FAO کا عالمی غذائی قیمت اشاریہ اگست میں 1.9 فیصد بڑھ کر 133.3 پوائنٹس ہوگیا، جو نومبر 2022 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ تمام پانچ بڑی غذائی اقسام کی قیمتیں بڑھیں، جبکہ چینی کا اشاریہ ایک ماہ میں 11.9 فیصد بڑھا۔ عالمی اناج قیمتیں 2.2 فیصد بڑھیں اور FAO نے 2026 کی عالمی اناج پیداوار کا تخمینہ بھی کم کر دیا ہے۔ موسمی خطرات، بحیرہ اسود میں رسدی رکاوٹیں اور ایران سے جڑے تنازع کے باعث زرعی خام مال اور کھاد کی ترسیل پر دباؤ اہم محرکات میں شامل ہیں۔ اب اصل سوال یہ ہے کہ یہ اضافہ چند ماہ کی رسدی بے ترتیبی تک محدود رہتا ہے یا عالمی افراطِ زر میں دوبارہ پائیدار غذائی دباؤ پیدا کرتا ہے۔