Nestle کی پاکستان میں 60 ملین ڈالر کی نئی سرمایہ کاری: کیا پاکستان علاقائی مینوفیکچرنگ حب بننے کے لیے تیار ہے؟

Global Food Giant Targets Pakistan for Growth, Exports to 26 Countries

سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیوس میں منعقدہ ورلڈ اکنامک فورم 2026 (World Economic Forum 2026) کے موقع پر عالمی فوڈ اینڈ بیوریج جائنٹ Nestle نے پاکستان میں اپنی کارروائیوں کو وسعت دینے کے لیے 60 ملین ڈالر کی اضافی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے۔

یہ محض ایک مالیاتی ہندسہ نہیں ہے، بلکہ Nestle کی جانب سے پاکستان کو 26 ممالک کے لیے ایک علاقائی مینوفیکچرنگ اور ایکسپورٹ حب (Export Hub) بنانے کا ایک سٹریٹجک وژن ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں نیسلے کے ایگزیکٹو وائس پریزیڈنٹ ریمی ایجل نے پاکستان کی ڈیموگرافک صلاحیتوں اور معاشی اصلاحات پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

اہم نکات. 

  • Nestle نے پاکستان میں اپنی آپریشنل صلاحیت بڑھانے کے لیے 60 ملین ڈالر کی نئی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے۔

  • پاکستان کو اب محض ایک مارکیٹ کے بجائے 26 ممالک کے لیے ایکسپورٹ حب کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔

  • شیخوپورہ اور خانیوال کے پلانٹس کو جدید ٹیکنالوجی اور آٹومیشن (Automation) سے لیس کر دیا گیا ہے۔

  • حکومت کی جانب سے ٹیکس نیٹ میں اصلاحات اور پالیسی کے تسلسل (Policy Consistency) کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔

Nestle کی نئی سرمایہ کاری کا پاکستان کی معیشت پر کیا اثر ہوگا؟

Nestle کی 60 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری سے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر (Foreign Exchange Reserves) پر مثبت اثر پڑے گا اور برآمدات (Exports) میں اضافہ ہوگا۔ یہ سرمایہ کاری نہ صرف روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے گی. بلکہ عالمی سپلائی چین (Global Value Chains) میں پاکستان کے کردار کو بھی مضبوط کرے گی۔

پاکستان جیسے ملک کے لیے، جو طویل عرصے سے ادائیگیوں کے توازن (Balance of Payments) کے مسائل سے نبرد آزما ہے. کسی عالمی ادارے کا اسے ‘ایکسپورٹ حب’ قرار دینا ایک بہت بڑی معاشی کامیابی ہے۔ نیسلے کا ارادہ ہے کہ وہ یہاں سے مشرق وسطیٰ، افریقہ اور وسطی ایشیا کے 26 ممالک کو اپنی مصنوعات برآمد کرے۔

اپنے 10 سالہ مالیاتی تجربے میں، میں نے دیکھا ہے کہ جب کوئی ملٹی نیشنل کمپنی (MNC) کسی ملک کو ‘ایکسپورٹ بیس’ قرار دیتی ہے. تو یہ دیگر غیر ملکی سرمایہ کاروں (FDI) کے لیے ایک ‘گرین سگنل’ ہوتا ہے۔ یہ بالکل ویسا ہی رجحان ہے. جو ہم نے 2010 کی دہائی میں ویتنام میں دیکھا تھا. جہاں بڑی کمپنیوں کی آمد نے پورے ملک کے صنعتی ڈھانچے کو بدل کر رکھ دیا تھا۔

Davos 2026: نیسلے اور حکومتِ پاکستان کے درمیان اہم مذاکرات

ورلڈ اکنامک فورم کے سائیڈ لائنز پر ہونے والا یہ بزنس راؤنڈ ٹیبل پاکستان کی معاشی سفارت کاری (Economic Diplomacy) کا ایک اہم حصہ ہے۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے واضح کیا کہ حکومت نجی شعبے کے ساتھ مل کر ایک ایسا ٹیکس ایکو سسٹم (Tax Ecosystem) بنا رہی ہے جو طویل مدتی سرمایہ کاری کے لیے سازگار ہو۔

ٹیکنالوجی اور جدید مینوفیکچرنگ

نیسلے پاکستان کے سی ای او، جیسن اوانکینا نے حال ہی میں انکشاف کیا تھا. کہ شیخوپورہ اور خانیوال کے کارخانے اب مکمل طور پر آٹومیٹڈ (Fully Automated) ہیں اور عالمی تشخیصی نظام (Global Diagnostic Systems) سے منسلک ہیں۔

فیچر (Feature) تفصیل (Description)
سرمایہ کاری کی رقم 60 ملین ڈالر
ہدف ممالک (Export Target) 26 ممالک
کل عالمی آمدنی (2025) تقریباً 114.25 بلین ڈالر
کل ملازمین (عالمی سطح پر) 277,000 سے زائد

کیا Nestle کی یہ سرمایہ کاری اسٹاک مارکیٹ کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے؟

نیسلے پاکستان (NESTLE) پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں ایک بلیو چپ اسٹاک (Blue-Chip Stock) کی حیثیت رکھتا ہے۔ آپریشنز کی توسیع اور برآمدی آمدنی (Export Revenue) میں اضافے کی خبر براہ راست کمپنی کے حصص کی قیمت اور سرمایہ کاروں کے اعتماد (Investor Sentiment) پر مثبت اثر ڈال سکتی ہے۔

مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کو قریب سے دیکھنے کے بعد، میں یہ کہہ سکتا ہوں. کہ سرمایہ کار ہمیشہ ایسی کمپنیوں کو ترجیح دیتے ہیں جن کی آمدنی کا ایک حصہ ڈالر (Dollar-Indexed Earnings) میں ہو۔ نیسلے کا 26 ممالک کو برآمدات کا منصوبہ اسے روپے کی قدر میں کمی (Currency Devaluation) کے خطرات سے بچانے میں مدد دے گا، جو کہ لانگ ٹرم پورٹ فولیو کے لیے ایک بہترین حکمت عملی ہے۔

پاکستان کو درپیش چیلنجز اور حکومتی یقین دہانی

جہاں نیسلے جیسے ادارے سرمایہ کاری کر رہے ہیں. وہیں پالیسی کا تسلسل (Policy Consistency) ایک بڑا سوال رہا ہے۔ وزیر خزانہ نے ٹیکس پالیسی آفس (Tax Policy Office) کے قیام اور معاشی اصلاحات کے ذریعے ان خدشات کو دور کرنے کی کوشش کی ہے۔

کلائمیٹ ریزیلیئنٹ ڈیری اور لوکل سورسنگ

پاکستان میں دودھ کی پیداوار کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ نیسلے نہ صرف اپنی پیداوار بڑھا رہا ہے. بلکہ ‘کلائمیٹ ریزیلیئنٹ ڈیری’ (Climate-Resilient Dairy) پر بھی کام کر رہا ہے. جو کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے۔ مقامی سطح پر خام مال کی خریداری (Local Sourcing) سے مقامی کسانوں کی حالتِ زار بھی بہتر ہوگی۔

حرف آخر. 

Nestle کا پاکستان پر اعتماد اس بات کی علامت ہے کہ ملک میں بنیادی معاشی ڈھانچہ (Economic Fundamentals) بہتری کی طرف گامزن ہے۔ 60 ملین ڈالر کی یہ سرمایہ کاری اور پاکستان کو ایکسپورٹ حب بنانا ایک ایسا گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے جو دیگر کثیر القومی کمپنیوں (MNCs) کو بھی پاکستان کی طرف راغب کرے گا۔

ایک تجربہ کار مالیاتی تجزیہ کار کے طور پر، میرا مشورہ ہے. کہ اس طرح کی بڑی سرمایہ کاریوں کو صرف ایک کمپنی کی کامیابی کے طور پر نہ دیکھا جائے. بلکہ اسے ملک کے وسیع تر معاشی استحکام کے پیش خیمہ کے طور پر لیا جائے۔

آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا نیسلے کی یہ سرمایہ کاری دیگر عالمی کمپنیوں کے لیے پاکستان کے دروازے کھولے گی؟ نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں۔

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button