امریکی وسط مدتی انتخابات: ٹرمپ کی مقبولیت اور فنانشل مارکیٹس کی مضبوطی کا امتحان
★اہم نکات
- •House of Representatives: تمام 435 نشستوں پر انتخاب ہو رہا ہے اور انتخابی جائزوں کے مطابق Democrats کو ایوانِ نمائندگان میں اکثریت حاصل کرنے کے بہتر امکانات دکھائی دے رہے ہیں۔
- •Senate Elections: سینیٹ کی 35 نشستوں پر مقابلہ ہو رہا ہے۔ سینیٹ کا کنٹرول اس بات کا تعین کرے گا کہ ریپبلکنز 2027 میں حکومتی اخراجات اور قرضوں سے متعلق قانون سازی کتنی آسانی سے کر سکیں گے۔
- •Prediction Markets: 21 اکتوبر کو Kalshi کے انتخابی اندازوں میں Democrats کے ایوانِ نمائندگان جیتنے کے امکانات 91 فیصد جبکہ سینیٹ میں کامیابی کے امکانات 64 فیصد تھے۔
- •Government Borrowing: اگر Republicans دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل کر لیتے ہیں تو تقریباً 95 ارب ڈالر کے اضافی قرضے سے متعلق منصوبے کی منظوری کا راستہ کھل سکتا ہے، جس سے Treasury Bonds کی سپلائی اور طویل مدتی منافع کی شرح متاثر ہو سکتی ہے۔
- •US Dollar: زیادہ حکومتی قرضے اور بڑھتے ہوئے Treasury Yields ڈالر کو سہارا دے سکتے ہیں، لیکن اگر منافع کی شرح میں اضافہ معاشی ترقی کے بجائے بڑھتے ہوئے مالیاتی خسارے کے خدشات کی وجہ سے ہو تو ڈالر کمزور بھی ہو سکتا ہے۔
- •Stock Market and Gold: کانگریس میں سیاسی تقسیم بعض حالات میں اسٹاک مارکیٹ کے لیے سازگار ہو سکتی ہے، جبکہ حکومتی اخراجات اور مالیاتی غیر یقینی صورتحال میں کمی سونے کی قیمتوں پر دباؤ ڈال سکتی ہے۔
- •Federal Reserve: انتخابات کے قریب افراط زر، شرح سود اور روزگار کے اعدادوشمار مالیاتی منڈیوں کے لیے اہم رہیں گے۔ اس لیے بانڈز اور ڈالر کا ردعمل صرف انتخابی نتائج پر منحصر نہیں ہوگا۔
- •December Funding Deadline: حکومتی فنڈنگ کی عارضی منظوری 11 دسمبر کو ختم ہو رہی ہے، جس کے باعث نئی کانگریس کو بجٹ، حکومتی اخراجات اور قرض کی حد سے متعلق اہم فیصلوں کا سامنا کرنا ہوگا۔
امریکہ میں 3 نومبر 2026 کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات (US Midterm Elections) صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری صدارتی مدت کا ایک اہم سیاسی اور معاشی امتحان بن چکے ہیں۔ ان انتخابات میں امریکی ووٹرز ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 نشستوں اور سینیٹ کی 35 نشستوں کے لیے اپنے نمائندوں کا انتخاب کر رہے ہیں۔ تاہم یہ مقابلہ صرف امریکی پولنگ اسٹیشنز پر ہی نہیں بلکہ عالمی فنانشل مارکیٹس میں امریکی ڈالر، کموڈٹیز اور بانڈ ییلڈز میں آتے ہوئے اتار چڑھاؤ کے درمیان بھی لڑا جا رہا ہے۔
اصل معاملہ صرف ریپلبکنز اور ڈیموکریٹس کے درمیان کانگریس کا کنٹرول حاصل کرنے کا نہیں بلکہ آئندہ دو سال کے دوران حکومتی اخراجات، قومی قرضوں، ٹیکس پالیسی اور امریکی معیشت کی سمت طے کرنے کا بھی ہے۔
انتخابی جائزوں میں ڈیموکریٹس کو ایوانِ نمائندگان میں اکثریت حاصل کرنے کے لیے مضبوط امیدوار قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ سینیٹ کا کنٹرول بھی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔ صدر ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی، ایران کے ساتھ جنگ، ایندھن کی بڑھتی قیمتوں اور امریکی معیشت سے متعلق عوامی خدشات نے ریپبلکن پارٹی کے لیے مشکلات پیدا کر دی ہیں۔
تاہم US Midterm Elections کی اہمیت صرف سیاسی نتائج تک محدود نہیں، کیونکہ کانگریس میں طاقت کا توازن امریکی حکومت کے قرض لینے کی صلاحیت، US Treasury Yields، US Dollar اور عالمی فنانشل مارکیٹس پر بھی براہ راست اثر انداز ہو سکتا ہے۔
سرمایہ کاروں کے لیے بنیادی سوال یہ ہے کہ انتخابات کے بعد امریکی حکومت مزید کتنا قرض حاصل کرے گی، دفاعی اور حکومتی اخراجات میں کیا تبدیلی آئے گی اور آیا کانگریس میں سیاسی تقسیم مالیاتی فیصلوں کو محدود کر دے گی۔ یہی عوامل آئندہ مہینوں میں بانڈز، اسٹاک مارکیٹ اور ڈالر کی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
کانگریس پر کنٹرول کی جنگ: ڈونلڈ ٹرمپ کاسیاسی امتحان
امریکی انتخابات میں صدر کی جماعت کو عموماً وسط مدتی انتخابات کے دوران کانگریس میں نشستوں کے نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد ہونے والےUS Midterm Elections میں صرف دو مواقع ایسے آئے جب وائٹ ہاؤس میں موجود جماعت اس تاریخی رجحان سے بچنے میں کامیاب رہی۔
اس مرتبہ بھی ریپبلکن پارٹی کو اسی سیاسی حقیقت کا سامنا ہے۔ انتخابی جائزوں کے مطابق ڈیموکریٹس کو ایوانِ نمائندگان میں کامیابی کے بہتر امکانات حاصل ہیں، جبکہ سینیٹ میں سخت مقابلہ جاری ہے۔ صدر ٹرمپ نے اکتوبر کے آغاز سے دو درجن سے زیادہ انتخابی جلسے کیے ہیں، جن میں زیادہ تر ان ریاستوں کو ترجیح دی گئی جہاں انہوں نے 2024 کے صدارتی انتخابات میں نمایاں کامیابی حاصل کی تھی۔
ٹرمپ نے اپنے حامیوں کو بارہا یہ پیغام دیا کہ وہ انہیں بھی انتخابی امیدوار تصور کرتے ہوئے ووٹ دیں۔ اس طرح انہوں نے انتخابی مہم کو اپنی سیاسی شخصیت اور قیادت کے ساتھ جوڑ دیا ہے۔ دوسری جانب ڈیموکریٹس بھی انتخابات کو ٹرمپ انتظامیہ کی گزشتہ دو سالہ کارکردگی پر عوامی فیصلے کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔
اگر ڈیموکریٹس ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کر لیتے ہیں تو ٹرمپ انتظامیہ کے لیے نئی قانون سازی، ٹیکس پالیسی اور حکومتی اخراجات سے متعلق فیصلے مشکل ہو سکتے ہیں۔ اس کے برعکس دونوں ایوانوں میں ریپبلکن اکثریت صدر کو اپنی پالیسیوں پر عمل درآمد کے لیے زیادہ سیاسی آزادی فراہم کرے گی۔
US Midterm Elections کا اصل مالیاتی سوال حکومتی قرضے ہیں
US Midterm Elections کا ایک اہم ترین مالیاتی پہلو Government Borrowing ہے، کیونکہ بانڈ مارکیٹ کے لیے بنیادی اہمیت اس بات کی ہے کہ حکومت آئندہ دو سال میں کتنا نیا قرض حاصل کرے گی۔
امریکہ میں ٹیکس اور حکومتی اخراجات سے متعلق بڑے بلوں کی منظوری کے لیے وائٹ ہاؤس کی جماعت کو دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل ہونا انتہائی اہم ہے۔ اگر صدر کی جماعت ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں کا کنٹرول رکھتی ہے تو قانون سازی کا عمل نسبتاً آسان ہو جاتا ہے۔ لیکن کانگریس تقسیم ہو جائے تو اخراجات اور قرضوں سے متعلق فیصلوں کے لیے مخالف جماعت کی حمایت بھی درکار ہو سکتی ہے۔
بانڈ سرمایہ کاروں کے لیے یہی سیاسی تقسیم اہم ہے، کیونکہ حکومت جب زیادہ قرض لیتی ہے تو اسے مالیاتی ضروریات پوری کرنے کے لیے مزید Treasury Securities جاری کرنا پڑتی ہیں۔ اس اضافی سپلائی سے خاص طور پر طویل مدتی بانڈز کی قیمتوں اور منافع کی شرح پر اثر پڑ سکتا ہے۔
اگر سرمایہ کاروں کو توقع ہو کہ نئی کانگریس کے تحت دفاعی اخراجات اور حکومتی قرضوں میں اضافہ ہوگا تو 10 اور 30 سالہ امریکی بانڈ ییلڈز اور بڑھ سکتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں رہائشی قرضوں، بینک کریڈٹ اور کاروباری فنانسنگ کی لاگت بھی بڑھ سکتی ہے۔
تاہم یہاں ایک اہم فرق سمجھنا ضروری ہے کہ بانڈ کی قیمت اور اس کی Yield ایک دوسرے کے مخالف سمت میں حرکت کرتی ہیں۔ جب بانڈز کی قیمت گرتی ہے تو ان کی منافع کی شرح بڑھتی ہے، جبکہ قیمت میں اضافے سے Yield کم ہوتی ہے۔
Kalshi کے انتخابی تخمینے: Democrats کی بڑی کامیابی کے امکانات
Prediction Markets میں بھی US Midterm Elections کے ممکنہ نتائج کو مالیاتی منڈیوں کے لیے اہم اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔ 21 اکتوبر کو Kalshi پر دستیاب انتخابی اندازوں کے مطابق ڈیموکریٹس کے ایوانِ نمائندگان میں اکثریت حاصل کرنے کے امکانات 91 فیصد تک پہنچ گئے تھے، جبکہ سینیٹ میں کامیابی کے امکانات 64 فیصد تھے۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مارکیٹ کے شرکا ریپبلکنز کے ایوانِ نمائندگان پر کنٹرول کھونے کے امکان کو پہلے ہی بڑی حد تک اپنی توقعات میں شامل کر چکے تھے۔
اسی تناظر میں مختلف انتخابی منظرناموں کے لیے تین امکانات سامنے آتے ہیں:
Democratic Sweep: دونوں ایوانوں میں Democrats کی کامیابی کے امکانات تقریباً 64 فیصد بتائے گئے۔
Split Congress: کانگریس کے دونوں ایوانوں میں مختلف جماعتوں کے کنٹرول کے امکانات تقریباً 28 فیصد تھے۔
Republican Sweep: دونوں ایوانوں میں ریپبلکنز کی کامیابی کے امکانات تقریباً 11 فیصد ظاہر کیے گئے۔
یہ اعداد 21 اکتوبر کے مارکیٹ اندازوں کی عکاسی کرتے ہیں، حتمی انتخابی نتائج یا یقینی پیش گوئی نہیں ہیں۔ ان امکانات میں سب سے زیادہ اہمیت سینیٹ کی ہے، کیونکہ اس کا نتیجہ طے کرے گا کہ ریپلکنز 2027 میں مزید قرض لینے اور دفاعی اخراجات بڑھانے سے متعلق قانون سازی اپنے بل بوتے پر کر سکتے ہیں یا انہیں ڈیموکریٹس کی حمایت حاصل کرنا پڑے گی۔
95 ارب ڈالر کا قرض اور امریکی دفاعی اخراجات
امریکی ایوانِ نمائندگان نے 22 جولائی کو H.Con.Res. 113 کے نام سے بجٹ منصوبہ 216 کے مقابلے میں 214 ووٹوں سے منظور کیا تھا۔ اس منصوبے میں تقریباً 95 ارب ڈالر کے اضافی قرضے کی گنجائش رکھی گئی ہے، جس کا بڑا حصہ دفاعی اور فوجی اخراجات کے لیے مختص کیا جانا ہے۔
اس منصوبے کی منظوری کے لیے سینیٹ کی حمایت بھی ضروری ہے۔ تاہم سینیٹ کے اکثریتی رہنما جان تھون نے 23 جولائی کو کہا تھا کہ انہیں اس منصوبے کی منظوری کے لیے مطلوبہ 50 ووٹ حاصل نہیں ہیں۔ بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ انتخابات سے پہلے سینیٹ اس معاملے پر کارروائی نہیں کرے گی اور ضرورت پڑنے پر اسے دوبارہ زیر غور لایا جا سکتا ہے۔
اس منصوبے کی مالیاتی اہمیت اس لیے زیادہ ہے کہ اگر Republicans دونوں ایوانوں میں اکثریت برقرار رکھتے ہیں تو بجٹ کے خصوصی طریقہ کار کے ذریعے اس اضافی قرضے کی منظوری ممکن ہو سکتی ہے۔
یہاں Budget Reconciliation کا طریقہ کار اہم کردار ادا کرتا ہے۔ عام طور پر امریکی سینیٹ میں زیادہ تر بلوں کو فلبسٹر کے خلاف 60 ووٹ درکار ہوتے ہیں، لیکن Reconciliation کے ذریعے ٹیکس، اخراجات اور قرض کی حد سے متعلق مخصوص بجٹ بل 51 ووٹوں سے منظور کیے جا سکتے ہیں۔
2017 کے ٹیکس کٹوتی منصوبے اور 2025 کے ٹیکس و اخراجات کے قانون میں بھی یہی طریقہ استعمال کیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں وفاقی حکومت کے قرضوں میں اضافہ ہوا۔ تاہم اس طریقہ کار کے لیے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں کی جانب سے ایک ہی بجٹ منصوبے کی منظوری ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سینیٹ میں جماعتی کنٹرول کا نتیجہ امریکی قرضوں اور ٹریژری بانڈز کے لیے اہم ہو گیا ہے۔
تین انتخابی منظرنامے اور امریکی قرضوں پر ممکنہ اثرات
US Midterm Elections کے بعد کانگریس کی نئی تشکیل امریکی مالیاتی پالیسی کے لیے تین مختلف راستے پیدا کر سکتی ہے۔
ریپلکنز کی جیت: زیادہ قرض اور ٹریژری ییلڈز میں اضافے کا امکان
اگر ریپلکنز دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل کر لیتے ہیں تو 95 ارب ڈالر کے اضافی قرضے کے منصوبے کی منظوری نسبتاً آسان ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ دفاعی اخراجات میں مزید اضافہ بھی ممکن ہے، کیونکہ موجودہ بجٹ منصوبہ تقریباً 350 ارب ڈالر کی دفاعی ضروریات کے بڑے مطالبے تک بڑھایا جا سکتا ہے۔
زیادہ حکومتی اخراجات اور اضافی قرض لینے کی ضرورت سے ٹریژری سیکورٹیز کی سپلائی بڑھ سکتی ہے، جس کے نتیجے میں طویل مدتی بانڈز کی ییلڈ میں اضافے کا امکان ہوگا۔ یہ منظرنامہ امریکی ڈالر کے لیے ابتدائی طور پر مثبت ہو سکتا ہے، لیکن اس کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ سرمایہ کار زیادہ ییلڈ کو معاشی ترقی کی علامت سمجھتے ہیں یا بڑھتے ہوئے مالیاتی خسارے کا نتیجہ۔
منقسم کانگرس: قانون سازی میں تعطل اور مالیاتی استحکام
اگر کانگریس کے دونوں ایوان مختلف سیاسی جماعتوں کے کنٹرول میں آ جاتے ہیں تو بڑے مالیاتی بلوں کی منظوری مشکل ہو سکتی ہے۔ اس صورتحال میں نہ ریپلکنز آسانی سے دفاعی اخراجات بڑھا سکیں گے اور نہ ڈیموکریٹس اپنی ترجیحات کے مطابق مکمل بجٹ نافذ کر سکیں گے۔ نتیجتاً حکومتی اخراجات اور قرضوں میں اچانک اضافے کے امکانات محدود ہو سکتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ بعض سرمایہ کار کانگریس میں سیاسی تقسیم کو مالیاتی منڈیوں کے لیے نسبتاً بہتر منظرنامہ سمجھتے ہیں۔ محدود حکومتی اخراجات اور قرضوں میں محتاط اضافہ طویل مدتی بانڈز کے لیے مثبت ہو سکتا ہے، جبکہ ڈالر اور سونے پر اس کے اثرات دیگر معاشی عوامل کے مطابق مختلف ہو سکتے ہیں۔
ڈیموکریٹس کی ممکنہ جیت اور معاشی منظرنامہ
اگر ڈیموکریٹس ان دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل کر لیتے ہیں تو ٹرمپ انتظامیہ کو اپنی مالیاتی پالیسیوں کے نفاذ میں زیادہ مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اس صورت میں 95 ارب ڈالر کے اضافی قرضے کا ریپبلکن منصوبہ رک سکتا ہے، لیکن حکومتی فنڈنگ اور قرض کی حد سے متعلق سیاسی اختلافات شدت اختیار کر سکتے ہیں۔
اس کے نتیجے میں امریکی حکومت کے لیے بجٹ کی منظوری اور مالیاتی فیصلوں کا عمل پیچیدہ ہو سکتا ہے، جس سے مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال بڑھنے کا امکان ہے۔
امریکی حکومت کے لیے اگلا معاشی امتحان
US Midterm Elections کے بعد نئی کانگریس کو سب سے پہلے حکومتی فنڈنگ کی اہم ڈیڈ لائن کا سامنا ہوگا۔ 2 ستمبر کو منظور ہونے والے عارضی فنڈنگ قانون کی مدت 11 دسمبر کو ختم ہو رہی ہے۔ یہ ڈیڈ لائن Federal Reserve کے دسمبر اجلاس کے صرف دو دن بعد آئے گی، جبکہ انتخابات کے نتائج کو تقریباً پانچ ہفتے گزر چکے ہوں گے۔ اس دوران کانگریس کو حکومتی اخراجات اور فنڈنگ جاری رکھنے کے لیے نیا معاہدہ کرنا ہوگا۔
امریکہ کی موجودہ قرض لینے کی حد تقریباً 41.1 ٹریلین ڈالر ہے، جسے جولائی 2025 میں 5 ٹریلین ڈالر بڑھایا گیا تھا۔ National Taxpayers Union کے اندازے کے مطابق یہ حد مئی 2027 کے قریب دوبارہ پوری ہو سکتی ہے، جبکہ حکومت کے پاس دستیاب نقد وسائل فروری 2028 تک ختم ہونے کا امکان ہے۔
اس کا مطلب ہے کہ نئی کانگریس کو 2027 کا بڑا حصہ ایسے مالیاتی فیصلوں اور سیاسی مذاکرات میں گزارنا پڑ سکتا ہے جن کا تعلق 2028 کی قرض کی ڈیڈ لائن سے ہوگا۔ گزشتہ دو حکومتی فنڈنگ تنازعات بھی امریکی معیشت کے لیے مشکلات پیدا کر چکے ہیں۔ 2025 کے موسم خزاں میں حکومتی شٹ ڈاؤن 43 دن جاری رہا، جبکہ 2026 کے آغاز میں محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کی جزوی بندش 76 دن تک برقرار رہی۔
اگر اس مرتبہ بھی بجٹ پر اتفاق نہ ہو سکا تو حکومتی سرگرمیوں میں تعطل اور فنانشل مارکیٹس میں غیر یقینی صورتحال بڑھ سکتی ہے۔
ٹریژری ییلڈز بڑھنے سے ڈالر لازماً مضبوط نہیں ہوگا
US Midterm Elections کا اثر ڈالر تک پہنچنے کا بنیادی راستہ حکومتی قرضے اور بانڈز کی ییلڈز ہیں۔ جب حکومت زیادہ قرض لیتی ہے تو سرمایہ کار اضافی خطرے اور مستقبل کی مالیاتی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے زیادہ منافع کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔
اس سے طویل مدتی ٹریژری ییلڈز میں اضافہ ہوتا ہے، جو عام حالات میں ڈالر کو سہارا دیتا ہے کیونکہ امریکی اثاثوں پر زیادہ منافع غیر ملکی سرمایہ کاروں کو متوجہ کر سکتا ہے۔ستمبر میں امریکی ڈالر انڈیکس تقریباً 2 فیصد بڑھا تھا، جس کے دوران ٹریژری ییلڈز میں بھی اضافہ ہوا۔ تاہم ڈالر کے لیے اصل سوال صرف ییلڈ کی سطح نہیں بلکہ اس اضافے کی وجہ ہے۔

اگر ٹریژری ییلڈ میں اضافہ بہتر معاشی ترقی، مضبوط روزگار اور سرمایہ کاری کے امکانات کی وجہ سے ہو تو ڈالر کے مضبوط ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر ییلڈز میں اضافہ حکومتی قرضوں، بجٹ خسارے اور مالیاتی عدم استحکام کے خدشات کی وجہ سے ہو تو سرمایہ کار امریکی معیشت کے طویل مدتی مالیاتی مستقبل پر سوال اٹھا سکتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں زیادہ ییلڈز کے باوجود ڈالر کمزور ہو سکتا ہے۔
اسی لیے امریکی ڈالر کی سمت کے لیے ٹریژری ییلڈز کی سمت کے ساتھ ان کے پیچھے موجود معاشی وجوہات کو سمجھنا بھی ضروری ہوگا۔

Stock Market اور گولڈ کیلئے منقسم کانگریس کی اہمیت
امریکی انتخابات کے نتائج صرف بانڈز اور ڈالر ہی نہیں بلکہ US Stock Market اور سونے کی قیمتوں کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔ T. Rowe Price کے تجزیے کے مطابق کانگریس میں سیاسی تقسیم ڈالر کے لیے سہارا اور سونے کے لیے دباؤ کا باعث بن سکتی ہے، کیونکہ انتخابات سے پہلے سونے کی قیمتوں میں شامل بعض سیاسی خطرات کم ہو سکتے ہیں۔
تاریخی اعدادوشمار بھی وسط مدتی انتخابات کے بعد امریکی اسٹاک مارکیٹ کی کارکردگی کے حوالے سے دلچسپ تصویر پیش کرتے ہیں۔ 1874 کے بعد سے S&P 500 نے US Midterm Elections کے بعد 12 ماہ کے دوران اوسطاً 14 فیصد اضافہ دکھایا ہے اور تقریباً 84 فیصد مواقع پر مثبت کارکردگی ریکارڈ کی ہے۔
تاہم ایک اہم تاریخی پہلو یہ ہے کہ جب وائٹ ہاؤس اور کانگریس دونوں پر ریپلکنز کا مکمل کنٹرول رہا تو اسٹاک مارکیٹ کی اوسط کارکردگی منفی رہی۔ اس لیے وہ انتخابی نتیجہ جو حکومتی قرضوں میں اضافے کا راستہ کھول سکتا ہے، ضروری نہیں کہ اسٹاک مارکیٹ کے لیے بھی سب سے زیادہ فائدہ مند ہو۔
دوسری جانب مائیکل ہارنیٹ کے تجزیے میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اگر Democrats دونوں ایوانوں میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو امریکی اسٹاک مارکیٹ میں 10 فیصد یا اس سے زیادہ کمی بھی ممکن ہے۔
تاہم US Bank کی 31 US Midterm Elections پر مبنی تحقیق کے مطابق انتخابی نتائج کے بعد اگلے سال اسٹاک مارکیٹ کی کارکردگی پر حکمران جماعت کی تبدیلی کا کوئی واضح اور قابل پیمائش اثر سامنے نہیں آیا۔ اس لیے تاریخی رجحانات کو مستقبل کی یقینی پیش گوئی سمجھنے کے بجائے انہیں سرمایہ کاری کے ممکنہ منظرناموں کے طور پر دیکھنا زیادہ مناسب ہوگا۔
Federal Reserve اور افراط زر: انتخابات کے ساتھ شرح سود کا اہم کردار
امریکی انتخابات کے دوران Federal Reserve کی مالیاتی پالیسی بھی سرمایہ کاروں کے لیے اہم رہے گی۔ فراہم کردہ معاشی معلومات کے مطابق فیڈرل ریزرو نے 16 ستمبر کو شرح سود بڑھا کر 3.75 سے 4.00 فیصد کی حد میں مقرر کی تھی۔
14 اکتوبر کو جاری ہونے والے ستمبر کے کنزیومر پرائس انڈیکس اعدادوشمار میں سالانہ افراط زر 3.7 فیصد رہا، جو مارکیٹ کی توقعات سے 0.1 فیصد زیادہ تھا۔ اس نتیجے کے بعد فنانشل مارکیٹس میں شرح سود کے مستقبل سے متعلق توقعات میں تبدیلی آئی۔ فیوچرز مارکیٹ میں دسمبر کے اجلاس میں شرح سود بڑھنے کے امکانات 90 فیصد سے زیادہ جبکہ اکتوبر میں اضافے کے امکانات تقریباً ایک تہائی ظاہر کیے گئے تھے۔
فیڈرل ریزرو کے چیئرمین وارش نے 16 اکتوبر کو کہا تھا کہ وہ 2026 کے باقی اجلاسوں کے بارے میں پہلے سے فیصلے ظاہر کرنے کے حامی نہیں ہیں۔ انہوں نے اکتوبر اور دسمبر کے اجلاسوں کو اہم فیصلہ کن مواقع بھی قرار دیا۔
اس صورتحال میں ٹریژری ییلڈز پر انتخابات کے اثرات کو الگ سے جانچنا مشکل ہوگا، کیونکہ سرمایہ کار افراط زر ، روزگار اور فیڈرل ریزرو کے فیصلوں کو بھی مسلسل اپنی توقعات میں شامل کر رہے ہیں۔
عالمی سرمایہ کاروں کے لیے امریکی انتخابات کا اصل پیغام
2026 کے امریکی Midterm Elections ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب امریکہ کو بیک وقت سیاسی، معاشی اور مالیاتی چیلنجز کا سامنا ہے۔ ایران کے ساتھ جنگ، توانائی کی قیمتیں، افراط زر، حکومتی قرضے اور مالیاتی خسارہ پہلے ہی سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز ہیں۔
اگر ریپلکنز دونوں ایوانوں میں اکثریت برقرار رکھتے ہیں تو حکومتی اخراجات اور دفاعی منصوبوں میں اضافے کا امکان بڑھ سکتا ہے، جس سے ٹریژری ییلڈز میں تیزی آ سکتی ہے۔ تاہم اگر یہ اضافہ بڑھتے ہوئے مالیاتی خسارے کی وجہ سے ہوا تو ڈالر کے لیے صورتحال پیچیدہ ہو سکتی ہے۔
اگر ڈیموکریٹس کامیاب ہو جاتے ہیں تو ٹرمپ انتظامیہ کی مالیاتی پالیسیوں پر کانگریس کی مزاحمت بڑھ سکتی ہے، جبکہ حکومتی فنڈنگ اور قرض کی حد سے متعلق سیاسی اختلافات نئے سرے سے سامنے آ سکتے ہیں۔ دوسری جانب Split Congress کی صورت میں بڑے مالیاتی فیصلوں میں تعطل پیدا ہو سکتا ہے، لیکن محدود حکومتی اخراجات بانڈ مارکیٹ کے لیے نسبتاً مثبت ثابت ہو سکتے ہیں۔
اس پورے منظرنامے میں سرمایہ کاروں کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ US Midterm Elections کے نتائج سے زیادہ اہم ان کے نتیجے میں سامنے آنے والی مالیاتی پالیسی ہوگی۔ ٹریژری ییلڈز ابتدائی ردعمل ظاہر کر سکتی ہیں، جبکہ US Dollar, Gold اور S&P 500 کی درمیانی مدت کی سمت کا تعین حکومتی قرضوں، افراط زر اور Federal Reserve کے فیصلوں سے ہوگا۔
یوں امریکی انتخابات صرف ٹرمپ کی سیاسی مقبولیت کا امتحان نہیں بلکہ عالمی فنانشل مارکیٹس کے لیے بھی ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتے ہیں، جہاں کانگریس کے نئے سیاسی توازن سے آنے والے دو سال کی امریکی قرض پالیسی اور عالمی سرمایہ کاری کے رجحانات متاثر ہونے کا امکان ہے۔
آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا 2026 کے US Midterm Elections کے بعد وال سٹریٹ میں نئی تیزی دیکھنے کو ملے گی یا ایران تنازع کی وجہ سے افراط زر کا دباؤ مارکیٹس پر غالب رہے گا؟ اپنے خیالات کا اظہار نیچے کمنٹس میں کریں۔
اظہار لاتعلقی
Urdu Markets پر موجود تمام خبریں، تجزیے اور مارکیٹ انفارمیشن صرف معلوماتی اور تعلیمی مقصد کے لیے ہیں۔ کسی بھی Trading Decision یا سرمایہ کاری سے پہلے اپنی تحقیق ضرور کریں اور ضرورت پڑنے پر معاشی ماہرین سے رہنمائی حاصل کریں۔ مارکیٹ تیزی سے بدل سکتی ہے، اس لیے ہر فیصلہ سوچ سمجھ کر کریں۔
اطلاعات کے ذرائع
یہ مضمون اردو مارکیٹس کے فراہم کردہ مواد، مصنفہ کی ذاتی تحقیق و تجزیے کی بنیاد پر مرتب کیا گیا ہے۔ US Midterm Elections بارے تمام اعداد و شمار عالمی خبر رساں ایجنسی رائٹرز اور امریکی میڈیا سے تصدیق شدہ ہیں۔
https://www.reuters.com/world/us/trump-faces-midterm-verdict-with-control-congress-stake-2026-11-03/
⚠ تجزیہ ڈسکلیمر
یہ تجزیہ صرف تعلیمی و معلوماتی مقاصد کے لیے ہے اور اسے سرمایہ کاری کا مشورہ نہ سمجھا جائے۔ مارکیٹ میں نقصان کا خطرہ موجود ہے؛ کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے اپنی تحقیق کریں یا مستند مالی مشیر سے رجوع کریں۔📩 یہ مضمون پسند آیا؟
روزانہ ایسی ہی تازہ مارکیٹ نیوز + ای میل پر
متعلقہ موضوعات
متعلقہ مضامین
3 مضامین
امریکہ کے قشم جزیرے پر حملے، ایران کا ڈرونز قبضے میں لینے کا دعویٰ، تیل کی قیمتوں میں اضافہ
بینک آف جاپان کا شرح سود برقرار رکھنے کا فیصلہ، ین کی قدر میں اتار چڑھاؤ
جاپانی افراط زر کی شرح بڑھ گئی، Tokyo CPI اکتوبر میں 2.8% تک پہنچ گئی، ین کی محدود رینج
تبصرے
0 گفتگو
ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کرنے والے آپ بن سکتے ہیں۔