AP نے امریکی اہلکار کے حوالے سے ایرانی ٹینکروں پر نئی امریکی کارروائی رپورٹ کی ہے؛ ایرانی سرکاری ٹی وی نے خارک اور جاسک کے قریب حملوں کی اطلاع دی۔ امریکی اہلکار نے کارروائی کو بحری جنگی جہاز پر ایرانی میزائل حملوں کی کوشش کا جواب قرار دیا؛ یہ مؤقف اہلکار سے منسوب ہے، آزاد فوجی تحقیق کا نتیجہ نہیں۔ CENTCOM نے 5 ستمبر کو تین ایرانی ٹینکروں کے خلاف کارروائی کا اعلان کیا تھا؛ تازہ حملوں کے تمام اہداف اور نقصان کی تفصیلی عوامی تصدیق باقی ہے۔ خارک ایران کی خام تیل برآمدات کا مرکزی مقام ہے، جبکہ جاسک ہرمز کے مشرق میں واقع ہے؛ ٹینکروں پر حملے اور برآمدی ٹرمینل کو نقصان الگ حقائق ہیں۔ تیل پہلے ہی 100 ڈالر کے قریب رہا ہے؛ مسلسل حملے جہاز رانی، بیمہ اور برآمدی لاگت بڑھا سکتے ہیں، مگر تازہ کارروائی سے رسد میں کمی کی مقدار ابھی واضح نہیں۔