بینک آف انگلینڈ ) کے گورنر اینڈریو بیلی (Andrew Bailey) کی جانب سے برطانوی پارلیمنٹ کی ٹریژری کمیٹی کے سامنے پیش ہو کر افراط زر اور مانیٹری پالیسی پر گواہی دینا معاشی حلقوں میں ایک انتہائی اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
"new zealand dollar plunged after rbnz monetary policy" کے لیے 344 نتائج۔
بینک آف انگلینڈ ) کے گورنر اینڈریو بیلی (Andrew Bailey) کی جانب سے برطانوی پارلیمنٹ کی ٹریژری کمیٹی کے سامنے پیش ہو کر افراط زر اور مانیٹری پالیسی پر گواہی دینا معاشی حلقوں میں ایک انتہائی اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
Gold Price میں دوبارہ تیزی دیکھی جا رہی ہے اور کمزور US Dollar نے XAU/USD کو support فراہم کیا ہے۔ XAU/USD کے لیے $4,400 اہم Support جبکہ $4,465 اہم Resistance Level ہے۔ اگر 4,465Gold کے اوپر breakout دیتا ہے تو price $4,550 اور $4,675 کی طرف بڑھ سکتی ہے۔ دوسری جانب $4,400 کے نیچے break ہونے سے $4,350 اور $4,260 کی طرف correction کا امکان بڑھ سکتا ہے۔ آنے والا US CPI اور PPI data، جبکہ Federal Reserve کی Gold Price interest rate expectations، کی اگلی direction کے لیے اہم رہیں گی۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج ابتدائی سیشن کے دوران جو مندی دیکھی گئی ہے، اس نے سرمایہ کاروں کو ایک بار پھر محتاط رہنے پر مجبور کر دیا ہے
USD/JPY ایشیائی سیشن میں گر کر 152.89 پر آ گیا، جو کہ 18 فروری 2026 کے بعد جاپانی ین کی امریکی ڈالر کے مقابلے میں مضبوط ترین قدر ہے۔ جاپان میں جولائی کے دوران حقیقی اجرتوں میں سالانہ بنیاد پر 2.4 فیصد کا ٹھوس اضافہ ہوا، جس نے گھریلو قوتِ خرید کو تحفظ دے کر بینک آف جاپان (BoJ) کے لیے شرحِ سود بڑھانے کا راستہ ہموار کیا ہے۔ دوسری سہ ماہی کی حقیقی GDP growth سالانہ شرح پر ابتدائی 1.1 فیصد سے بڑھا کر 1.4 فیصد کر دی گئی۔ کاروباری سرمایہ کاری بدستور منفی رہی، تاہم اس میں کمی ابتدائی تخمینے سے کم تھی، جبکہ بیرونی طلب نے مجموعی نمو کو اہم سہارا دیا۔ امریکی ڈالر انڈیکس (DXY) پر دباؤ: ڈالر کا اشاریہ گر کر 98.83 کی دو ہفتوں کی کم ترین سطح پر آ گیا، جس سے جوڑی پر نیچے کی جانب دو طرفہ دباؤ قائم ہوا۔ اگرچہ ین مضبوط ہے، تاہم 10 سالہ امریکی ٹریژری ییلڈ 4.79 فیصد پر برقرار رہنے اور خام تیل کی اونچی قیمتوں کے باعث پیدا ہونے والا شرحِ سود کا فرق فیڈ اور ڈالر کے لیے بدستور ایک دفاعی دیوار بنا ہوا ہے۔
ایران نے امریکہ کے خلاف براہ راست Iran US economic warfare (ایران اور امریکہ کے درمیان اقتصادی جنگ) اور میزائل حملوں کی دھمکی دی ہے، جس سے نہ صرف خطے میں جنگ کا دائرہ وسیع ہونے کا خدشہ ہے بلکہ عالمی توانائی کی سپلائی لائنز بھی شدید خطرے میں ہیں۔
اگست کی تجارتی رپورٹ Chinese Trade Balance نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ چینی معیشت عالمی سپلائی چین (Supply Chain) میں کتنی گہری جڑیں رکھتی ہے۔
نامور عالمی ریٹنگ ایجنسی موڈیز ریٹنگز (Moody’s Ratings) کے ایک تجزیے کے مطابق، پاکستان نے اس Hormuz Shock کو 2022 کے ہولناک تیل بحران کے مقابلے میں کہیں زیادہ بہتر طریقے سے برداشت کیا ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں KSE-100 انڈیکس نے آج 177,167 پر کھلنے کے بعد 0.97 فیصد کی نمایاں گراوٹ کے ساتھ 173,636 پوائنٹس پر بندش دی، جو 174,600 کی اہم سپورٹ سطح سے نیچے ہے۔ یہ گراوٹ مارکیٹ میں بڑھتے ہوئے بیئرش دباؤ اور پچھلی رینج باؤنڈ ریکوری کی تھیسس کی نفی کی نشاندہی کرتی ہے۔
ایشیائی انڈیکسز میں تیزی: جاپان کا Nikkei 225 تقریباً 2% اور جنوبی کوریا کا Kospi تقریباً 3% چڑھے، جبکہ جاپان کے علاوہ وسیع ایشیائی مارکیٹس میں بھی 0.9% اضافہ ہوا۔ امریکی روزگار کا دوہرا اثر: مضبوط US Jobs ڈیٹا نے عالمی نمو پر اعتماد بحال کیا، مگر ساتھ ہی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرحِ سود طویل عرصے تک بلند رکھنے کے خدشات بھی برقرار رکھے۔ توانائی بحران میں استقامت: مشرقِ وسطیٰ کشیدگی اور برینٹ تیل کے 96 ڈالر پر پہنچنے کے باوجود ایشیائی حصص میں کسی بڑے پیمانے کی فروخت (Sell-off) کا دباؤ نہیں دیکھا گیا۔ ین اور نکیئی کا باہمی ربط: ڈالر کے مقابلے جاپانی ین کی مضبوطی کے باوجود Nikkei کا بڑھنا ظاہر کرتا ہے کہ تیزی صرف کمزور کرنسی پر نہیں بلکہ کمپنیوں کی حقیقی طلب پر قائم ہے۔ امریکی تعطیل (Labor Day): آج امریکا میں تعطیل کے باعث وال اسٹریٹ اور کیش ٹریژری مارکیٹس بند ہیں؛ اس ریلی کی حتمی عالمی توثیق منگل کو امریکی سیشن کھلنے پر ہوگی۔
خسارے میں سالانہ اضافہ: مالی سال 27 کے پہلے دو ماہ (2MFY27) میں تجارتی خسارہ 18.1 فیصد بڑھ کر 7.12 ارب ڈالر تک جا پہنچا، جس کے نتیجے میں تجارتی خلا میں 1.09 ارب ڈالر کا خالص اضافہ ہوا۔ درآمدات بمقابلہ برآمدات: ملکی درآمدات کی سالانہ رفتار (13%) برآمدات کی نمو (7%) کے مقابلے میں تقریباً دو گنی تیز رہی۔ اگست کی ماہانہ حقیقت: اگست کا خسارہ جولائی کے مقابلے میں 19.7 فیصد کم ہو کر 3.17 ارب ڈالر رہا، لیکن اس کی بنیادی وجہ برآمدات کا بڑھنا نہیں بلکہ درآمدات میں 17.7 فیصد اور برآمدات میں 15 فیصد کی بیک وقت ماہانہ گراوٹ تھی۔ سالانہ بگاڑ برقرار: ماہانہ ریلیف کے باوجود اگست 2026 کا تجارتی خسارہ اگست 2025 کے مقابلے میں 10.4 فیصد زائد رہا، جبکہ اگست کی سالانہ امپورٹ نمو (7.4%) ایکسپورٹ نمو (3.8%) سے دو گنی رہی۔ تیل اور روپے کا منظرنامہ: جولائی میں پیٹرولیم درآمدات میں 5.2 فیصد کی سالانہ کمی تھی، لیکن ستمبر میں خام تیل کا 92 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرنا نئے خطرات لا رہا ہے۔ فی الوقت 17.12 ارب ڈالر کے سرکاری ذخائر روپے کو 277.41 پر مختصر مدتی استحکام فراہم کر رہے ہیں۔
پاکستانی روپے (PKR) میں انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں گراوٹ کا سلسلہ جاری ہے، جو 277.60 کے قریب ٹریڈ کر رہا ہے۔ یہ رجحان درآمدی ادائیگیوں کے دباؤ، عالمی ڈالر کی مضبوطی اور مقامی طلب میں اضافے کا نتیجہ ہے۔ پچھلی 276.50 کی سطح اب اہم سپورٹ کے طور پر کام کر رہی ہے، جبکہ مارکیٹ نئی مزاحمت کی سطحوں کو جانچ رہی ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا KSE-100 انڈیکس 177,000 کی اہم سطح سے نیچے بریک ڈاؤن کے بعد ایک رینج باؤنڈ کنسولیڈیشن میں داخل ہو گیا ہے۔ مارکیٹ میں فروخت کا دباؤ کم ہوا ہے اور خریداروں کی محتاط واپسی ہوئی ہے، جس سے استحکام کی ابتدائی علامات نظر آ رہی ہیں، حالانکہ وسیع البنیاد بحالی کا ابھی بھی فقدان ہے۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں