پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں KSE-100 انڈیکس آج ایک تنگ رینج میں مستحکم رہا، جہاں معمولی منفی تبدیلی کے ساتھ سرمایہ کاروں نے محتاط رویہ اپنایا۔ مارکیٹ کی چوڑائی میں کمی اور مخصوص سیکٹرز میں محدود سرگرمیوں نے کوئی واضح رجحان قائم نہیں ہونے دیا۔
"us stocks closed on negative trend after release of fomc minutes" کے لیے 1184 نتائج۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں KSE-100 انڈیکس آج ایک تنگ رینج میں مستحکم رہا، جہاں معمولی منفی تبدیلی کے ساتھ سرمایہ کاروں نے محتاط رویہ اپنایا۔ مارکیٹ کی چوڑائی میں کمی اور مخصوص سیکٹرز میں محدود سرگرمیوں نے کوئی واضح رجحان قائم نہیں ہونے دیا۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں KSE-100 انڈیکس آج ایک محدود رینج میں مستحکم رہا، جہاں مثبت اور منفی عوامل کے درمیان توازن برقرار رہا۔ انڈیکس میں معمولی 0.00% کی تبدیلی دیکھی گئی، جو دن بھر 176,609 اور 178,123 کے درمیان رہا۔ مارکیٹ میں کمزور breadth اور کم ٹرن اوور نے سرمایہ کاروں کی محتاط حکمت عملی کو نمایاں کیا۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج KSE-100 انڈیکس 0.48% اضافے کے ساتھ 177,434 پوائنٹس پر بند ہوا، دن بھر کی ٹریڈنگ میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔
آج پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں KSE-100 انڈیکس معمولی گراوٹ کے ساتھ 176,592 پوائنٹس پر بند ہوا، دن بھر مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کا راج رہا۔
سرمایہ کاری کی سادہ تعریف، بچت اور سرمایہ کاری کا فرق، اور مہنگائی کے مقابلے میں پیسے کی حقیقی طاقت کیسے بڑھائیں۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں KSE-100 انڈیکس 180,502 پوائنٹس پر بند ہوا، معمولی تبدیلی کے ساتھ۔ سرمایہ کار آئندہ حکومتی پالیسیوں اور معاشی اشاروں کا انتظار کر رہے ہیں۔
امریکہ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی IAEA کے آئندہ اجلاس میں ایران کے معاملے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل تک بھیجنے والی قرارداد کی حمایت کر رہے ہیں۔ رائٹرز کی جانب سے دیکھے گئے مجوزہ متن کے مطابق قرارداد IAEA کے ڈائریکٹر جنرل سے موجودہ اور سابقہ قراردادیں سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کو منتقل کرنے کا مطالبہ کرے گی۔ مجوزہ قرارداد ابھی باضابطہ طور پر جمع نہیں ہوئی، اس لیے ایران کو سلامتی کونسل رپورٹ کیا جانا ابھی منظور شدہ فیصلہ نہیں۔ IAEA کے مطابق ایران نے بمباری سے متاثرہ تنصیبات تک مکمل رسائی بحال نہیں کی اور ایجنسی افزودہ یورینیم کے ذخائر کی موجودہ مقدار کی تصدیق نہیں کر پا رہی۔ اگر قرارداد منظور ہوتی ہے تو یہ تقریباً 20 سال بعد ایران کے جوہری معاملے کو IAEA بورڈ سے سلامتی کونسل تک لے جانے کی ایک بڑی سفارتی کشیدگی ہوگی۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں