رہے ہیں۔
امریکہ کی جانب سے ایران کے تجارتی شراکت داروں اور معاشی روابط کو نشانہ بنانے کی حکمت عملی نے مارکیٹ میں یہ خدشات پیدا کیے ہیں کہ موجودہ کشیدگی محض سیاسی تنازع تک محدود نہیں رہے گی بلکہ عالمی معیشت اور تجارت کے لیے بھی بڑے خطرات پیدا کر سکتی ہے۔
امریکہ نے ہفتے کے روز کینیڈین مصنوعات پر 50 فیصد تک کے ٹیرف نافذ کیے، جبکہ جمعہ کو تجارتی مذاکرات آخری مرحلے میں ناکام ہو گئے۔
تیل کی قیمتوں میں تازہ ترین اتار چڑھاؤ، Brent $94.39 اور WTI $87.06 پر، عالمی توانائی کے منظرنامے اور مرکزی بینکوں کی پالیسیوں کے تناظر میں زیر بحث ہے۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں