پاکستان کی معیشت 11.50% پالیسی ریٹ اور 11.10% افراط زر کے ساتھ مثبت حقیقی شرح سود کے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ بیرونی کھاتوں کے استحکام اور آئی ایم ایف پروگرام کے تحت USD/PKR 276.83 پر متوازن قائم ہے۔
"امریکہ کی اکتوبر 2022ء کی durable goods orders رپورٹ جاری کر" کے لیے 1172 نتائج۔
پاکستان کی معیشت 11.50% پالیسی ریٹ اور 11.10% افراط زر کے ساتھ مثبت حقیقی شرح سود کے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ بیرونی کھاتوں کے استحکام اور آئی ایم ایف پروگرام کے تحت USD/PKR 276.83 پر متوازن قائم ہے۔
24 قیراط سونا 2,000 روپے اضافے سے 440,636 روپے فی تولہ ہوگیا۔ 10 گرام سونا 377,774 روپے، جبکہ چاندی 50 روپے بڑھ کر 6,578 روپے فی تولہ رہی۔ مقامی نرخ کے ساتھ رپورٹ کردہ عالمی حوالہ 20 ڈالر بڑھ کر 4,181 ڈالر فی اونس ہوگیا۔ جمعہ کی تیزی نے جمعرات کی کمی کا تقریباً دو تہائی حصہ واپس لیا؛ دونوں سیشنز کی مجموعی تبدیلی اب بھی 1,000 روپے منفی ہے۔ پیر سے جمعہ تک جاری کردہ فی تولہ نرخ 437,336 سے 441,636 روپے کی پرائس رینج میں رہے۔
ستمبر میں سالانہ مہنگائی 10.3 فیصد رہی، جو اگست کے مقابلے میں 0.8 فیصد پوائنٹ کم ہے۔ ماہانہ قیمتیں 1.3 فیصد بڑھیں؛ اگست میں اضافہ 1.2 فیصد تھا۔ شہری اور دیہی دونوں اشاریوں میں بجلی کے چارجز 15.28 فیصد بڑھے، جبکہ موٹر فیول کا اضافہ بالترتیب 10.76 اور 11.13 فیصد رہا۔ ٹماٹر اور مرغی سستے ہوئے، لیکن قومی سطح پر خوراک اور مشروبات کا مجموعی اشاریہ ماہانہ 0.19 فیصد بڑھا۔ خوراک اور توانائی کے بغیر بنیادی مہنگائی (Core Inflation) میں کمی آئی، تاہم توانائی کی بڑھتی لاگت شرح سود کے آئندہ فیصلوں کے لیے اہم رہے گی۔
KSE100 انڈیکس میں ٹریڈنگ کے آغاز کے ساتھ ہی 700 سے زائد پوائنٹس کا شاندار اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ سرمایہ کاروں کی جانب سے اسٹاکس کی خریداری میں تیزی نے مارکیٹ کے روایتی رجحان کو سہارا دیا ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں آج سرمایہ کاروں کو اتار چڑھاؤ اور امید کی ملی جلی فضا کا سامنا ہے۔ جہاں PSX نے منگل کے روز ابتدائی لمحات میں شاندار بحالی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 300 پوائنٹس سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا
یہ مضمون پرو‑ٹریڈرز کے لیے مخصوص ٹپس پیش کرتا ہے: کون سے کرنسی جوڑے سیٹ‑اپ کے لیے موزوں ہیں، اہم نیوز ایونٹس پر ٹریڈنگ پلان کیسے بنائیں، رسک مینجمنٹ کے بنیادی اصول اور عملی نکات۔
فیڈرل ریزرو کے حالیہ FOMC اجلاس کے بعد 'ڈاٹ پلاٹ' میں شرح سود کی پیش گوئی میں نمایاں اضافے نے عالمی مالیاتی منڈیوں میں 'گروتھ اسکیئر' کو گہرا کر دیا ہے۔ امریکی 10 سالہ ٹریژری ییلڈ 5.162% کی 2007 کے بعد کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، جبکہ ڈالر مستحکم ہے اور ابھرتی ہوئی معیشتوں پر سرمائے کے اخراج کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔ چیئرمین پاول کے بیانات نے 'بلند شرح سود طویل عرصے تک' کے بیانیے کو مزید تقویت دی ہے۔
فیڈرل ریزرو کی حالیہ پالیسی اور 'ڈاٹ پلاٹ' نے شرح سود میں مزید اضافے کے امکانات کو تقویت دی ہے، جس سے عالمی مالیاتی منڈیوں میں 'گروتھ اسکیئر' اور ابھرتی ہوئی معیشتوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ چیئرمین پاول کے بیانات نے افراط زر پر قابو پانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے، جبکہ امریکی 10 سالہ ٹریژری ییلڈ اور DXY ڈالر انڈیکس مضبوطی دکھا رہے ہیں۔
ایتھیریم (ETH) کی قیمت $2,670 کی سطح پر مستحکم ہے، جہاں لیئر 2 (L2) ایکو سسٹم کی مسلسل ترقی اور نیٹ ورک کی بنیادی باتوں میں بہتری فروخت کے دباؤ کو متوازن کر رہی ہے۔ ETH/BTC کا تناسب ایک اہم کرپٹو بیٹا اشارے کے طور پر کام کر رہا ہے، جبکہ $2,650 پر مضبوط تکنیکی سپورٹ برقرار ہے۔ میکرو اکنامک عوامل اور ڈیریویٹوز مارکیٹ کے رجحانات پر گہری نظر رکھنا ضروری ہے۔
EUR/USD 1.1400 کی نفسیاتی سطح کے قریب مستحکم ہو رہا ہے، جس میں 1.1350 پر مضبوط تکنیکی سپورٹ موجود ہے۔ تاہم، 1.1450-1.1480 کی مزاحمتی سطح کو توڑنے کے لیے ٹھوس بنیادی محرکات درکار ہوں گے۔ مارکیٹ فی الحال ایک رینج باؤنڈ رجحان دکھا رہی ہے، جہاں سود کی شرحوں میں فرق اور اقتصادی اعداد و شمار کی توقعات اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔
USD/JPY بدھ، 23 ستمبر کی ابتدائی ایشیائی تجارت میں تقریباً 157.60 پر رہا؛ یہ متعلقہ سیشن کی رپورٹ شدہ قیمت ہے، پورے دن کا اختتامی یا مستقل نرخ نہیں۔ BoJ نے 18 ستمبر کو شرح سود 25 بیسس پوائنٹس بڑھا کر 1.25 فیصد کرنے کا فیصلہ کیا، مگر نئی شرح 24 ستمبر سے نافذ ہوگی؛ اعلان اور نفاذ کی تاریخ الگ ہیں۔ Federal Reserve کی شرح 3.75 سے 4.00 فیصد ہے۔ دونوں بینکوں کے یکساں اضافے کے بعد بھی شرح سود کا فرق ڈالر کے حق میں رہے گا، اگرچہ کرنسی کی سمت صرف یہی عامل طے نہیں کرتا۔ جاپان میں Autumnal Equinox Day کی تعطیل سے مقامی شرکت محدود ہے۔ عالمی فاریکس تجارت جاری ہے، مگر کم لیکویڈیٹی میں خبر یا بڑے آرڈر کا اثر زیادہ ہوسکتا ہے۔ 160 اہم نفسیاتی سطح ہے، سرکاری مداخلت کی اعلان شدہ حد نہیں۔ آئندہ سمت کے لیے امریکی ییلڈز، مرکزی بینکوں کی رہنمائی اور جاپانی حکام کے اقدامات اہم رہیں گے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں ایک بار پھر خریداری کا رجحان دیکھنے میں آیا ہے، جہاں بینچ مارک KSE100 نے تجارتی سیشن کے دوران 450 پوائنٹس سے زائد کا شاندار اضافہ ریکارڈ کیا ہے۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں