عالمی مارکیٹس میں ایک مرتبہ پھر غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے کیونکہ Global Bond Rout (عالمی بانڈ مارکیٹ میں فروخت کا تسلسل) شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔
Category
13 مضامین
عالمی مارکیٹس میں ایک مرتبہ پھر غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے کیونکہ Global Bond Rout (عالمی بانڈ مارکیٹ میں فروخت کا تسلسل) شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔
موجودہ عالمی معاشی منظر نامے میں امریکی حکومت کے بانڈزکیYields میں ہونے والا تاریخی اضافہ پوری معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ اس صورتحال نے ایک بار پھر ان قیاس آرائیوں کو تقویت دی ہے کہ فیڈرل ریزرو بانڈز مارکیٹ میں مداخلت کرنیوالا ہے۔
عالمی بانڈ ییلڈز میں تاریخی اضافہ دنیا بھر کی حکومتوں، کارپوریٹ اداروں اور عالمی مارکیٹس کے لیے ایک بہت بڑا امتحان بن چکا ہے۔ 2008 کے مالیاتی بحران کے بعد پہلی بار حکومتوں کے قرض لینے کے اخراجات اس سطح پر پہنچ گئے ہیں جہاں معاشی ترقی اور بڑھتے ہوئے قرضوں کے بوجھ کے درمیان توازن برقرار رکھنا مشکل ہو رہا ہے۔
برطانوی فنانشل مارکیٹس میں اس وقت ہلچل مچی ہوئی ہے کیونکہ UK 10 year Gilt yield (برطانیہ کی 10 سالہ گلٹ ییلڈ) گزشتہ 19 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔
آج امریکی محکمہ خزانہ (US Treasury) نے ایک اہم اعلان کیا ہے جس کے تحت وہ 10 ستمبر 2026 سے US Treasury buyback operation کے ذریعے 10 سے 20 سالہ بانڈز خریدنے جا رہا ہے۔
بنیادی سفارش: نارجس بینک انویسٹمنٹ مینجمنٹ (NBIM) نے اپنے بانڈ اشاریے میں سرکاری بانڈز کا وزن 70 فیصد سے کم کر کے 50 فیصد کرنے کی باضابطہ تجویز دی ہے۔ امریکی ٹریژریز پر اثر: نئی ساخت نافذ ہونے کی صورت میں امریکی سرکاری قرض میں فنڈ کی ہولڈنگز میں اندازاً 80 ارب ڈالر کی کمی بن سکتی ہے۔ وزن میں ردوبدل: بینچ مارک میں امریکی سرکاری قرض کا حصہ 34.1 فیصد سے کم ہو کر 21.9 فیصد رہ جائے گا، تاہم مجموعی امریکی ڈالر اثاثوں کا وزن 52.5 فیصد کے قریب مستحکم رہے گا۔ نفاذ کا ٹائم فریم: یہ فوری فروخت نہیں ہے؛ قانون سازوں کی منظوری کی صورت میں بھی اس پالیسی پر عملی عمل درآمد 2027 کے وسط سے پہلے متوقع نہیں۔ حکمتِ عملی کا اصل رخ: یہ پیش رفت امریکی ڈالر سے انخلا نہیں، بلکہ امریکی سرکاری بانڈز سے سرمایہ نکال کر نسبتاً زیادہ منافع بخش مارگیج بیکڈ سیکیورٹیز اور دیگر امریکی کارپوریٹ قرضوں میں منتقل کرنے کی اندرونی ری بیلنسنگ ہے۔
چینی کمرشل بینکوں Chinese Banks نے حال ہی میں US Treasury Bonds کی خریداری کا آغاز کیا ہے، جو کہ ان کی روایتی سرمایہ کاری کی حکمت عملی سے ایک بڑا انحراف ہے۔
حالیہ عرصے میں امریکی U.S. Treasury Yields میں آنے والے اضافے کے پیچھے ایک اور گہرا اور نسبتاً پوشیدہ معاشی عنصر بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے، جسے R Star کہا جاتا ہے۔
برطانیہ کی Bond Market میں دباؤ بدھ کو مزید بڑھ گیا، جہاں 10 سالہ UK Gilt Yield 5.268 فیصد تک پہنچ گئی۔ یہ جون 2008 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔
آج ایشیائی سیشنز میں بھی عالمی بانڈ مارکیٹس میں شدید فروخت کا رجحان دیکھا گیا ہے، جس کے نتیجے میں سرکاری بانڈز کی Yields اور قرض لینے کے اخراجات کئی دہائیوں کی بلند سطحوں تک پہنچ گئے ہیں۔
Global Bond Yields میں مسلسل اضافہ، Inflation کے دباؤ اور مشرق وسطی میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی نے سرمایہ کاروں کو محتاط کر دیا ہے۔
Brown Brothers Harriman کی ایک تازہ رپورٹ نے اس بات کی جانب توجہ دلائی ہے کہ امریکی Treasury کی جانب سے طویل المدتی بانڈز کی خریداری نے مارکیٹ میں نئے سوالات پیدا کیے ہیں۔
ٹریژری نے طویل المدتی نامل کوپن سیکیورٹیز (Nominal Coupon Securities) کے لیے Liquidity Support Buyback Operations کے سائز میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔
✓ شکریہ! آپ کی سبسکرپشن کامیابی سے درج ہو گئی۔
پہلا ڈائجسٹ آپ کے انباکس میں جلد پہنچے گا۔
آپ کے پسندیدہ معاشی شعبے، سونا صرافہ، فاریکس اور پی ایس ایکس ایکسچینج کی روزانہ یا ہفتہ وار آپ ڈیٹس براہِ راست اِن باکس میں وصول کریں۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں