عالمی غذائی قیمتیں 2022 کے بعد بلند ترین سطح پر، FAO نے رسد کے خطرات سے خبردار کر دیا
★اہم نکات
- •FAO کا عالمی غذائی قیمت اشاریہ اگست میں 1.9 فیصد بڑھ کر 133.3 پوائنٹس ہوگیا، جو نومبر 2022 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔
- •تمام پانچ بڑی غذائی اقسام کی قیمتیں بڑھیں، جبکہ چینی کا اشاریہ ایک ماہ میں 11.9 فیصد بڑھا۔
- •عالمی اناج قیمتیں 2.2 فیصد بڑھیں اور FAO نے 2026 کی عالمی اناج پیداوار کا تخمینہ بھی کم کر دیا ہے۔
- •موسمی خطرات، بحیرہ اسود میں رسدی رکاوٹیں اور ایران سے جڑے تنازع کے باعث زرعی خام مال اور کھاد کی ترسیل پر دباؤ اہم محرکات میں شامل ہیں۔
- •اب اصل سوال یہ ہے کہ یہ اضافہ چند ماہ کی رسدی بے ترتیبی تک محدود رہتا ہے یا عالمی افراطِ زر میں دوبارہ پائیدار غذائی دباؤ پیدا کرتا ہے۔
عالمی غذائی قیمتوں نے اگست میں ایک اہم حد عبور کر لی ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت کے مطابق عالمی غذائی قیمت اشاریہ 133.3 پوائنٹس تک پہنچ گیا، جو نومبر 2022 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ ایک ہی وقت میں اناج، خوردنی تیل، چینی، گوشت اور دودھ کی عالمی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ ہوا، جبکہ موسم، بحیرہ اسود کی رسدی رکاوٹوں اور مشرقِ وسطیٰ کے تنازع نے خوراک کی رسد سے متعلق خطرات کو دوبارہ نمایاں کر دیا ہے۔
یہ پیش رفت صرف زرعی منڈیوں تک محدود نہیں۔ اگر عالمی غذائی قیمتوں میں موجودہ اضافہ برقرار رہتا ہے تو کئی ممالک میں افراطِ زر کی رفتار، درآمدی بل، شرح سود کی توقعات اور کم آمدنی والے گھرانوں پر دباؤ دوبارہ بڑھ سکتا ہے۔ تاہم اشاریہ اب بھی مارچ 2022 کی تاریخی بلند سطح سے تقریباً 17 فیصد نیچے ہے، اس لیے موجودہ صورتحال کو ابھی نئے عالمی غذائی بحران کے طور پر بیان کرنا درست نہیں ہوگا۔
عالمی غذائی قیمتیں کہاں پہنچ گئیں؟
FAO کے مطابق اگست میں عالمی غذائی قیمت اشاریہ 133.3 پوائنٹس رہا، جو جولائی کے نظرثانی شدہ 130.8 پوائنٹس سے 1.9 فیصد زیادہ ہے۔ سالانہ بنیاد پر اشاریہ 2.5 فیصد بلند ہے۔ موجودہ سطح نومبر 2022 کے بعد سب سے زیادہ ہے، لیکن مارچ 2022 کی تاریخی بلند سطح سے اب بھی تقریباً 16.8 فیصد کم ہے۔ یہ فرق اہم ہے۔ عالمی غذائی قیمتوں میں دوبارہ واضح اضافہ ہو رہا ہے، مگر ابھی وہ روس یوکرین جنگ کے ابتدائی دور میں دیکھے گئے انتہائی بحران کی سطح تک نہیں پہنچی ہیں۔

تمام بڑی غذائی اقسام ایک ساتھ کیوں بڑھیں؟
اگست کی رپورٹ میں ایک غیر معمولی پہلو یہ ہے کہ FAO کی تمام بڑی غذائی اقسام میں ماہانہ اضافہ ہوا۔ اناج کا اشاریہ 2.2 فیصد بڑھا۔ دودھ کی مصنوعات 2.3 فیصد مہنگی ہوئیں۔ گوشت کا اشاریہ 1.0 فیصد اوپر گیا۔ خوردنی تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا۔ سب سے بڑی حرکت چینی میں ہوئی، جہاں عالمی اشاریہ ایک ماہ میں 11.9 فیصد بڑھ گیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ دباؤ کسی ایک فصل یا ایک ملک تک محدود نہیں بلکہ مختلف زرعی منڈیوں میں بیک وقت رسدی خدشات پیدا ہوئے ہیں۔

چینی کی قیمت میں 11.9 فیصد اضافہ کیوں ہوا؟
FAO کے مطابق یورپ میں ناموافق موسم نے چقندر کی پیداوار کے خدشات بڑھائے، جبکہ ایشیا میں ممکنہ ایل نینو حالات نے گنے اور چینی کی پیداوار پر سوالات پیدا کیے۔ برازیل میں بھی پیداوار کم رہنے کی توقع نے عالمی قیمتوں پر دباؤ بڑھایا۔ بھارت کی جانب سے خام چینی کی بغیر محصول درآمدات کے اعلان نے بھی عالمی رسد اور طلب کی نئی ترتیب کو نمایاں کیا۔
اسی مجموعے کے باعث چینی کا اشاریہ اگست میں تقریباً 12 فیصد بڑھ گیا۔
اناج بازار میں اصل خطرہ کہاں ہے؟
FAO کے مطابق عالمی اناج قیمتیں اگست میں 2.2 فیصد بڑھیں اور تمام بڑی اجناس مہنگی ہوئیں۔ گندم کی عالمی قیمت 2.6 فیصد بڑھی اور ایک سال پہلے کے مقابلے میں تقریباً 15 فیصد بلند رہی۔ یورپ میں شدید گرمی اور خشک موسم نے پیداوار کے امکانات کمزور کیے، جبکہ روس اور یوکرین کی برآمدی رسد میں رکاوٹیں برقرار رہیں۔ مکئی کی قیمت بھی 2.5 فیصد بڑھی۔ امریکہ کے بعض علاقوں میں پیداوار کے خدشات، یورپی فصلوں کی کمزور صورتحال، مویشی خوراک اور ایتھنول کی طلب اور آبنائے ہرمز کی بندش سے زرعی پیداواری وسائل کی رسد متاثر ہونے کے خدشات نے قیمتوں کو سہارا دیا۔

FAO نے عالمی اناج پیداوار کا تخمینہ کیوں کم کیا؟
FAO نے 2026 کی عالمی اناج پیداوار کا تخمینہ 3.4 ملین ٹن کم کر کے تقریباً 2.980 ارب ٹن کر دیا ہے۔ یہ مقدار گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 2 فیصد کم ہوگی۔ اگر یہ تخمینہ برقرار رہتا ہے تو یہ 2018 کے بعد عالمی اناج پیداوار کی سب سے بڑی سالانہ کمی ہوگی۔
عالمی ذخائر کا تخمینہ بھی کم کیا گیا ہے۔ 2026 اور 2027 کے اختتام تک عالمی اناج ذخائر اب تقریباً 947.2 ملین ٹن متوقع ہیں۔
اگرچہ یہ مقدار تاریخی لحاظ سے اب بھی بڑی ہے، لیکن پیداوار اور ذخائر دونوں کے تخمینے کا بیک وقت کم ہونا خوراک بازار کے لیے اہم احتیاطی اشارہ ہے۔
بحیرہ اسود دوبارہ کیوں اہم ہوگیا ہے؟
روس اور یوکرین عالمی گندم، مکئی اور دیگر زرعی اجناس کی تجارت میں اہم کردار رکھتے ہیں۔ بحیرہ اسود کے راستوں میں مسلسل حملوں اور رسدی رکاوٹوں نے دونوں ممالک کی برآمدات کو زیادہ مشکل اور مہنگا بنا دیا ہے۔ اس کا اثر صرف دستیاب اناج کی مقدار پر نہیں پڑتا۔ جہاز رانی، بیمہ، ذخیرہ اور متبادل تجارتی راستوں کی لاگت بھی بڑھ سکتی ہے۔ اسی لیے بحیرہ اسود کی کوئی نئی کشیدگی عالمی خوراک قیمتوں میں خطرے کا اضافی حصہ شامل کر سکتی ہے، چاہے مجموعی عالمی پیداوار فوری طور پر نہ بھی بدلے۔
ایران اور آبنائے ہرمز کا خوراک سے کیا تعلق ہے؟
غذائی قیمتوں کے لیے مشرقِ وسطیٰ کا خطرہ صرف تیل تک محدود نہیں۔ زرعی پیداوار کھاد، توانائی، نقل و حمل اور صنعتی خام مال پر بھی انحصار کرتی ہے۔ FAO نے واضح کیا ہے کہ ایران سے جڑے تنازع اور آبنائے ہرمز کی صورتحال نے زرعی پیداواری وسائل کی رسد سے متعلق خدشات بڑھائے ہیں۔
اگر توانائی یا کھاد کی بین الاقوامی نقل و حمل طویل مدت کے لیے متاثر ہوتی ہے تو اس کا اثر فصل کی لاگت اور مستقبل کی پیداوار دونوں پر پڑ سکتا ہے۔ تاہم اس وقت خوراک قیمتوں میں موجود تمام اضافہ صرف مشرقِ وسطیٰ کے تنازع سے منسوب کرنا درست نہیں ہوگا، کیونکہ موسم، بحیرہ اسود اور علاقائی پیداوار کے مسائل بھی اہم ہیں۔
عالمی افراطِ زر کے لیے کیا معنی ہیں؟
غذائی اشیا بہت سے ترقی پذیر ممالک میں صارفین کے اخراجات کا بڑا حصہ ہوتی ہیں۔ اگر عالمی قیمتوں میں اضافہ مقامی بازاروں تک منتقل ہوتا ہے تو مجموعی افراطِ زر دوبارہ بڑھ سکتا ہے۔ یہ اثر ہر ملک میں یکساں نہیں ہوگا۔ زرِ مبادلہ کی شرح، درآمدی انحصار، سرکاری ذخائر، محصولات، مقامی فصل اور حکومتی امدادی پالیسی فیصلہ کریں گے کہ عالمی قیمت میں اضافہ مقامی صارف تک کتنی شدت سے پہنچتا ہے۔ اسی لیے آج کا FAO اشاریہ عالمی افراطِ زر کے لیے خطرے کا اشارہ ہے، فوری اور یکساں مہنگائی کی ضمانت نہیں۔
مرکزی بینکوں کے لیے یہ خبر کیوں اہم ہے؟
امریکہ اور یورپ سمیت کئی بڑی معیشتیں پہلے ہی توانائی اور شرح سود کے نئے دباؤ کا سامنا کر رہی ہیں۔ اگر خوراک کی قیمتیں بھی مسلسل بڑھنے لگتی ہیں تو مجموعی افراطِ زر کی رفتار کم کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔مرکزی بینک عام طور پر وقتی خوراک اور توانائی کے جھٹکوں کو مکمل طور پر شرح سود سے قابو نہیں کرتے، لیکن اگر ایسے جھٹکے اجرتوں، توقعات اور بنیادی افراطِ زر تک پھیل جائیں تو مانیٹری پالیسی پر اثر زیادہ اہم ہو جاتا ہے۔ اس لیے موجودہ غذائی قیمت اضافہ عالمی شرح سود کے لیے فوری فیصلہ نہیں، لیکن آئندہ مہینوں میں مہنگائی کے خطرے کا ایک اضافی ذریعہ ضرور ہے۔
آج کی اصل معلومات کیا بدلتی ہیں؟
گزشتہ چند ماہ میں عالمی منڈیوں کی بنیادی توجہ تیل، بانڈ منافع اور امریکی شرح سود پر رہی ہے۔ اب خوراک بھی دوبارہ عالمی افراطِ زر کے خطرے میں واضح طور پر شامل ہو رہی ہے۔ FAO اشاریہ 2022 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ تمام بڑی غذائی اقسام ایک ساتھ مہنگی ہوئی ہیں۔ عالمی اناج پیداوار کا تخمینہ کم ہوا ہے۔ اور موسم، جنگ اور تجارتی رسد کے خطرات بیک وقت بڑھ رہے ہیں۔
یہ مجموعہ عالمی معیشت کے لیے اہم ہے کیونکہ خوراک کی قیمتیں صرف زرعی بازار کا مسئلہ نہیں رہتیں بلکہ صارف قوتِ خرید، افراطِ زر، شرح سود اور سیاسی استحکام تک اثر منتقل کر سکتی ہیں۔
اب آگے کیا دیکھنا ہوگا؟
سب سے پہلے ستمبر اور اکتوبر میں FAO کے اشاریے کی سمت اہم ہوگی، یورپ، امریکہ اور ایشیا میں فصلوں کی حقیقی پیداوار اور موسم کے اعداد دیکھنے ہوں گے، بحیرہ اسود اور آبنائے ہرمز میں تجارتی رسد کی صورتحال اہم رہے گی۔ گندم، مکئی، چینی اور خوردنی تیل کی قیمتوں میں موجود اضافہ برقرار رہتا ہے یا واپس پلٹتا ہے۔
فی الحال تصدیق شدہ نتیجہ یہ ہے کہ عالمی غذائی قیمتوں کا خطرہ دوبارہ بڑھ رہا ہے اور اگست کا اضافہ اتنا وسیع ہے کہ اسے صرف ایک زرعی جنس یا عارضی مقامی مسئلہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔
📰 مزید پڑھیں: WTI Crude Oil کی قیمتیں مستحکم ، Strait Of Hormuz سے سپلائی خدشات میں کمی
📰 مزید پڑھیں: ڈیزل سستا، پیٹرول مہنگا, پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتیں اور معاشی اثرات
⚠ تجزیہ ڈسکلیمر
یہ تجزیہ صرف تعلیمی و معلوماتی مقاصد کے لیے ہے اور اسے سرمایہ کاری کا مشورہ نہ سمجھا جائے۔ مارکیٹ میں نقصان کا خطرہ موجود ہے؛ کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے اپنی تحقیق کریں یا مستند مالی مشیر سے رجوع کریں۔📩 یہ مضمون پسند آیا؟
روزانہ ایسی ہی تازہ مارکیٹ نیوز + ای میل پر
متعلقہ موضوعات
متعلقہ مضامین
3 مضامینتبصرے
0 گفتگو
ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کرنے والے آپ بن سکتے ہیں۔