Chart Pro 👤 لاگ ان (Login)
عالمی انڈیکسز

ڈاؤ جونز فیوچرز پر دباؤ، ٹیکنالوجی کمپنیوں کے مایوس کن نتائج اور Fed Rate Hike کے خدشات

★اہم نکات

  • •اہم نکات
  • •ٹیکنالوجی کمپنیوں کے معاشی نتائج نے عالمی اسٹاکس کی سمت تبدیل کر دی
  • •Alphabet کے اسٹاکس میں 12.6 فیصد کمی
Robina Adeel
Robina Adeel ←

62 مشاہدات

ڈاؤ جونز فیوچرز میں گراوٹ، ٹیکنالوجی کمپنیوں کے حصص میں مندی اور امریکی فیڈرل ریزرو کی شرح سود سے متعلق خدشات کی عکاسی کرتی مالیاتی تصویر۔
ٹیکنالوجی کمپنیوں کی مایوس کن آمدنی اور فیڈرل ریزرو کی شرح سود میں اضافے کے خدشات کے باعث ڈاؤ جونز فیوچرز دباؤ کا شکار۔

امریکی اسٹاک مارکیٹ میں بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے مایوس کن مالیاتی نتائج اور مستقبل کی آمدنی سے متعلق محتاط پیش گوئیوں نے سرمایہ کاروں کا اعتماد متاثر کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں Dow Jones Futures، S&P 500 Futures اور Nasdaq 100 Futures میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ دوسری جانب امریکی معیشت کی توقعات سے بہتر شرح نمو نے Federal Reserve کی جانب سے آئندہ مہینوں میں شرح سود بڑھانے کے خدشات کو تقویت دی ہے، جس سے مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال مزید بڑھ گئی ہے۔

Amazon، Intel اور Alphabet کے معاشی نتائج اور کاروباری امکانات سرمایہ کاروں کی توقعات پر پورا نہیں اتر سکے۔ بالخصوص مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری، کمپنیوں کے اخراجات اور روایتی کاروبار پر ممکنہ اثرات نے ٹیکنالوجی اسٹاکس پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔

اہم نکات

  1. Dow Jones Futures میں 0.05 فیصد کمی ہوئی اور انڈیکس تقریباً 52,490 پوائنٹس پر آگیا۔

  2. S&P 500 Futures تقریباً 0.90 فیصد گر کر 7,680 پوائنٹس کے قریب آگئے۔

  3. Nasdaq 100 Futures میں 2 فیصد سے زیادہ کمی ہوئی اور یہ تقریباً 28,960 پوائنٹس پر آگیا۔

  4. Amazon کے شیئرز توقعات سے کم آمدنی اور فروخت کے باعث پری مارکیٹ ٹریڈنگ میں 7 فیصد سے زیادہ گر گئے۔

  5. Intel کے اسٹاکس کمزور کاروباری تخمینے کے بعد تقریباً 23 فیصد نیچے آگئے۔

  6. امریکی معیشت کی تیسری سہ ماہی کی شرح نمو 3.4 فیصد رہی، جو مارکیٹ کی 3.2 فیصد توقع سے زیادہ تھی۔

  7. مارکیٹ میں دسمبر کے دوران Federal Reserve کی جانب سے 25 بیسس پوائنٹس شرح سود بڑھانے کا امکان تقریباً 75 فیصد تک پہنچ گیا۔

ٹیکنالوجی کمپنیوں کے معاشی نتائج نے عالمی اسٹاکس کی سمت تبدیل کر دی

Dow Jones Futures اور امریکی فیوچرز مارکیٹ میں منفی رجحان کی بنیادی وجہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے مالیاتی نتائج اور آئندہ سہ ماہیوں کے حوالے سے محتاط اندازے ہیں۔ سرمایہ کاروں کو توقع تھی کہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بڑھتی ہوئی طلب ٹیکنالوجی کمپنیوں کی آمدنی اور منافع میں نمایاں اضافہ کرے گی، تاہم حالیہ نتائج نے اس امید کو مکمل طور پر تقویت نہیں دی۔

Amazon کے شیئرز پری مارکیٹ ٹریڈنگ میں 7 فیصد سے زیادہ گر گئے، کیونکہ کمپنی کی آمدنی اور فروخت دونوں مارکیٹ کی توقعات سے کم رہیں۔ اس کے علاوہ کمپنی نے مصنوعی ذہانت کی خدمات اور انفراسٹرکچر کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے کے لیے سرمایہ جاتی اخراجات میں نمایاں اضافے کا اعلان کیا۔

اس پیش رفت نے سرمایہ کاروں کے سامنے ایک اہم سوال کھڑا کر دیا ہے کہ آیا مصنوعی ذہانت میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری مستقبل میں اسی رفتار سے منافع پیدا کر سکے گی یا بڑھتے ہوئے اخراجات کمپنیوں کے مالیاتی نتائج پر دباؤ برقرار رکھیں گے۔

Intel کی شیئر ویلیو میں 23 فیصد کمی، PC مارکیٹ کی کمزور طلب تشویش کا باعث

Intel کے شیئر کی قدر میں تقریباً 23 فیصد کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی، جس کی بنیادی وجہ کمپنی کی آئندہ سہ ماہی کے لیے کمزور کاروباری پیش گوئی تھی۔ کمپنی نے پرسنل کمپیوٹرز کی مارکیٹ میں طلب نرم پڑنے کو اس محتاط اندازے کی اہم وجہ قرار دیا۔

یہ صورتحال اس لیے بھی اہم ہے کہ عالمی ٹیکنالوجی انڈسٹری میں مصنوعی ذہانت کے باوجود روایتی کمپیوٹر مارکیٹ کی طلب کمپنیوں کی آمدنی پر اثرانداز ہو رہی ہے۔ سرمایہ کار اب صرف ٹیکنالوجی کمپنیوں کی مجموعی آمدنی نہیں بلکہ ان کے مختلف کاروباری شعبوں کی کارکردگی، منافع کے مارجن اور مستقبل کے اخراجات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔

دوسری جانب SanDisk کے شیئرز بھی تقریباً 4 فیصد نیچے آگئے، حالانکہ کمپنی نے آمدنی اور منافع دونوں کے حوالے سے مارکیٹ کی توقعات سے بہتر نتائج پیش کیے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ مارکیٹ میں صرف بہتر معاشی نتائج کافی نہیں، بلکہ سرمایہ کار مستقبل کے امکانات اور اسٹاک کی قیمتوں میں پہلے سے شامل توقعات کو بھی اہمیت دے رہے ہیں۔

Alphabet کے اسٹاکس میں 12.6 فیصد کمی

امریکی ٹیکنالوجی مارکیٹ میں دباؤ کی ایک بڑی وجہ Alphabet کی کارکردگی بھی رہی، جو Google کی پیرنٹ کمپنی ہے۔ کمپنی کے حصص گزشتہ کاروباری سیشن میں 12.6 فیصد گر گئے، کیونکہ سرچ اور اشتہارات سے حاصل ہونے والی آمدنی توقعات کے مقابلے میں کمزور رہی۔

Alphabet کی کارکردگی پر سرمایہ کاروں کی تشویش محض ایک سہ ماہی کے مالیاتی نتائج تک محدود نہیں ہے۔ مصنوعی ذہانت پر مبنی سرچ سروسز اور نئے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے پھیلاؤ نے روایتی سرچ اور ڈیجیٹل اشتہارات کے کاروباری ماڈل کے مستقبل کے بارے میں نئے سوالات پیدا کیے ہیں۔

سرمایہ کار یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آیا AI Technology کمپنی کی موجودہ آمدنی کے ذرائع کو مزید مضبوط کرے گی یا صارفین کے آن لائن سرچ کرنے کے طریقوں میں تبدیلی سے روایتی اشتہاری آمدنی متاثر ہو سکتی ہے۔

امریکی اسٹاکس میں مندی کا تسلسل

Dow Jones Futures میں تازہ کمی سے پہلے بھی جمعرات کے کاروباری سیشن میں امریکی اسٹاک مارکیٹ دباؤ کا شکار رہی تھی۔ Nasdaq Composite میں 1.38 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ Dow Jones Industrial Average اور S&P 500 بالترتیب 0.25 فیصد اور 0.30 فیصد نیچے بند ہوئے۔

Nasdaq میں نسبتاً زیادہ کمی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ٹیکنالوجی اسٹاکس پر فروخت کا دباؤ زیادہ نمایاں تھا۔ Alphabet سمیت بڑی کمپنیوں کے نتائج نے مارکیٹ کے مجموعی رجحان کو متاثر کیا، جبکہ سرمایہ کاروں نے آئندہ مالیاتی نتائج اور شرح سود کے امکانات کو مدنظر رکھتے ہوئے محتاط رویہ اختیار کیا۔

Federal Reserve کی شرح سود پالیسی، دسمبر میں اضافے کے امکانات

Federal Reserve نے حالیہ اجلاس میں شرح سود برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا، تاہم مالیاتی مارکیٹ میں دسمبر کے دوران مزید سخت مانیٹری پالیسی کے امکانات زیر بحث ہیں۔

CME FedWatch Tool کے مطابق ٹریڈرز دسمبر میں 25 بنیادی پوائنٹس شرح سود میں اضافے کا تقریباً 75 فیصد امکان ظاہر کر رہے ہیں۔ یہ امکان گزشتہ روز کے 84.2 فیصد سے کم ہے، لیکن اس کے باوجود مارکیٹ میں شرح سود بڑھنے کی توقع نمایاں ہے۔

اگر امریکی معیشت کی شرح نمو اور صارفین کے اخراجات مضبوط رہتے ہیں تو Federal Reserve کے لیے شرح سود میں کمی کے بجائے اسے موجودہ سطح پر برقرار رکھنے یا مزید اضافے پر غور کرنے کی گنجائش پیدا ہو سکتی ہے۔ بلند شرح سود بالخصوص ان ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے چیلنج بن سکتی ہے جن کی مارکیٹ ویلیو مستقبل کی آمدنی اور طویل مدتی ترقی کی توقعات پر زیادہ انحصار کرتی ہے۔

اظہار لاتعلقی

آپ کا Dow Jones Futures کی صورتحال کے بارے میں کیا خیال ہے؟ کیا آپ کے خیال میں ٹیک کمپنیوں میں یہ مندی خریداری کا بہترین موقع ہے یا فیڈ کے فیصلے تک انتظار کرنا بہتر ہوگا؟ اپنے خیالات نیچے کمنٹس میں ضرور شیئر کریں!

اطلاعات کے ذرائع

یہ مضمون اردو مارکیٹس کی طرف سے فراہم کردہ مواد اور مصنفہ کی ذاتی تحقیق و تجزیے کی روشنی میں مرتب کیا گیا ہے۔ امریکی اسٹاکس کے اعداد و شمار کی تصدیق عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز https://www.reuters.com/ سے کی گئی ہے۔

⚠ ڈسکلیمر

یہ مضمون صرف تعلیمی اور معلوماتی مقاصد کے لیے فراہم کیا گیا ہے۔ یہ کوئی سرمایہ کاری، مالیاتی، یا تجارتی مشورہ نہیں ہے۔ فاریکس (Forex)، اسٹاک، کموڈٹیز اور کرپٹو کرنسی کی تجارت میں نمایاں مالی خطرہ موجود ہے اور یہ ہر سرمایہ کار کے لیے موزوں نہیں۔ ماضی کی کارکردگی مستقبل کے نتائج کی ضمانت نہیں ہے۔ کوئی بھی سرمایہ کاری یا ٹریڈنگ فیصلہ کرنے سے پہلے اپنی مالی حیثیت کا جائزہ لیں اور کسی مستند مالیاتی مشیر سے رجوع کریں۔ اردو مارکیٹس اس مضمون میں دی گئی معلومات کی بنیاد پر ہونے والے کسی بھی نقصان کا ذمہ دار نہیں ہوگا۔

📩 یہ مضمون پسند آیا؟

روزانہ ایسی ہی تازہ مارکیٹ نیوز + ای میل پر

w T 𝕏

متعلقہ موضوعات

”
Robina Adeel

✍ تحریر کردہ · UrduMarkets

اردو مارکیٹس کے مصنف · مالیاتی مارکیٹ تجزیہ

متعلقہ مضامین

3 مضامین
💬

تبصرے

0 گفتگو

💭

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کرنے والے آپ بن سکتے ہیں۔

🛡 تمام تبصرے ماڈریٹر کی منظوری کے بعد شائع ہوتے ہیں

🤖

اردو مارکیٹس اسسٹنٹ

لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ

تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں