EURUSD: کیوں 1.1600 کی سطح پر اتار چڑھاؤ جاری ہے؟ امریکی ڈالر اور ملازمتوں کے اعداد و شمار کا تجزیہ

A sharp look at EURUSD’s tight range near 1.1600 as markets brace for U.S. economic signals

EURUSD 1.1600 Range Analysis کے تحت، یہ دیکھنا ضروری ہے. کہ یورو (EUR) اور امریکی ڈالر (USD) کی جوڑی اس وقت 1.1600 کی سطح کے آس پاس کیوں پھنسی ہوئی ہے۔ حالیہ دنوں میں 1.1656 کی دو ہفتوں کی اونچی سطح سے اصلاحی حرکت (Corrective Move) کے بعد، یہ جوڑی محتاط انداز میں تجارت کر رہی ہے۔

اہم وجہ یہ ہے کہ مارکیٹ میں خطرے سے گریز (Risk Aversion) کا موڈ ہے. جس کے نتیجے میں سرمایہ کار محفوظ پناہ گاہ (Safe-Haven) سمجھے جانے والے امریکی ڈالر کی طرف رجوع کر رہے ہیں۔ یہ دباؤ اس بات کی عکاسی کرتا ہے. کہ محض معمولی تکنیکی بحالی کے باوجود بھی، بنیادی (Fundamental) عوامل ڈالر کو مستحکم کر رہے ہیں۔

اہم نکات

  • EURUSD کا اتار چڑھاؤ: EURUSD جوڑی 1.1600 کے قریب ایک تنگ دائرے (narrow range) میں تجارت کر رہی ہے. جس کی بنیادی وجہ بڑھتی ہوئی خطرے سے گریز (Risk Aversion) کی فضا ہے۔

  • امریکی ڈالر کی سپورٹ: فیڈرل ریزرو (Federal Reserve – Fed) کی جانب سے دسمبر میں شرح سود کو برقرار رکھنے کی توقعات امریکی ڈالر (USD) کو سپورٹ کر رہی ہیں. جس سے خطرے سے حساس اثاثوں پر دباؤ ہے۔

  • بنیادی محرک (Fundamental Driver): آج جاری ہونے والے اے ڈی پی (ADP) کے روزگار میں تبدیلی (Employment Change) کے اعداد و شمار مارکیٹ کی سمت کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ منفی رپورٹ USD کی بحالی کو محدود کر سکتی ہے۔

  • ٹیکنیکل رکاوٹیں (Technical Hurdles): 38.2% فیبونچی ریٹریسمنٹ (Fibonacci Retracement) کی سطح 1.1628 پر قریبی مزاحمت (resistance) کا کردار ادا کر رہی ہے. جبکہ 50 اور 100 ادوار کی سمپل موونگ ایوریجز (SMAs) مضبوط سپورٹ فراہم کر رہی ہیں۔

EURUSD کی موجودہ صورتحال: خطرے سے گریز کا ماحول

EURUSD 1.1600 Range Analysis کے تحت، یہ دیکھنا ضروری ہے. کہ یورو (EUR) اور امریکی ڈالر (USD) کی جوڑی اس وقت 1.1600 کی سطح کے آس پاس کیوں پھنسی ہوئی ہے۔

حالیہ دنوں میں 1.1656 کی دو ہفتوں کی اونچی سطح سے اصلاحی حرکت (Corrective Move) کے بعد، یہ جوڑی محتاط انداز میں تجارت کر رہی ہے۔ اہم وجہ یہ ہے کہ مارکیٹ میں خطرے سے گریز (Risk Aversion) کا موڈ ہے. جس کے نتیجے میں سرمایہ کار محفوظ پناہ گاہ (Safe-Haven) سمجھے جانے والے امریکی ڈالر کی طرف رجوع کر رہے ہیں۔

یہ دباؤ اس بات کی عکاسی کرتا ہے. کہ محض معمولی تکنیکی بحالی کے باوجود بھی، بنیادی (Fundamental) عوامل ڈالر کو مستحکم کر رہے ہیں۔

EURUSD اس وقت 1.1600 کے قریب ایک تنگ دائرے (Narrow Range) میں تجارت کر رہا ہے کیونکہ سرمایہ کار درمیانی درجے کے امریکی معاشی اعداد و شمار کے اجراء سے قبل محتاط ہیں۔ بڑھتی ہوئی خطرے سے گریز (Risk Aversion) کی فضا امریکی ڈالر کو سپورٹ کر رہی ہے.

Federal Reserve کی جانب سے دسمبر میں پالیسی کو برقرار رکھنے کی توقعات بھی ڈالر کے انڈیکس (USD Index) کو تقویت دے رہی ہیں۔ قریبی مزاحمت 1.1628 پر موجود ہے. جو مزید تیزی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔

امریکی ڈالر اور فیڈ کی پالیسی کا کردار

امریکی ڈالر (USD) ان دنوں دو اہم عوامل کی وجہ سے اپنی پچھلی گراوٹ سے نکلنے کی کوشش کر رہا ہے۔

  1. فیڈرل ریزرو کی توقعات: مارکیٹ میں یہ توقعات زور پکڑ رہی ہیں. کہ فیڈرل ریزرو دسمبر میں شرح سود (Interest Rates) کو مزید نہیں بڑھائے گا۔ بظاہر یہ توقع ڈالر کے لیے منفی لگ سکتی ہے.

  2. لیکن اس وقت مارکیٹ اسے ایک پالیسی ہولڈ (policy hold) کے طور پر دیکھ رہی ہے. جو کہ دیگر G10 مرکزی بینکوں کی نسبت اب بھی زیادہ جارحانہ (Hawkish) ہے۔ اس سے ڈالر کو سپورٹ ملتی ہے کیونکہ بین الاقوامی سرمایہ کاری کے لیے امریکی اثاثے پرکشش بنے رہتے ہیں۔

  3. خطرہ اور ایکویٹی مارکیٹس: گزشتہ روز وال سٹریٹ (Wall Street) کے اہم انڈیکسز میں بڑی گراوٹ دیکھی گئی. جس کے بعد USD انڈیکس میں تقریباً 0.3% کا اضافہ ہوا۔ امریکی اسٹاک انڈیکس فیوچرز (US stock index futures) میں جاری گراوٹ (0.5% سے 1% تک) اس بات کا اشارہ ہے. کہ مارکیٹ کا موڈ منفی ہے۔ جب امریکی ایکویٹی مارکیٹس (Equity Markets) گرتی ہیں، تو سرمایہ کار ڈالر کو ایک محفوظ پناہ گاہ (Safe Haven) کے طور پر دیکھتے ہیں. جو EURUSD جوڑی پر مزید دباؤ ڈالتا ہے۔

یرا دس سالہ تجربہ بتاتا ہے کہ جب بھی ایکویٹی مارکیٹس میں اچانک اور شدید خطرے سے گریز (Risk Aversion) کا ماحول پیدا ہوتا ہے، تو صرف شرح سود کی توقعات ہی نہیں. بلکہ عالمی فنانشل سسٹم میں ڈالر کی مرکزی حیثیت (Centrality) اسے فوری طور پر سپورٹ فراہم کرتی ہے۔

2013-14 کے ٹیپر ٹینٹرم (Taper Tantrum) جیسی صورتحال میں بھی، مختصر مدت کے لیے ڈالر کی طلب میں اضافہ ہوا تھا. قطع نظر اس کے کہ فیڈ کیا کرنے والا ہے۔ لہذا، موجودہ صورتحال محض ایک ڈیٹا پوائنٹ کا اثر نہیں. بلکہ عالمی لیکویڈیٹی (global liquidity) کا میٹرکس (metric) بھی ہے۔

آج کے لیے اہم ڈیٹا: اے ڈی پی (ADP) روزگار کی رپورٹ کی اہمیت کیا ہے؟

EURUSD کی اگلی بڑی حرکت کا انحصار آج جاری ہونے والے امریکی معاشی ڈیٹا پر ہوگا. جس میں اے ڈی پی  کی ہفتہ وار روزگار میں تبدیلی (Employment Change) کے اعداد و شمار سرفہرست ہیں۔

  • حالیہ رجحان: اے ڈی پی نے گزشتہ ہفتے رپورٹ کیا تھا کہ نجی شعبے کے آجروں نے 25 اکتوبر کو ختم ہونے والے چار ہفتوں میں اوسطاً 11,250 ملازمتیں ہفتہ وار بنیادوں پر کم کی ہیں۔ یہ رپورٹ لیبر مارکیٹ میں کمزوری کا اشارہ ہے۔

  • مارکیٹ پر اثر:

    • منفی رپورٹ: اگر آج پھر ملازمتوں میں کمی (Negative Print) کی اطلاع ملتی ہے. تو یہ امریکی لیبر مارکیٹ (labor market) کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے خدشات کو دوبارہ زندہ کر دے گا۔ اس سے فیڈ پر دسمبر میں سختی نہ کرنے کا دباؤ بڑھے گا. اور ڈالر کی بحالی محدود ہو جائے گی. یا الٹ جائے گی۔ اس صورت میں، EURUSD کو سپورٹ مل سکتی ہے۔

    • مثبت رپورٹ: اگر روزگار میں نمایاں اضافہ (Noticeable Rebound) ہوتا ہے. تو یہ ڈالر کو تقویت دے گا. اور فوری ردعمل میں اسے اوپر لے جائے گا۔

    • بہتر لیبر مارکیٹ کی صورت میں، مجموعی طور پر مارکیٹ کا موڈ (Market Mood) بھی بہتر ہو سکتا ہے، جس سے امریکی اسٹاکس میں بھی بحالی ممکن ہے. اور اس سے امریکی سیشن کے بعد میں EURUSD کو بھی کچھ سہارا مل سکتا ہے۔

EURUSD 1.1600 Range Analysis: ٹیکنیکل آؤٹ لک

تکنیکی تجزیے  (Technical Analysis) کے مطابق، EURUSD جوڑی اس وقت ایک ملا جلا قریبی مدت کا رجحان (Mixed Near-Term Bias) ظاہر کر رہی ہے۔

ٹیکنیکل لیول (Technical Level) سطح (Price) کردار (Role) اہمیت (Significance)
فوری مزاحمت (Immediate Resistance) 1.1628 فیبونچی 38.2% ریٹریسمنٹ (Fibonacci 38.2% Retracement) اس کے اوپر بریک آؤٹ (breakout) کی ضرورت ہے۔
اہم سپورٹ (Key Support) 1.1600 200-مدت SMA (200-period SMA) / نفسیاتی سطح (Psychological Level) رجحان کا محوری نقطہ (Pivot Level)۔
اگلی مزاحمت (Next Resistance) 1.1678 فیبونچی 50% ریٹریسمنٹ 1.1628 کو توڑنے پر ہدف۔
سپورٹ زون (Support Zone) 1.1567 فیبونچی 23.6% ریٹریسمنٹ / جامد سپورٹ (Static Support) قریبی دفاعی سطح (Defensive Level)۔

حرکت پذیر اوسطیں (Moving Averages – SMAs)

  • 20-مدت SMA: یہ 50 اور 100-مدت SMAs سے اوپر بڑھ رہا ہے. جو خریداروں کی کچھ قریبی طاقت کو ظاہر کرتا ہے۔

  • 200-مدت SMA: یہ 1.1600 سے تھوڑا اوپر ایک محوری سطح (Pivot Level) کے طور پر کام کر رہا ہے۔ جب تک قیمت اس سے نیچے ہے، مجموعی ٹیکنیکل جھکاؤ (Technical Inclination) محتاط رہے گا۔

  • 50- اور 100-مدت SMAs: یہ قیمت سے نیچے بڑھ رہے ہیں. اور مضبوط زیریں سپورٹ (underlying support) فراہم کر رہے ہیں. جو فروخت کنندگان (Sellers) کے لیے آسانی سے راستہ توڑنا مشکل بنا رہا ہے۔

    EURUSD as on 18th November 2025
    EURUSD as on 18th November 2025

مومنٹم انڈیکیٹر (Momentum Indicator)

  • ریلیٹو سٹرینتھ انڈیکس (RSI): RSI اسوقت 49.5 کے قریب کھڑا ہے. اور ہلکا سا اوپر جا رہا ہے. جو اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے. کہ بیچنے اور خریدنے کا مومنٹم مستحکم (stabilizing) ہو رہا ہے. اور فی الحال کسی واضح حد سے زیادہ خرید (Overbought) یا حد سے زیادہ فروخت (Oversold) کی صورتحال میں نہیں ہے۔

 

مستقبل کی تکنیکی سمت. 

EURUSD کے لیے اگلی بڑی حرکت کے لیے، مارکیٹ کو 1.1628 کی فیبونچی مزاحمت کو واضح طور پر توڑنا ہوگا. یا پھر 1.1600 کی محوری سطح سے نیچے پھسلنا ہوگا۔

  • تیزی کا منظر (Bullish Scenario): 1.1628 سے اوپر کا ایک مضبوط بریک آؤٹ 1.1678 (50% ریٹریسمنٹ) کی طرف راستہ کھول دے گا. خاص طور پر اگر ADP رپورٹ بہتری کا اشارہ دے اور مارکیٹ کا موڈ ٹھیک ہو۔

  • مندی کا منظر (Bearish Scenario): 1.1600 کی نفسیاتی اور 200-مدت SMA سطح سے نیچے کا وقفہ (Break) جوڑی کو 1.1567 اور بالآخر 1.1451 کی سپورٹ کی طرف دھکیل سکتا ہے. جو کہ منفی ADP رپورٹ اور سخت خطرے سے گریز کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔

توازن اور احتیاط کی حکمت عملی

EURUSD جوڑی ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑی ہے. جہاں قریبی ٹیکنیکل لیولز اور اہم امریکی ڈیٹا کی آمد دونوں اسے ایک نئی سمت دے سکتے ہیں۔ ایک تجربہ کار ٹریڈر کے طور پر، میرا مشورہ ہے. کہ مارکیٹ کے بنیادی محرکات (Fundamental Drivers) کو کبھی نظر انداز نہ کریں۔

اگرچہ تکنیکی تجزیہ ہمیں انٹری اور ایگزٹ پوائنٹس (Entry and Exit Points) فراہم کرتا ہے. لیکن اے ڈی پی جیسی رپورٹیں قلیل مدتی رجحان کو مکمل طور پر بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

1.1600 کی سطح سے اوپر نیچے کا فیصلہ صرف اس وقت مستحکم ہوگا. جب مارکیٹ کو امریکی لیبر مارکیٹ کی اصل صحت کے بارے میں زیادہ واضح اشارہ مل جائے۔ جب تک کوئی واضح محرک نہیں آتا، ٹریڈرز کو اس رینج کے اندر کم اور زیادہ (Low and High) کے درمیان تجارت کی حکمت عملی (Range-Bound Strategy) پر غور کرنا چاہیے۔

آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا اے ڈی پی کی رپورٹ فیڈ کو دسمبر میں کوئی قدم اٹھانے پر مجبور کرے گی. یا امریکی ڈالر اپنی محفوظ پناہ گاہ کی حیثیت کو برقرار رکھے گا؟ نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں۔

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button