ڈیجیٹل اثاثوں اور روایتی مالیاتی نظام کے درمیان فاصلہ تیزی سے کم ہوتا جا رہا ہے۔ کرپٹو کرنسی کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ ایسی سہولیات بھی سامنے آ رہی ہیں جو ڈیجیٹل اثاثوں کو روزمرہ کی مالی ضروریات سے جوڑنے میں مدد دے رہی ہیں۔
"psx closed the financial week on negative trend" کے لیے 1139 نتائج۔
ڈیجیٹل اثاثوں اور روایتی مالیاتی نظام کے درمیان فاصلہ تیزی سے کم ہوتا جا رہا ہے۔ کرپٹو کرنسی کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ ایسی سہولیات بھی سامنے آ رہی ہیں جو ڈیجیٹل اثاثوں کو روزمرہ کی مالی ضروریات سے جوڑنے میں مدد دے رہی ہیں۔
Silver (XAG/USD) اس وقت $66–$67 کے اہم area میں trade کر رہا ہے اور حالیہ highs سے correction کا سامنا ہے۔ US Dollar کی مضبوطی اور Federal Reserve کی hawkish policy expectations نے Silver پر pressure بڑھایا ہے۔ $66 support برقرار رہنے کی صورت میں price دوبارہ $68 اور $70 کی طرف بڑھ سکتی ہے، جبکہ $66 سے نیچے break ہونے پر $64 اور $62 اگلے اہم levels بن سکتے ہیں۔
ہانگ کانگ اسٹاک ایکسچینج (HKEX) میں MicroBT کی جانب سے ہانگ کانگ کے پہلے Bitcoin and Gold ETF کا آغاز بھی اسی نوعیت کی ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
WTI Crude Oil Prices اس وقت توجہ کا مرکز بن گئیں جب ایران کی جانب سے امریکی حملوں کے جواب میں میزائل داغے گئے۔ اس کشیدگی نے سرمایہ کاروں کو چوکنا کر دیا ہے، کیونکہ دنیا کے ایک اہم ترین تجارتی راستے یعنی آبنائے ہرمز (Strait Of Hormuz) پر خطرات کے بادل منڈلا رہے ہیں۔
حالیہ دنوں میں مائیکل سیلر کی جانب سے سامنے آنے والے اشارے نے سرمایہ کاروں اور ٹریڈرز کی توجہ ایک بار پھر اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔
پاکستانی روپے (PKR) امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں اپنی قدر کھو رہا ہے، انٹربینک مارکیٹ میں 277.82 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ درآمدی ادائیگیوں کا دباؤ اور عالمی سطح پر ڈالر کی مضبوطی اس گراوٹ کی اہم وجوہات ہیں۔
حالیہ دنوں میں عالمی مارکیٹس میں USDJPY کے حوالے سے خاصی سرگرمی دیکھی جا رہی ہے۔ امریکی ڈالر اور جاپانی ین کا یہ اہم کرنسی پیئر مسلسل اتار چڑھاؤ کا شکار ہے، جبکہ جاپانی ین نفسیاتی سطح 160.00 کے قریب کمزور پوزیشن میں دکھائی دے رہا ہے۔
AUDUSD میں غیر یقینی صورتحال پیدا کی ہے۔ آبنائے ہرمز عالمی توانائی اور تجارت کے لیے ایک انتہائی اہم راستہ ہے۔ اس خطے میں کسی بھی بڑے تنازع یا سپلائی میں رکاوٹ کے خدشات سے سرمایہ کاروں کے ٹرینڈز تیزی سے تبدیل ہو سکتے ہیں۔
پاکستانی روپے (PKR) آج انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں مزید گراوٹ کا شکار ہوا، جو کہ 277.86 پر بند ہوا۔ درآمدی ادائیگیوں کا دباؤ اور عالمی سطح پر ڈالر کی مضبوطی اس رجحان کی بنیادی وجوہات ہیں۔
امریکہ کی جانب سے وینزویلا کے تیل کے شعبے میں بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور سرمایہ کاری سے متعلق پیش رفت نے عالمی Energy Market میں نئی بحث کو جنم دیا ہے۔
پاکستانی روپے (PKR) آج انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں مزید کمزور ہو کر 277.91 پر بند ہوا۔ درآمدی ادائیگیوں کا مسلسل دباؤ اور مقامی مارکیٹ میں ڈالر کی طلب میں اضافہ اس گراوٹ کی بنیادی وجوہات ہیں۔
سونے (XAU/USD) نے فیڈ چیئر کے سخت گیر بیانات کے بعد 4610-4640 کی اہم مزاحمتی سطح سے ایک واضح بیئرش بریک ڈاؤن دکھایا ہے اور اب 4455-4460 کی حمایتی سطح پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ شدید اوور سولڈ RSI کے باوجود، مارکیٹ کا ڈھانچہ مندی کا رجحان ظاہر کرتا ہے، اور پل بیک پر فروخت کی حکمت عملی زیادہ موزوں ہو سکتی ہے۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں