پاکستانی روپے نے آج انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں اپنی گراوٹ کو روکا ہے اور 277.53 پر ٹریڈ کر رہا ہے، جو پچھلے سیشن کے مقابلے میں معمولی بہتری ہے۔ تاہم، عالمی ڈالر کی مضبوطی اور مقامی درآمدی دباؤ کے پیش نظر یہ استحکام نازک ہے۔
"value of audusd restored after positive australian emoloyment report" کے لیے 1111 نتائج۔
پاکستانی روپے نے آج انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں اپنی گراوٹ کو روکا ہے اور 277.53 پر ٹریڈ کر رہا ہے، جو پچھلے سیشن کے مقابلے میں معمولی بہتری ہے۔ تاہم، عالمی ڈالر کی مضبوطی اور مقامی درآمدی دباؤ کے پیش نظر یہ استحکام نازک ہے۔
$4,350Gold کے قریب دباؤ میں ہے کیونکہ مضبوط US jobs data، Treasury yields اور Fed rate expectations نے XAU/USD کو متاثر کیا ہے۔ دوسری جانب Middle East tensions اورXAU safe haven demand کو support دے رہی ہیں۔ Traders کی نظریں US PPI اور CPI data پر ہیں، جو Gold کی اگلی direction طے کر سکتے ہیں۔ $4,400 اہم resistance ہے، جبکہ $4,300، $4,160 اور $4,000 اہم support levels ہیں۔ $4,400 سے اوپر Gold breakout کو bullish momentum دے سکتا ہے، جبکہ $4,300 سے نیچے مزید کمی کا امکان بڑھ سکتا ہے۔
ایشیائی سیشن کے دوران مغربی ٹیکساس انٹرمیڈیٹ یعنی WTI Crude Oil کی قیمتیں مسلسل تیسرے روز بڑھتے ہوئے تقریباً 92.30 ڈالر فی بیرل کی سطح پر ٹریڈ کر رہی ہیں۔
USD/JPY میں کمی کا سلسلہ جاری ہے کیونکہ Japanese Yen کو BoJ Rate Hike کی بڑھتی ہوئی توقعات سے support مل رہی ہے۔ 153.00Pair کے اہم Support Level کے قریب ہے۔ اگر یہ level ٹوٹ جاتا ہے تو مزید downside کا امکان بڑھ سکتا ہے۔ دوسری جانب 154.00 سے 154.50 کا Area اہم Resistance ہے۔ US CPI، Federal Reserve Rate Expectations اور BoJ Policy Guidance آئندہ USD/JPY کی سمت کے لیے اہم رہیں گے۔
امریکی ہنگامی خام تیل ذخیرہ (SPR) گزشتہ ہفتے تقریباً 12 لاکھ بیرل کم ہوکر 28 کروڑ 54 لاکھ بیرل رہ گیا؛ یہ نومبر 1982 کے بعد کم ترین سطح ہے۔ مارچ میں ذخیرہ تقریباً 41 کروڑ 50 لاکھ بیرل تھا؛ اس تقابلی مقدار سے موجودہ سطح تقریباً 12 کروڑ 96 لاکھ بیرل، یعنی 31 فیصد کم بنتی ہے۔ امریکہ نے 17 کروڑ 20 لاکھ بیرل جاری کرنے کا اعلان کیا تھا، جو عالمی سطح پر 40 کروڑ بیرل تیل اور تیار مصنوعات کی مربوط فراہمی کے منصوبے کا حصہ ہے۔ تبادلے کے تحت حاصل کیا گیا تیل کمپنیوں کو اضافی بیرل کے ساتھ واپس کرنا ہے؛ تاہم مستقبل کی واپسی موجودہ دستیاب ذخیرے میں شمار نہیں کی جاسکتی۔ Brent تقریباً 98 ڈالر کے آس پاس اور خلیجی رسد خطرات کی زد میں ہے؛ کم SPR فوری امریکی قلت ثابت نہیں کرتا، مگر نئے جھٹکے سے نمٹنے کی گنجائش محدود کرتا ہے۔ تجارتی ذخائر اور ملکی پیداوار اس سے الگ ہیں۔
بینک آف انگلینڈ ) کے گورنر اینڈریو بیلی (Andrew Bailey) کی جانب سے برطانوی پارلیمنٹ کی ٹریژری کمیٹی کے سامنے پیش ہو کر افراط زر اور مانیٹری پالیسی پر گواہی دینا معاشی حلقوں میں ایک انتہائی اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج شدید فروخت کا دباؤ دیکھنے میں آیا جب دنیا بھر میں بالخصوص مشرق وسطیٰ میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے
جنوبی کوریا میں Stablecoins کا نفاذ نہ صرف ملکی ٹریڈرز کو اربوں ڈالر کی سالانہ فیس سے بچا سکتا ہے، بلکہ یہ ملک کے روایتی بینکنگ نظام اور مالیاتی استحکام کے لیے بھی گہرے اثرات کا حامل ہو سکتا ہے۔
گزشتہ 24 گھنٹوں میں Bitcoin اور Ethereum نے اپنی اہم سپورٹ سطحوں کو برقرار رکھا ہے، لیکن ڈیریویٹوز مارکیٹ میں بڑھتی ہوئی اوپن انٹرسٹ اور فنڈنگ ریٹس میں کمی نے بیئرش دباؤ میں اضافے کا اشارہ دیا ہے۔ عالمی میکرو عوامل بھی کرپٹو مارکیٹ پر اثر انداز ہو رہے ہیں، جبکہ پاکستانی P2P مارکیٹ میں USDT/PKR مستحکم ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج KSE-100 انڈیکس نے 174,600 کی اہم سپورٹ سطح سے نیچے بندش دی ہے، جو پچھلی کمزور استحکام کی تھیسس کو غلط ثابت کرتا ہے۔ مارکیٹ میں وسیع البنیاد فروخت کا دباؤ دیکھا گیا، جس سے مزید نیچے کی جانب رجحان کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
یورپی بینکنگ کے شعبے میں ایک بڑی پیشرفت سامنے آئی ہے۔ آج اٹلی کے معروف مالیاتی ادارے UniCredit کو یورپی مرکزی بینک کی جانب سے ایک بہت بڑا ریگولیٹری ریلیف مل گیا ہے۔
یمنی حوثی فورسز کی طرف سے سعودی عرب کی اہم توانائی تنصیبات (Energy Facilities) اور شہروں پر کیے جانے والے حملوں نے سرمایہ کاروں کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں