US CPI Report کا اجرا آج کیا جاےگا. مارکیٹس محتاط موڈ اختیار کئے ہوۓ.

Core Inflation کے  4.8 فیصد رہنے کا  تخمینہ جاری کیا گیا ہے

US CPI Report آج جاری کی جائے گی۔ Bureau Of Labor Statistics عالمی معیاری وقت کے 12.30 بجے (پاکستانی وقت کے مطابق 17.30بجے)رپورٹ پبلش کرے گا۔

مارکیٹ توقعات اور پیشگوئیاں

تخمینے کے مطابق جون 2023ء کے دوران ملک میں افراط زر (Inflation) کی شرح. ٣.1   فیصد رہنے کی توقع ہے۔ جبکہ Core Inflation کے  4.8 فیصد رہنے کا  تخمینہ جاری کیا گیا ہے گذشتہ ماہ ریلیز کی جانیوالی جون  2023ء کی رپورٹ میں سالانہ شرح 4 فیصد رہی تھی۔ اس طرح آج کے ڈیٹا میں Headline Inflation گذشتہ ماہ کی نسبت زیادہ رہنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے جس سے امریکی فیڈرل ریزرو (Fed) ستمبر  میں  نرم مانیٹری پالیسی اختیار کرنے یا Rate Hike Program معطل کرنے کا فیصلہ کر سکتا ہے

US CPI Report کی اہمیت اور مارکیٹ پر ممکنہ اثرات

چیئرمین فیڈ جیروم پاول پہلے ہی پالیسی ریٹس میں مرحلہ وار نرمی کا اعلان کر چکے ہیں۔ لیکن رواں ماہ FOMC کا فیصلہ اس وقت مارکیٹ کو محتاط انداز اختیار کرنے پر مجبور کر رہا ہے کیونکہ پالیسی ساز اراکین کے متضاد بیانات غیر یقینی صورتحال پیدا کر رہے ہیں۔

US CPI Report کسے کہتے ہیں اور اس سے کیا نتائج اخذ کئے جاتے ہیں۔؟

کنزیومر پرائس انڈیکس اہم ترین معاشی رپورٹ تصور کی جاتی ہے جس سے صارفین کے لئے اشیاء اور خدمات کی ادا شدہ قیمتوں کی پیمائش کی جاتی ہے۔ یعنی سادہ الفاظ میں کنزیومر پرائس انڈیکس عوامی سطح پر Food اور Fuels میں مہنگائی اور افراط زر کی شرح کو ظاہر کرتا ہے جس کی بنیاد پر فیڈرل ریزرو اوپن مارکیٹ کمیٹی (FOMC) کے پالیسی ساز ارکان مانیٹری پالیسی میں تبدیلی کا فیصلہ کرتے ہیں۔

امریکی CPI کے متوقع اثرات۔

توقعات کے مطابق رپورٹ کا مطلب یہ ہو گا کہ مئی 2023ء کی نسبت جون میں افراط زر کم رہی ہے جس کے نتیجے میں اسٹاکس اور کماڈٹیز بالخصوص Gold کی طلب (Demand) میں اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ سرمایہ کاروں کیلئے کساد بازاری (Recession) کا رسک فیکٹر کم ہو جائے گا

توقعات کے مطابق یا اس سے کم CPI نہ صرف اسٹاکس کی قدر میں اضافے کا باعث بنتی ہے بلکہ اس سے گولڈ اور پلاٹینیئم سمیت دھاتوں کی طلب و قدر میں اضافہ ہوتا ہے، لیکن اسکے حقیقی اثرات کا تعین رپورٹ کے اجراء سے چار گھنٹوں کے بعد کیا جا سکتا ہے۔ ڈیٹا ریلیز ہونے کے فوری بعد آنے والا ردعمل بعض اوقات غیر متوقع ہوتا ہے۔

دوسری طرف امریکی ڈالر (USD) پر اسکے اثرات عمومی طور پر اسٹاکس اور کماڈٹیز کے برعکس ہوتے ہیں۔ کم افراط زر اور مہنگائی واضح اشارہ دیتی ہے کہ فیڈرل ریزرو مانیٹری پالیسی کو نرم اور شرح سود میں کمی کرنے جا رہا ہے

اس  سے امریکی ڈالر اور اس سے منسلک امریکی محکمہ خزانہ کے بانڈز ( خاص طور پر 3 اور 10 سالہ مدت) کی طلب و قدر اور Yields میں کمی واقع ہوتی ہے اور یورو (EUR), برطانوی پاؤنڈ (GBP) سمیت دیگر عالمی کرنسیز کی قدر میں اضافہ ہوتا ہے۔

رپورٹ سے پہلے کی صورتحال

تاہم آج کی رپورٹ ریلیز ہونے سے پہلے ہی امریکی ڈالر قدرے دباؤ میں نظر آ رہا ہے۔ جس کی وجہ عالمی معاشی بحران (Global Financial Crisis) کے بعد پے در پے آنیوالے مسائل ہیں جن میں سے U.S Debit Ceiling کو اگرچہ حل کر لیا گیا تھا تاہم اس سے عالمی مارکیٹس میں سرمایہ کار انتہائی محتاط انداز اختیار کر گئے ۔

آج کی رپورٹ یوں بھی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ FOMC میٹنگ سے پہلے یہ آخری High Profile Data ہے۔ جس سے امریکی معیشت کا منظر نامہ سامنے آئے گا۔

عام طور پر کرپٹو کرنسیز پر بھی اسکے اثرات امریکی ڈالر کے برعکس ہوتے ہیں کیونکہ امریکی ڈالر کی طلب میں کمی کے واضح معنی اسکے مدمقابل اور مخالف سمت میں ٹریڈ کرنیوالی کرنسیز، اسٹاکس اور کماڈٹیز کی قدر میں اضافہ پے ۔

اسوقت بائنانس اور Coinbase کے خلاف امریکی ریگولیٹری اداروں کے اقدامات اور کریک ڈاؤن سے انڈسٹری دباؤ کی شکار ہے۔ بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ اسوقت کرپٹو مارکیٹ SEC اور ایوان نمائندگان کی طرف سے آپریشنز بند کئے جانے کے خدشے کی شکار ہے

اس کے باوجود BTC مسلسل اپنی کھوئی ہوئی قدر بحال کرنے میں مصروف اور 29 ہزار کے قریب  مستحکم ہے۔ ۔ اس لئے مارکیٹ پر توقعات کے مطابق یا اس سے کم رینے کی صورت میں یہ 30 ہزار ڈالرز کی مزاحمت (Resistance Level) عبور کر سکتا ہے۔

عالمی مارکیٹس (Global Markets) میں آج کنزیومر پرائس انڈیکس کے اجراء کے پیش نظر امریکی ڈالر دباؤ کا شکار ہے۔ لیکن رپورٹ ریلیز ہونے کے بعد متوقع طور پر یہ اسٹرینتھ حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔ تاہم سرمایہ کاروں کی اکثریت 26 جولائی کو FOMC اجلاس کے فیصلے کا انتظار کر رہی ہے اور اسکے بعد ہی اپنی معاشی سرگرمیاں بھرپور انداز میں شروع کرے گی۔

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button