پاکستانی شیئر بازار نے ابتدائی گھنٹوں میں شدید دباؤ اور فروخت کے رجحان کا سامنا کیا، لیکن دن کے دوسرے حصے میں جغرافیائی کشیدگی میں کمی کی امیدوں نے ایسا پلٹا کھایا کہ انڈیکس تمام نقصانات کو پیچھے چھوڑتے ہوئے دن کی بلند ترین سطح کے قریب بند ہوا۔
"pakistani trade report released as it indicates visible decline in exports" کے لیے 1137 نتائج۔
پاکستانی شیئر بازار نے ابتدائی گھنٹوں میں شدید دباؤ اور فروخت کے رجحان کا سامنا کیا، لیکن دن کے دوسرے حصے میں جغرافیائی کشیدگی میں کمی کی امیدوں نے ایسا پلٹا کھایا کہ انڈیکس تمام نقصانات کو پیچھے چھوڑتے ہوئے دن کی بلند ترین سطح کے قریب بند ہوا۔
Kalshi کا ارادہ ہے کہ وہ کریپٹو کرنسی (Cryptocurrency) کی دنیا کی ایک مقبول ترین پروڈکٹ — یعنی پرپیچوئل فیوچرز (Perpetual Futures) کو امریکی اسٹاک مارکیٹ میں لے کر آئے۔
پاکستانی ادارہ شماریات کی تازہ ترین رپورٹس کے مطابق، کیڑے مار ادویات، زرعی مشینری، کیمیکلز اور کھادوں کی درآمدات میں اہم تبدیلیاں ریکارڈ کی گئی ہیں۔
پاکستانی روپیہ (PKR) آج انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں معمولی گراوٹ کا شکار ہوا، جو 277.64 پر بند ہوا۔ یہ گراوٹ عالمی ڈالر کی مضبوطی اور مقامی مارکیٹ میں درآمدی دباؤ کے درمیان جاری بیرونی کھاتے کے چیلنجز کی عکاسی کرتی ہے۔
154.60USD/JPY کے قریب ٹریڈ کر رہا ہے۔ زیادہ US Treasury yields اور بڑھتی ہوئی oil prices ڈالر کو support دے رہی ہیں، جبکہ BOJ کی مزید rate hike کی توقعات ین کو support فراہم کر رہی ہیں۔ Technical analysis میں 154.55 اور 154.66 اہم resistance levels ہیں، جبکہ 154.25 اور 153.97 اہم support levels ہیں۔ US CPI data اور BOJ کے آئندہ فیصلے pair کی اگلی direction کے لیے اہم رہیں گے۔
یورپی مرکزی بینک نے ستمبر کے اجلاس کے بعد توقعات کے عین مطابق ECB Monetary Policy کا اعلان کرتے ہوئے 25 بنیادی پوائنٹس کا اضافہ کر دیا ہے
برطانوی فنانشل مارکیٹس میں اس وقت ہلچل مچی ہوئی ہے کیونکہ UK 10 year Gilt yield (برطانیہ کی 10 سالہ گلٹ ییلڈ) گزشتہ 19 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔
ڈیجیٹل اثاثہ جات کی مارکیٹ میں حالیہ دنوں ایک دلچسپ رجحان دیکھنے میں آیا ہے جہاں اسپاٹ بٹ کوائن ETFs سے مسلسل دوسرے روز سرمائے کا انخلا ریکارڈ کیا گیا
تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، اگست 2026 میں سمندر پار پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر کا حجم 3.656 ارب ڈالر رہا۔ یہ کارکردگی ملکی معیشت کے لیے ایک مثبت اور حوصلہ افزا پیش رفت ہے
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں KSE-100 انڈیکس نے آج 171,944 پوائنٹس پر بندش دی، جو کہ پچھلے سیشن کی اہم سپورٹ سطح 174,600 سے نیچے کی گراوٹ کا تسلسل ہے۔ یہ گراوٹ وسیع البنیاد فروخت اور ڈیلیوریجنگ کی نشاندہی کرتی ہے، جس سے مارکیٹ میں 170,000 کی نفسیاتی سطح کی طرف مزید دباؤ بڑھ گیا ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) کی آنے والی مانیٹری پالیسی کمیٹی (MPC) کے اجلاس میں شرح سود میں 50 بیسس پوائنٹس کی کمی کا امکان ہے۔ یہ کمی کم ہوتی ہوئی افراطِ زر اور معاشی سرگرمیوں کو متحرک کرنے کی ضرورت کے پیش نظر ہے۔ تاہم، بیرونی کھاتوں پر دباؤ اور عالمی اقتصادی غیر یقینی صورتحال SBP کے فیصلوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، Brent $99 اور WTI $93 کی سطح کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ یہ اضافہ بنیادی طور پر OPEC+ کی جانب سے سپلائی میں ممکنہ کمی اور عالمی طلب میں بہتری کی توقعات سے منسلک ہے، جس سے مارکیٹ میں تنگی کا رجحان پیدا ہو رہا ہے۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں