امریکی ریٹیل سیلز رپورٹ، توقعات اور اثرات

ڈیٹا کے انتظار میں سرمایہ کاروں کا محتاط انداز 

امریکی ریٹیل سیلز رپورٹ آج جاری کی جائے گی۔ جس کے اثرات امریکی ڈالر سمیت تمام عالمی مارکیٹس پر مرتب ہونے کی توقع ہے۔ رواں ماہ کے آغاز سے امریکی ڈالر پر مسلسل دباؤ اور مالیاتی بحران کے سبب یہ ڈیٹا انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ جسے U.S Census Bureau عالمی معیاری وقت کے مطابق 12.30 بجے پبلش کرے گا۔

امریکی ریٹیل سیلز رپورٹ کیا ہے اور یہ کتنی اہمیت کی حامل ہے ؟

امریکی محکمہ شماریات کی جاری کردہ یہ رپورٹ انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ اس سے نہ صرف امریکی ریٹیلز سیلز انڈسٹری کی صورتحال واضح ہوتی ہے بلکہ روزمرہ اشیاء پر افراط زر (Inflation) کے حقیقی اثرات کا بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ گزشتہ ماہ جاری ہونیوالے ڈیٹا میں افراط زر کی شرح 2.9 فیصد رہی تھی۔

امریکی ریٹیل سیلز رپورٹ آج جاری کی جائے گی۔ جس کے اثرات امریکی ڈالر سمیت تمام عالمی مارکیٹس پر مرتب ہونے کی توقع ہے

آج مارکیٹ توقعات 1.6 فیصد سالانہ کی ہیں۔ مئی2023ء کے ڈیٹا میں ریٹیل سیلز انڈسٹری کے حجم میں 0.6 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔ تاہم اس کا سب سے زیادہ منفی پہلو انڈسٹری سے 2 لاکھ 13 ہزار افراد کا بیروزگار ہونا تھا۔

رپورٹ کے متوقع اثرات

اس رپورٹ کے اعداد و شمار CPI کی طرح ڈالر انڈیکس (DXY) اور بانڈز پر معکوس (Inverse) اثرات مرتب ہوتے ہیں جبکہ کماڈٹیز اور اسٹاکس کو براہ راست متاثر کرتے ہیں۔ یعنی اگر رپورٹ کا ڈیٹا مثبت ہوا تو امریکی ڈالر اور اسکے سرمایہ کاری بانڈز کی طلب (Demand) میں کمی واقع ہو گی کیونکہ مثبت ڈیٹا مارکیٹ پر افراط زر کے دباؤ میں کمی کو ظاہر کرتا ہے، جس سے FOMC کی آئندہ میٹنگ میں شرح سود (Fed) میں کم اضافے کا امکان پیدا ہو جاتا ہے۔

اس سے اسٹاکس اور کماڈٹیز کی طلب و قدر میں اضافہ ہو گا۔ رپورٹ کے منفی اعداد و شمار کے یا توقعات کے برعکس رہنے کی صورت میں اسٹاکس اور کماڈٹیز (بالخصوص گولڈ اور پلاٹینیئم) کی قدر میں شدید گراوٹ واقع ہو سکتی ہے لیکن ڈالر اور بانڈز کی طلب میں اضافہ ہو نے کی توقع ہے۔۔

عالمی فاریکس مارکیٹ کا جائزہ لیں تو یورو، فرانک، برطانوی پاؤنڈ بھی اس رپورٹ کے اثرات کی زد میں آئیں گے اور امریکی اسٹاکس و کماڈٹیز کی طرح ہی ردعمل ظاہر کرتی ہیں۔ آج شام مثبت ڈیٹا آنے کی صورت میں امریکی ڈالر مزید دفاعی انداز کر لے گا۔ جبکہ یورو اور دیگر کرنسیز اپنی بلش ریلی  جاری رکھیں گی

تاہم منفی ڈیٹا سے چونکہ پالیسی ریٹس میں زیادہ اضافے کی توقع ہوتی ہے۔ جس کی وجہ سے امریکی ڈالر دیگر تمام حریفوں کو بیک فٹ پر لا سکتا ہے۔ آج رپورٹ کے انتظار میں دن بھر مارکیٹس محتاط انداز میں ٹریڈ کر سکتی ہیں۔

کرپٹو کرنسیز بھی اس ڈیٹا پر اپنا ردعمل اسٹاکس اور کماڈٹیز کی طرح براہ راست دیتی ہیں۔ یعنی مثبت ڈیٹا سے تیزی کا رجحان اور منفی آنے کی صورت میں طلب و قدر میں کمی تاہم اس کا انحصار امریکی ڈالر اور 10 سالہ مدت کی U.S Bond Yields پر ہوتا ہے۔ جن میں کمی سے کرپٹو کرنسیز سمیت دیگر تمام مارکیٹ پلیئرز کی قدر میں تیزی آتی ہے جبکہ ان میں ہونیوالے اضافے سے منفی ردعمل آتا ہے۔

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button