مشرق وسطیٰ کے تنازع اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث PSX میں شدید فروخت کا رجحان دیکھا گیا، جس سے KSE100 انڈیکس سینکڑوں پوائنٹس نیچے آ گیا۔
"german cpi report released which caused posituve rally in euro while negative in dax" کے لیے 1138 نتائج۔
مشرق وسطیٰ کے تنازع اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث PSX میں شدید فروخت کا رجحان دیکھا گیا، جس سے KSE100 انڈیکس سینکڑوں پوائنٹس نیچے آ گیا۔
خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، Brent $99 اور WTI $93 کی سطح کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ یہ اضافہ بنیادی طور پر OPEC+ کی جانب سے سپلائی میں ممکنہ کمی اور عالمی طلب میں بہتری کی توقعات سے منسلک ہے، جس سے مارکیٹ میں تنگی کا رجحان پیدا ہو رہا ہے۔
مشہور سٹیبل کوائن جاری کرنے والے ادارے سرکل نے سنگاپور سے تعلق رکھنے والی کراس بارڈر پیمنٹس کمپنی تیزا پے کو چار سو ملین ڈالر میں خریدنے کا معاہدہ طے کر لیا ہے۔
ایرانی پاسداران انقلاب نے دعوی کیا ہے کہ اردن میں امریکی فوجی اڈوں US Military Bases پر ایران کے میزائل حملوں کا دوسرا مرحلہ جاری ہے جبکہ دوسری طرف سینٹکام نے پانچ ایرانی آئل ٹینکر تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے
عالمی سونے کی قیمت (XAU/USD) $4,370 کی اہم تکنیکی سپورٹ پر استحکام دکھا رہی ہے، جہاں DXY میں معمولی کمی نے 'technical rebound' کی کوشش کو جنم دیا ہے۔ تاہم، امریکی ٹریژری ییلڈز میں مسلسل اضافہ اور فیڈرل ریزرو کی سخت مانیٹری پالیسی کے امکانات سونے پر بنیادی دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہیں، جو کسی بھی تیزی کی حرکت کو محدود کر سکتے ہیں۔
ایشیائی سیشن کے دوران مغربی ٹیکساس انٹرمیڈیٹ یعنی WTI Crude Oil کی قیمتیں مسلسل تیسرے روز بڑھتے ہوئے تقریباً 92.30 ڈالر فی بیرل کی سطح پر ٹریڈ کر رہی ہیں۔
AP نے امریکی اہلکار کے حوالے سے ایرانی ٹینکروں پر نئی امریکی کارروائی رپورٹ کی ہے؛ ایرانی سرکاری ٹی وی نے خارک اور جاسک کے قریب حملوں کی اطلاع دی۔ امریکی اہلکار نے کارروائی کو بحری جنگی جہاز پر ایرانی میزائل حملوں کی کوشش کا جواب قرار دیا؛ یہ مؤقف اہلکار سے منسوب ہے، آزاد فوجی تحقیق کا نتیجہ نہیں۔ CENTCOM نے 5 ستمبر کو تین ایرانی ٹینکروں کے خلاف کارروائی کا اعلان کیا تھا؛ تازہ حملوں کے تمام اہداف اور نقصان کی تفصیلی عوامی تصدیق باقی ہے۔ خارک ایران کی خام تیل برآمدات کا مرکزی مقام ہے، جبکہ جاسک ہرمز کے مشرق میں واقع ہے؛ ٹینکروں پر حملے اور برآمدی ٹرمینل کو نقصان الگ حقائق ہیں۔ تیل پہلے ہی 100 ڈالر کے قریب رہا ہے؛ مسلسل حملے جہاز رانی، بیمہ اور برآمدی لاگت بڑھا سکتے ہیں، مگر تازہ کارروائی سے رسد میں کمی کی مقدار ابھی واضح نہیں۔
امریکی ہنگامی خام تیل ذخیرہ (SPR) گزشتہ ہفتے تقریباً 12 لاکھ بیرل کم ہوکر 28 کروڑ 54 لاکھ بیرل رہ گیا؛ یہ نومبر 1982 کے بعد کم ترین سطح ہے۔ مارچ میں ذخیرہ تقریباً 41 کروڑ 50 لاکھ بیرل تھا؛ اس تقابلی مقدار سے موجودہ سطح تقریباً 12 کروڑ 96 لاکھ بیرل، یعنی 31 فیصد کم بنتی ہے۔ امریکہ نے 17 کروڑ 20 لاکھ بیرل جاری کرنے کا اعلان کیا تھا، جو عالمی سطح پر 40 کروڑ بیرل تیل اور تیار مصنوعات کی مربوط فراہمی کے منصوبے کا حصہ ہے۔ تبادلے کے تحت حاصل کیا گیا تیل کمپنیوں کو اضافی بیرل کے ساتھ واپس کرنا ہے؛ تاہم مستقبل کی واپسی موجودہ دستیاب ذخیرے میں شمار نہیں کی جاسکتی۔ Brent تقریباً 98 ڈالر کے آس پاس اور خلیجی رسد خطرات کی زد میں ہے؛ کم SPR فوری امریکی قلت ثابت نہیں کرتا، مگر نئے جھٹکے سے نمٹنے کی گنجائش محدود کرتا ہے۔ تجارتی ذخائر اور ملکی پیداوار اس سے الگ ہیں۔
بینک آف انگلینڈ ) کے گورنر اینڈریو بیلی (Andrew Bailey) کی جانب سے برطانوی پارلیمنٹ کی ٹریژری کمیٹی کے سامنے پیش ہو کر افراط زر اور مانیٹری پالیسی پر گواہی دینا معاشی حلقوں میں ایک انتہائی اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج شدید فروخت کا دباؤ دیکھنے میں آیا جب دنیا بھر میں بالخصوص مشرق وسطیٰ میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے
جنوبی کوریا میں Stablecoins کا نفاذ نہ صرف ملکی ٹریڈرز کو اربوں ڈالر کی سالانہ فیس سے بچا سکتا ہے، بلکہ یہ ملک کے روایتی بینکنگ نظام اور مالیاتی استحکام کے لیے بھی گہرے اثرات کا حامل ہو سکتا ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج KSE-100 انڈیکس نے 174,600 کی اہم سپورٹ سطح سے نیچے بندش دی ہے، جو پچھلی کمزور استحکام کی تھیسس کو غلط ثابت کرتا ہے۔ مارکیٹ میں وسیع البنیاد فروخت کا دباؤ دیکھا گیا، جس سے مزید نیچے کی جانب رجحان کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں