امریکی اسٹاکس میں کاروباری دن ملے جلے انداز میں ختم۔

U.S CPI کے بعد مارکیٹس میں تیزی جبکہ Jobless Claims کے بعد گراوٹ واقع ہوئی۔

امریکی اسٹاکس میں آج دوسرے روز بھی تیزی کا رجحان رہا۔ توقعات کے مطابق US CPI Report آنے پر افراط زر کے رسک فیکٹر میں کمی آئی ۔ جس کا بھرہور ایڈوانٹیج اسٹاکس کو حاصل ہوا۔ تاہم بعد میں آنیوالی US Jobless Claims کے منفی اعداد و شمار سے ڈالر اسٹاکس سے Gains واپس حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔

معاشی رپورٹس امریکی اسٹاکس پر کیسے اثر انداز ہوئیں۔ ؟

امریکی محکمہ شماریات کے جاری کردہ اعداد و شمار میں Headline Inflation کی ماہانہ سطح توقعات کے مطابق 0.2 فیصد رہی۔ جبکہ گذشتہ ماہ بھی یہ ریڈنگ اتنی ہی رہی تھی۔ ڈیٹا کے مطابق سالانہ افراط زر 3.2 فیصد رہی ہے جبکہ 3.3 فیصد کی پیشگوئی تھی۔ اگر سالانہ فگرز کا جائزہ لیں تو سابقہ رپورٹ میں یہ لیول 3 فیصد آیا تھا۔

US CPI Report

دوسری طرف Core Inflation کی ماہانہ سطح 0.2 اور سالانہ 4.7 فیصد آئی ہے۔ جبکہ اس سے قبل جاری کئے گئے تخمینوں میں یہ لیولز 0.2 اور 4.8 فیصد تھے۔ اس طرح کئی پہلوؤں سے یہ رپورٹ توقعات سے زیادہ بہتر آئی ہے۔ جس کے بعد عالمی اسٹاکس میں افراط زر (Inflation) اور کساد بازاری کے رسک فیکٹر میں کمی واقع ہوئی ہے اور انکی طلب (Demand) میں اضافہ ہوا ہے۔

امریکی ڈالر اور اسکی پروڈکٹس میں گراوٹ کی بڑی وجہ رپورٹ میں Headline اور Core Inflation کا توقعات سے کم رہنا ہے۔ جس کی وجہ سے ستمبر 2023ء کی FOMC میٹنگ میں فیڈرل ریزرو کے پاس Rate Hike Program بند یو معطل کرنے کا مضبوط جواز آ گیا ہے۔

ڈیٹا پبلش ہونے سے پہلے مارکیٹس دفاعی انداز اختیار کئے ہوئے تھیں۔ اور US CPI کے بعد اسٹاکس میں بڑی خریداری ہوئی تاہم اس کے فوری بعد آنیوالی معاشی رپورٹ سے امریکی ڈالر بڑی گراوٹ سے بچنے میں کامیاب رہا۔

ہفتہ وار Jobless Claims امریکی ڈالر کیلئے موثر سپورٹ

جاری کردہ ڈیٹا میں ہفتہ وار بیروزگاری کے دعووں کی تعداد 2 لاکھ 48 ہزار رہی۔ جبکہ اس سے قبل 2 لاکھ 30 ہزار کی پیشگوئی تھی۔ اگر اس کا تقابلہ گذشتہ ہفتے کے ساتھ کریں تو سابقہ رپورٹ میں یہ فگرز 2 لاکھ 27 ہزار تھے۔ اس کے ساتھ ہی ملک بھر میں بیروزگاری کے سالانہ کلیمز 17 لاکھ 10 ہزار ہو گئے ہیں جو کہ لیبر مارکیٹ پر بڑھتے ہوئے دباؤ کو ظاہر کر رہے ہیں۔

اس رپورٹ سے لیبر مارکیٹ پر دباؤ ظاہر ہو رہا ہے۔ جو کہ Rates Hike Program جاری رکھنے کی ایڈوائس کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ڈیٹا سے امریکی ڈالر کو ٹیکنیکی سپورٹ حاصل ہوئی اور یہ کھوئی ہوئی قدر کا کچھ حصہ وصول کرنے میں کامیاب ہوا۔

مارکیٹس کی صورتحال

Dow Jones Industrial Average میں دن بھر اتار چڑھاؤ رہا۔ آغاز میں 450 پوائنٹس کی تیزی کے بعد دن کے وسطی اور اختتامی سیشنز کے دوران فروخت کا رجحان دیکھا گیا۔ معاشی سرگرمیاں 52 پوائنٹس کے اضافے سے 35176 پر اختتام پذیر ہوئیں۔ ۔ انڈیکس رینج 35107 سے 35578 کے درمیان رہی جبکہ مارکیٹ میں 34 کروڑ سے زائد شیئرز کا لین دین ہوا۔

امریکی اسٹاکس میں کاروباری دن ملے جلے انداز میں ختم۔

Nasdaq Composite میں کاروباری سیشن محض 15 پوائٹس کی تیزی سے 13737 پر بند ہوا۔ آج اسکی ٹریڈنگ رینج 13686 سے 13947 کے درمیان رہی جبکہ مارکیٹ میں 98 کروڑ شیئرز کا تبادلہ ہوا۔

امریکی اسٹاکس میں کاروباری دن ملے جلے انداز میں ختم۔

S&P اور دیگر امریکی مارکیٹس میں بھی ملا جلا رجحان ہی دیکھنے میں آیا۔

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button