پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں KSE-100 انڈیکس آج 0.12% کی معمولی گراوٹ کے ساتھ 180,105 پوائنٹس پر بند ہوا۔ سرمایہ کاروں نے دن بھر محتاط رویہ اپنائے رکھا۔
"aud usd falls as middle east tensions boost us dollar risk off sentiment deepens" کے لیے 1103 نتائج۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں KSE-100 انڈیکس آج 0.12% کی معمولی گراوٹ کے ساتھ 180,105 پوائنٹس پر بند ہوا۔ سرمایہ کاروں نے دن بھر محتاط رویہ اپنائے رکھا۔
اس تفصیلی مضمون میں ہم جانیں گے کہ Central Bank کیا ہے، یہ کیسے کام کرتا ہے، اور اس کے فیصلے عالمی و علاقائی معیشت کو کس طرح متاثر کرتے ہیں۔
پاکستان کی معروف غذائی مصنوعات بنانے والی کمپنی Nestlé Pakistan نے 2026 کے ابتدائی نو ماہ کے دوران منافع اور فروخت میں اضافہ ریکارڈ کیا ہے، جو کاروباری سرگرمیوں میں بہتری اور آپریٹنگ کارکردگی میں اضافے کی عکاسی کرتا ہے۔
امریکی Commodity Futures Trading Commission (CFTC) نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ CME Group محض ممکنہ مسابقت کی بنیاد پر اس کے ریگولیٹری فیصلے کو چیلنج کرنے کا قانونی جواز ثابت نہیں کر سکا۔
BTC کی تازہ دستیاب قیمت تقریباً 85,000 ڈالر ہے؛ سات دن کی بلند سطح 87,330 ڈالر کے قریب رہی، اس لیے حالیہ بحالی کے باوجود پچھلی چوٹی ابھی دوبارہ حاصل نہیں ہوئی۔ 21 سے 25 ستمبر کے دوران امریکی Bitcoin ETF میں تقریباً 2.386 ارب ڈالر کی خالص آمد ہوئی؛ یہ مثبت طلب ہے، مگر تمام سرمایہ صرف ادارہ جاتی خریداروں کا نہیں سمجھا جاسکتا۔ BTC فنڈز کی روزانہ خالص آمد پیر کے 999 ملین سے جمعہ کو 134.5 ملین ڈالر رہ گئی؛ پانچوں سیشن مثبت تھے، لیکن خریداری کی روزانہ رفتار مسلسل کم ہوئی۔ ETH تقریباً 2,714 ڈالر ہے اور ہفتے میں 2,804 ڈالر تک جاچکا ہے؛ 2,750 سے 2,820 کی مزاحمت کے اوپر قیام اہم ہے، جبکہ ہفتہ وار ETF آمد تقریباً 690 ملین ڈالر رہی۔ BTC کے لیے 83,800 سے 84,000 کی حمایت اور 85,000 سے 85,800 کی مزاحمت قابلِ توجہ ہیں؛ ETH/BTC تقریباً 0.032 ہونے سے وسیع آلٹ کوائن گردش خودبخود ثابت نہیں ہوتی۔
زوما ریسورسز لمیٹڈ نے اپنی بین الاقوامی توسیع کی حکمت عملی کے تحت برطانیہ میں ایک مکمل ملکیتی ذیلی کمپنی قائم کر دی ہے۔ اس اہم قدم کا مقصد عالمی سطح پر ڈیجیٹل رابطوں اور ٹیکنالوجی کے کاروبار کو وسعت دینا ہے۔
دنیا کے سب سے بڑے خام تیل فراہم کنندہ سعودی عرب کی برآمدات اور اہم سمندری گزرگاہوں پر منڈلاتے ہوئے خطرات نہ صرف خطے کی سلامتی بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی تشویشناک ہیں
گذشتہ چوبیس گھنٹوں میں یمنی ساحل پر ہونے والی فوجی پیش رفت اور بحیرہ احمر (Red Sea) میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی فنانشل مارکیٹس اور کماڈٹی ٹریڈرز کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ Red Sea oil supply disruption کا خطرہ اب محض ایک نظریاتی بحث نہیں رہا بل
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج ایک شدید زلزلہ خیز صورتحال دیکھنے میں آئی جب مشرق وسطی کی انتہائی کشیدہ صورتحال کی زیر سایہ PSX کا بینچ مارک انڈیکس 3,000 پوائنٹس سے زائد کی بڑی گراوٹ کے ساتھ بند ہوا۔
WTI Crude Oil Prices اس وقت توجہ کا مرکز بن گئیں جب ایران کی جانب سے امریکی حملوں کے جواب میں میزائل داغے گئے۔ اس کشیدگی نے سرمایہ کاروں کو چوکنا کر دیا ہے، کیونکہ دنیا کے ایک اہم ترین تجارتی راستے یعنی آبنائے ہرمز (Strait Of Hormuz) پر خطرات کے بادل منڈلا رہے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ( نے ایران کے خلاف ایک انتہائی سخت، غیر معمولی اور تباہ کن معاشی کارروائی شروع کرنے کا باضابطہ اعلان کیا ہے
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں