آج انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر پاکستانی روپے کے مقابلے میں 277.92 روپے پر بند ہوا، جبکہ روپے نے 0.40% کی معمولی بہتری دکھائی۔ عالمی DXY انڈیکس میں بھی معمولی اضافہ دیکھا گیا۔
"psx closed the financial week on negative trend" کے لیے 1139 نتائج۔
آج انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر پاکستانی روپے کے مقابلے میں 277.92 روپے پر بند ہوا، جبکہ روپے نے 0.40% کی معمولی بہتری دکھائی۔ عالمی DXY انڈیکس میں بھی معمولی اضافہ دیکھا گیا۔
NZDUSD کمزور چینی معاشی ڈیٹا اور Retail Sales میں سست نمو کے باعث 0.5900 سے نیچے تقریباً 0.5895 تک آ گیا۔ چین میں جولائی کی Industrial Production اور Retail Sales کی شرحیں مارکیٹ کی توقعات سے کم رہیں، جس سے نیوزی لینڈ ڈالر متاثر ہوا۔
امریکی ڈالر کی کمزوری اور ECB کی شرحِ سود میں اضافے کی توقعات سے EUR/USD کو سپورٹ مل رہی ہے۔ 1.1600 اہم مزاحمتی سطح ہے۔
کمزور امریکی معاشی اعداد و شمار کے باعث 2026 میں فیڈ کی شرحِ سود میں اضافے کی توقعات کم ہوگئیں، جس سے ڈالر دباؤ میں ہے جبکہ سونا، یورو اور پاؤنڈ مضبوط ہیں۔
Gold سونا 4,400 ڈالر کے قریب مضبوط ہے، جبکہ کمزور امریکی ڈیٹا اور فیڈ ریٹ ہائیک کی گھٹتی توقعات قیمت کو سپورٹ کر رہی ہیں۔
آج 17 اگست 2026 کو سونے کی قیمتیں مقامی اور عالمی منڈیوں میں مستحکم رہیں، پاکستانی مارکیٹ میں 24 قیراط سونا 453,700 روپے فی تولہ پر برقرار ہے جبکہ عالمی سطح پر XAU/USD $4,392.20 پر ٹریڈ ہو رہا ہے۔
آج انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں معمولی بہتری دیکھی گئی، جبکہ عالمی سطح پر DXY انڈیکس میں گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔
کرپٹو کرنسی کی دنیا میں Security سب سے اہم ستون ہے، کیونکہ یہاں معمولی سی غفلت بھی سرمایہ کاروں کے لیے بڑے مالی نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔ حالیہ SafePal Data Breach نے ایک بار پھر Crypto Security کے حوالے سے اہم سوالات اٹھا دیے ہیں۔
16 اگست 2026 کو سونے کی عالمی اور مقامی قیمتیں بغیر کسی بڑی تبدیلی کے مستحکم رہیں، جبکہ ڈالر انڈیکس (DXY) 99.64 پر مستحکم رہا۔
افراط زر صرف اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے کا نام نہیں۔ بلکہ یہ ایک ایسا خاموش طوفان ہے۔ جو کسی بھی ملک کی معیشت، کرنسی کی قدر اور عوام کی قوتِ خرید کو اندر سے کمزور کر دیتا ہے۔
امریکہ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی IAEA کے آئندہ اجلاس میں ایران کے معاملے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل تک بھیجنے والی قرارداد کی حمایت کر رہے ہیں۔ رائٹرز کی جانب سے دیکھے گئے مجوزہ متن کے مطابق قرارداد IAEA کے ڈائریکٹر جنرل سے موجودہ اور سابقہ قراردادیں سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کو منتقل کرنے کا مطالبہ کرے گی۔ مجوزہ قرارداد ابھی باضابطہ طور پر جمع نہیں ہوئی، اس لیے ایران کو سلامتی کونسل رپورٹ کیا جانا ابھی منظور شدہ فیصلہ نہیں۔ IAEA کے مطابق ایران نے بمباری سے متاثرہ تنصیبات تک مکمل رسائی بحال نہیں کی اور ایجنسی افزودہ یورینیم کے ذخائر کی موجودہ مقدار کی تصدیق نہیں کر پا رہی۔ اگر قرارداد منظور ہوتی ہے تو یہ تقریباً 20 سال بعد ایران کے جوہری معاملے کو IAEA بورڈ سے سلامتی کونسل تک لے جانے کی ایک بڑی سفارتی کشیدگی ہوگی۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں