آج انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر پاکستانی روپے کے مقابلے میں 277.92 روپے پر بند ہوا، جبکہ روپے نے 0.40% کی معمولی بہتری دکھائی۔ عالمی DXY انڈیکس میں بھی معمولی اضافہ دیکھا گیا۔
"positive trend in psx kse100 reached multi years high level" کے لیے 1138 نتائج۔
آج انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر پاکستانی روپے کے مقابلے میں 277.92 روپے پر بند ہوا، جبکہ روپے نے 0.40% کی معمولی بہتری دکھائی۔ عالمی DXY انڈیکس میں بھی معمولی اضافہ دیکھا گیا۔
کمزور امریکی معاشی اعداد و شمار کے باعث 2026 میں فیڈ کی شرحِ سود میں اضافے کی توقعات کم ہوگئیں، جس سے ڈالر دباؤ میں ہے جبکہ سونا، یورو اور پاؤنڈ مضبوط ہیں۔
Gold سونا 4,400 ڈالر کے قریب مضبوط ہے، جبکہ کمزور امریکی ڈیٹا اور فیڈ ریٹ ہائیک کی گھٹتی توقعات قیمت کو سپورٹ کر رہی ہیں۔
آج انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں معمولی بہتری دیکھی گئی، جبکہ عالمی سطح پر DXY انڈیکس میں گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔
آج 16 اگست 2026 کو کرپٹو مارکیٹ میں Bitcoin اور Ethereum دونوں میں معمولی اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔ پاکستانی P2P مارکیٹ میں USDT/PKR کی قیمت 277.57 روپے پر مستحکم رہی۔
EUR/USD نئے ہفتے میں 1.1500 سے اوپر تیزی کے رجحان کے ساتھ داخل ہو رہا ہے، جبکہ کمزور امریکی معاشی اعداد و شمار نے ڈالر پر دباؤ بڑھایا ہے۔ FOMC Minutes اور یورو زون کے معاشی اعداد و شمار پیئر کی اگلی بڑی سمت کا تعین کر سکتے ہیں۔
16 اگست 2026 کو سونے کی عالمی اور مقامی قیمتیں بغیر کسی بڑی تبدیلی کے مستحکم رہیں، جبکہ ڈالر انڈیکس (DXY) 99.64 پر مستحکم رہا۔
اس تفصیلی مضمون میں ہم جانیں گے کہ Central Bank کیا ہے، یہ کیسے کام کرتا ہے، اور اس کے فیصلے عالمی و علاقائی معیشت کو کس طرح متاثر کرتے ہیں۔
افراط زر صرف اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے کا نام نہیں۔ بلکہ یہ ایک ایسا خاموش طوفان ہے۔ جو کسی بھی ملک کی معیشت، کرنسی کی قدر اور عوام کی قوتِ خرید کو اندر سے کمزور کر دیتا ہے۔
امریکہ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی IAEA کے آئندہ اجلاس میں ایران کے معاملے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل تک بھیجنے والی قرارداد کی حمایت کر رہے ہیں۔ رائٹرز کی جانب سے دیکھے گئے مجوزہ متن کے مطابق قرارداد IAEA کے ڈائریکٹر جنرل سے موجودہ اور سابقہ قراردادیں سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کو منتقل کرنے کا مطالبہ کرے گی۔ مجوزہ قرارداد ابھی باضابطہ طور پر جمع نہیں ہوئی، اس لیے ایران کو سلامتی کونسل رپورٹ کیا جانا ابھی منظور شدہ فیصلہ نہیں۔ IAEA کے مطابق ایران نے بمباری سے متاثرہ تنصیبات تک مکمل رسائی بحال نہیں کی اور ایجنسی افزودہ یورینیم کے ذخائر کی موجودہ مقدار کی تصدیق نہیں کر پا رہی۔ اگر قرارداد منظور ہوتی ہے تو یہ تقریباً 20 سال بعد ایران کے جوہری معاملے کو IAEA بورڈ سے سلامتی کونسل تک لے جانے کی ایک بڑی سفارتی کشیدگی ہوگی۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں