بینچ مارک PSX KSE-100 Index میں 2,546.94 پوائنٹس کی بڑی کمی ریکارڈ ہوئی اور انڈیکس 177,955.51 پوائنٹس پر بند ہوا۔ اس نمایاں PSX KSE-100 Index Drop نے مارکیٹ میں فروخت کے شدید دباؤ کو نمایاں کیا۔
"usd steady as ecb hawkish tone counters us iran uncertainty" کے لیے 1078 نتائج۔
بینچ مارک PSX KSE-100 Index میں 2,546.94 پوائنٹس کی بڑی کمی ریکارڈ ہوئی اور انڈیکس 177,955.51 پوائنٹس پر بند ہوا۔ اس نمایاں PSX KSE-100 Index Drop نے مارکیٹ میں فروخت کے شدید دباؤ کو نمایاں کیا۔
مارکیٹ کے بنیادی محرکات اب بھی مضبوط ہیں۔ ماضی میں Silver کو $13 یا $15 فی اونس کی دھات سمجھا جاتا تھا، لیکن آج صورتحال نمایاں طور پر تبدیل ہو چکی ہے۔
پاکستان سٹاک ایکسچینج (Pakistan Stock Exchange) میں درج معروف ٹیکنالوجی کمپنی Avanceon Limited نے ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے 6.3 ملین ڈالر کے نئے آرڈرز حاصل کیے ہیں۔
آج 18 اگست 2026 کو پاکستانی مارکیٹ میں 24 قیراط سونے کی قیمت 453,700 روپے فی تولہ پر برقرار رہی جبکہ عالمی مارکیٹ میں XAU/USD $4,393.80 پر مستحکم ہے۔ DXY 99.67 پر ٹریڈ کر رہا ہے، جو سونے کے لیے ممکنہ طور پر منفی رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔
آج انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر پاکستانی روپے کے مقابلے میں 277.92 روپے پر بند ہوا، جبکہ روپے نے 0.40% کی معمولی بہتری دکھائی۔ عالمی DXY انڈیکس میں بھی معمولی اضافہ دیکھا گیا۔
ٹریڈنگ کے ابتدائی لمحات میں انڈیکس میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا، جبکہ مختلف اہم شعبوں کے حصص میں خریداری نے مارکیٹ کی مجموعی سمت کو مضبوط رکھا۔
Gold سونا 4,400 ڈالر کے قریب مضبوط ہے، جبکہ کمزور امریکی ڈیٹا اور فیڈ ریٹ ہائیک کی گھٹتی توقعات قیمت کو سپورٹ کر رہی ہیں۔
آج انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں معمولی بہتری دیکھی گئی، جبکہ عالمی سطح پر DXY انڈیکس میں گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔
کرپٹو کرنسی کی دنیا میں Security سب سے اہم ستون ہے، کیونکہ یہاں معمولی سی غفلت بھی سرمایہ کاروں کے لیے بڑے مالی نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔ حالیہ SafePal Data Breach نے ایک بار پھر Crypto Security کے حوالے سے اہم سوالات اٹھا دیے ہیں۔
اس ہفتے شدید دباؤ کا شکار رہا اور جمعہ کے روز تقریباً 62,900 ڈالر کے قریب ٹریڈ کرتا رہا۔ حالیہ دنوں کے تناظر میں دیکھا جائے تو قیمت میں 3 فیصد سے زائد کی کمی ریکارڈ کی گئی
آج انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر پاکستانی روپے کے مقابلے میں 277.78 روپے پر بند ہوا، جس میں 0.31% کا اضافہ دیکھا گیا۔ مہنگائی اور عالمی DXY انڈیکس روپے پر اثرانداز۔
افراط زر صرف اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے کا نام نہیں۔ بلکہ یہ ایک ایسا خاموش طوفان ہے۔ جو کسی بھی ملک کی معیشت، کرنسی کی قدر اور عوام کی قوتِ خرید کو اندر سے کمزور کر دیتا ہے۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں