جنوبی کوریا میں Stablecoins کا نفاذ نہ صرف ملکی ٹریڈرز کو اربوں ڈالر کی سالانہ فیس سے بچا سکتا ہے، بلکہ یہ ملک کے روایتی بینکنگ نظام اور مالیاتی استحکام کے لیے بھی گہرے اثرات کا حامل ہو سکتا ہے۔
"aud usd falls as middle east tensions boost us dollar risk off sentiment deepens" کے لیے 1103 نتائج۔
جنوبی کوریا میں Stablecoins کا نفاذ نہ صرف ملکی ٹریڈرز کو اربوں ڈالر کی سالانہ فیس سے بچا سکتا ہے، بلکہ یہ ملک کے روایتی بینکنگ نظام اور مالیاتی استحکام کے لیے بھی گہرے اثرات کا حامل ہو سکتا ہے۔
یورپی بینکنگ کے شعبے میں ایک بڑی پیشرفت سامنے آئی ہے۔ آج اٹلی کے معروف مالیاتی ادارے UniCredit کو یورپی مرکزی بینک کی جانب سے ایک بہت بڑا ریگولیٹری ریلیف مل گیا ہے۔
عالمی مارکیٹس میں ایک بار پھر جغرافیائی سیاسی تناؤ سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ مغربی ٹیکساس انٹرمیڈیٹ، جو کہ امریکی خام تیل کی قیمتوں کا بنیادی معیار ہے، میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج ابتدائی سیشن کے دوران جو مندی دیکھی گئی ہے، اس نے سرمایہ کاروں کو ایک بار پھر محتاط رہنے پر مجبور کر دیا ہے
عالمی سونے کی قیمت (XAU/USD) $4,400 کی نفسیاتی سپورٹ سطح کے قریب اپنی 'range-bound consolidation' کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ DXY میں معمولی کمی نے سونے کو کچھ ریلیف فراہم کی ہے، جبکہ پاکستان میں 24 قیراط سونے کی قیمت میں 1.55% کا نمایاں اضافہ مقامی ڈیمانڈ میں اضافے کی نشاندہی کرتا ہے۔ تاہم، امریکی ٹریژری ییلڈز میں مسلسل اضافہ اور فیڈرل ریزرو کی سخت مانیٹری پالیسی کے امکانات سونے پر بنیادی دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
پاکستانی روپے (PKR) امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں اپنی قدر کھو رہا ہے، انٹربینک مارکیٹ میں 277.66 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ درآمدی دباؤ اور مقامی طلب اس گراوٹ کی اہم وجوہات ہیں، جبکہ عالمی ڈالر کی کمزوری بھی PKR کو سہارا دینے میں ناکام رہی ہے۔
نئی تاریخی بلند سطح: لندن میٹل ایکسچینج (LME) پر تانبا 14,533 ڈالر فی میٹرک ٹن کی نئی تاریخی بلند ترین سطح کو چھو گیا، جس نے جنوری کا ریکارڈ توڑ دیا۔ ذخائر کا جغرافیائی تضاد: امریکہ میں تانبے کے ذخائر ریکارڈ سطح پر پہنچ چکے ہیں، جبکہ چین (SHFE) اور لندن کے گوداموں میں فوری دستیاب دھات نایاب ہو رہی ہے۔ شنگھائی میں 85 فیصد کمی: چین میں شنگھائی فیوچرز ایکسچینج کے زیرِ نگرانی ذخائر مارچ کے وسط کی بلند سطح سے گر کر صرف 63,000 ٹن رہ گئے ہیں، جو جنوری 2024 کے بعد کم ترین سطح ہے۔ امریکی ٹیرف کا اثر: متوقع امریکی تجارتی محصولات اور قیمتوں کے فرق نے عالمی تانبے کے بہاؤ کا رخ زبردستی امریکی گوداموں کی طرف موڑ دیا ہے۔ فوری رسد کا خطرہ: اگر LME سے دھات کا اخراج جاری رہا اور چین میں سپلائی بحال نہ ہوئی، تو مجموعی عالمی پیداوار کے باوجود فزیکل مارکیٹ میں شدید تنگی برقرار رہے گی۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں KSE-100 انڈیکس نے آج 177,167 پر کھلنے کے بعد 0.97 فیصد کی نمایاں گراوٹ کے ساتھ 173,636 پوائنٹس پر بندش دی، جو 174,600 کی اہم سپورٹ سطح سے نیچے ہے۔ یہ گراوٹ مارکیٹ میں بڑھتے ہوئے بیئرش دباؤ اور پچھلی رینج باؤنڈ ریکوری کی تھیسس کی نفی کی نشاندہی کرتی ہے۔
عالمی مارکیٹس میں جب بھی جغرافیائی سیاسی ( تنازعات شدت اختیار کرتے ہیں، تو اس کے براہ راست اثرات توانائی کے شعبے اور کموڈیٹیز کی قیمتوں پر پڑتے ہیں۔ موجودہ تناظر میں، US Iran conflict نے سرمایہ کاروں اور پالیسی سازوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کر لی ہے۔
پاکستانی روپے (PKR) انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں اپنی گراوٹ جاری رکھے ہوئے ہے، آج 277.62 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ درآمدی ادائیگیوں کا دباؤ اور عالمی ڈالر کی مضبوطی اس رجحان کے اہم محرکات ہیں۔
کرپٹو مارکیٹ میں Bitcoin اور Ethereum نے گزشتہ 24 گھنٹوں میں معمولی ریکوری کی کوشش کی، لیکن اہم مزاحمتی سطحوں کو توڑنے میں ناکامی کے باعث یہ رجحان کمزور پڑتا دکھائی دے رہا ہے۔ ڈیریویٹوز مارکیٹ میں محتاط پوزیشننگ اور میکرو اکنامک دباؤ برقرار ہے۔
پاکستانی روپے (PKR) امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں انٹربینک مارکیٹ میں اپنی قدر میں مزید کمی کا شکار ہے، جو 277.60 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ درآمدی ادائیگیوں کا دباؤ اور عالمی سطح پر ڈالر کی مضبوطی اس گراوٹ کی بنیادی وجوہات ہیں۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں