بنیادی سفارش: نارجس بینک انویسٹمنٹ مینجمنٹ (NBIM) نے اپنے بانڈ اشاریے میں سرکاری بانڈز کا وزن 70 فیصد سے کم کر کے 50 فیصد کرنے کی باضابطہ تجویز دی ہے۔ امریکی ٹریژریز پر اثر: نئی ساخت نافذ ہونے کی صورت میں امریکی سرکاری قرض میں فنڈ کی ہولڈنگز میں اندازاً 80 ارب ڈالر کی کمی بن سکتی ہے۔ وزن میں ردوبدل: بینچ مارک میں امریکی سرکاری قرض کا حصہ 34.1 فیصد سے کم ہو کر 21.9 فیصد رہ جائے گا، تاہم مجموعی امریکی ڈالر اثاثوں کا وزن 52.5 فیصد کے قریب مستحکم رہے گا۔ نفاذ کا ٹائم فریم: یہ فوری فروخت نہیں ہے؛ قانون سازوں کی منظوری کی صورت میں بھی اس پالیسی پر عملی عمل درآمد 2027 کے وسط سے پہلے متوقع نہیں۔ حکمتِ عملی کا اصل رخ: یہ پیش رفت امریکی ڈالر سے انخلا نہیں، بلکہ امریکی سرکاری بانڈز سے سرمایہ نکال کر نسبتاً زیادہ منافع بخش مارگیج بیکڈ سیکیورٹیز اور دیگر امریکی کارپوریٹ قرضوں میں منتقل کرنے کی اندرونی ری بیلنسنگ ہے۔