یورپی بینکنگ کے شعبے میں ایک بڑی پیشرفت سامنے آئی ہے۔ آج اٹلی کے معروف مالیاتی ادارے UniCredit کو یورپی مرکزی بینک کی جانب سے ایک بہت بڑا ریگولیٹری ریلیف مل گیا ہے۔
"کرپٹو اپڈیٹس بٹ کوائن سے ایولانچے تک ک 2" کے لیے 603 نتائج۔
یورپی بینکنگ کے شعبے میں ایک بڑی پیشرفت سامنے آئی ہے۔ آج اٹلی کے معروف مالیاتی ادارے UniCredit کو یورپی مرکزی بینک کی جانب سے ایک بہت بڑا ریگولیٹری ریلیف مل گیا ہے۔
عالمی مارکیٹس میں ایک بار پھر جغرافیائی سیاسی تناؤ سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ مغربی ٹیکساس انٹرمیڈیٹ، جو کہ امریکی خام تیل کی قیمتوں کا بنیادی معیار ہے، میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
USD/JPY ایشیائی سیشن میں گر کر 152.89 پر آ گیا، جو کہ 18 فروری 2026 کے بعد جاپانی ین کی امریکی ڈالر کے مقابلے میں مضبوط ترین قدر ہے۔ جاپان میں جولائی کے دوران حقیقی اجرتوں میں سالانہ بنیاد پر 2.4 فیصد کا ٹھوس اضافہ ہوا، جس نے گھریلو قوتِ خرید کو تحفظ دے کر بینک آف جاپان (BoJ) کے لیے شرحِ سود بڑھانے کا راستہ ہموار کیا ہے۔ دوسری سہ ماہی کی حقیقی GDP growth سالانہ شرح پر ابتدائی 1.1 فیصد سے بڑھا کر 1.4 فیصد کر دی گئی۔ کاروباری سرمایہ کاری بدستور منفی رہی، تاہم اس میں کمی ابتدائی تخمینے سے کم تھی، جبکہ بیرونی طلب نے مجموعی نمو کو اہم سہارا دیا۔ امریکی ڈالر انڈیکس (DXY) پر دباؤ: ڈالر کا اشاریہ گر کر 98.83 کی دو ہفتوں کی کم ترین سطح پر آ گیا، جس سے جوڑی پر نیچے کی جانب دو طرفہ دباؤ قائم ہوا۔ اگرچہ ین مضبوط ہے، تاہم 10 سالہ امریکی ٹریژری ییلڈ 4.79 فیصد پر برقرار رہنے اور خام تیل کی اونچی قیمتوں کے باعث پیدا ہونے والا شرحِ سود کا فرق فیڈ اور ڈالر کے لیے بدستور ایک دفاعی دیوار بنا ہوا ہے۔
AUD/USD اس وقت 0.72 کے اوپر مضبوط ہے اور اس کا short term trend مثبت نظر آ رہا ہے۔ مضبوط Australian GDP growth اور RBA کی شرح سود میں اضافے کی توقعات Australian Dollar کو سپورٹ کر رہی ہیں۔ دوسری جانب Fed کی شرح سود کی پالیسی اور US CPI رپورٹ pair کی اگلی سمت کے لیے اہم ہوں گی۔ 0.7225 اہم resistance ہے، جبکہ 0.7198 اور 0.7180 اہم support levels ہیں۔ 0.7225 کے اوپر مضبوط break ہونے کی صورت میں 0.7278AUD/USD کی طرف بڑھ سکتا ہے، جبکہ 0.7198 سے نیچے جانے پر مزید correction کا امکان بڑھ سکتا ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں KSE-100 انڈیکس نے آج 177,167 پر کھلنے کے بعد 0.97 فیصد کی نمایاں گراوٹ کے ساتھ 173,636 پوائنٹس پر بندش دی، جو 174,600 کی اہم سپورٹ سطح سے نیچے ہے۔ یہ گراوٹ مارکیٹ میں بڑھتے ہوئے بیئرش دباؤ اور پچھلی رینج باؤنڈ ریکوری کی تھیسس کی نفی کی نشاندہی کرتی ہے۔
PSX میں کاروباری ہفتے کے آغاز پر شدید فروخت کا دباؤ دیکھا گیا، جس کے نتیجے میں بینچ مارک KSE100 انڈیکس تقریباً 800 پوائنٹس تک گر گیا۔ سرمایہ کاروں میں غیر یقینی کی لہر دوڑ گئی ہے کیونکہ مقامی اور بین الاقوامی عوامل بیک وقت مارکیٹ پر اثر انداز ہو رہے ہیں
1.1600EUR/USD کے اہم support کے قریب مستحکم ہے۔ مضبوط US jobs data کے باوجود US Dollar اپنی gains کو مکمل طور پر برقرار نہیں رکھ سکا۔ ECB کی آنے والی policy decision اور US CPI data اس ہفتے pair کی اگلی direction کے لیے اہم ہوں گے۔ 1.1600 کے اوپر رہنے کی صورت میں EUR/USD کے لیے 1.1650 اور 1.1700 اہم levels ہیں۔ 1.1700 کے اوپر breakout مزید bullish momentum پیدا کر سکتا ہے۔ دوسری طرف 1.1600 سے نیچے sustained break ہونے کی صورت میں 1.1575 اور 1.1545 اگلے downside levels بن سکتے ہیں۔
عالمی سونے کی قیمت (XAU/USD) $4,400 کی نفسیاتی سطح پر استحکام دکھا رہی ہے، جبکہ DXY میں معمولی کمی نے اسے کچھ ریلیف فراہم کیا ہے۔ تاہم، امریکی ٹریژری ییلڈز میں اضافہ اور فیڈرل ریزرو کی سخت مانیٹری پالیسی کے امکانات سونے پر دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہیں، جس سے 'bearish trend continuation' کے ساتھ 'range-bound consolidation' کا رجحان غالب ہے۔
USD/JPY میں Selling Pressure برقرار ہے۔ BoJ کی Rate Hike Expectations سے Japanese Yen مضبوط ہو رہا ہے۔ Carry Trade Unwinding بھی Yen کو Support دے رہی ہے۔ 160.00 کے قریب Japanese Intervention Risk اہم ہے۔ دوسری طرف مضبوط US Jobs Data اوDollar Fed Rate Expectations کو Support دے رہی ہیں۔ US CPI Data اگلی بڑی Market Move کے لیے اہم ہوگا۔ 155.00 اہم Support ہے، جبکہ 157.50 Key Resistance ہے۔ 155.00 کے نیچے Pair 154.00 اور 153.50 کی طرف جا سکتا ہے۔ 157.50 کے اوپر Breakout کی صورت میں 159.00 اور 160.00 کی طرف Recovery ممکن ہے۔ مجموعی طور پر USD/JPY کا Short Term Bias Cautiously Bearish ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا KSE-100 انڈیکس 174,600 کی اہم سپورٹ سطح سے اوپر برقرار رہنے میں کامیاب رہا، جس نے پچھلی بیئرش تھیسس کو غلط ثابت کر دیا ہے۔ یہ مارکیٹ میں استحکام کی کوششوں کی نشاندہی کرتا ہے، تاہم، پائیدار رجحان کے لیے وسیع تر شرکت کی ضرورت ہے۔
ہیڈ لائن مہنگائی: قومی سالانہ CPI جولائی کے 9.2 فیصد سے بڑھ کر اگست میں 11.1 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ ماہانہ رفتار 1.2 فیصد رہی۔ بیس ایفیکٹ اور اصل دباؤ: اگست 2025 کی کم بنیاد نے سالانہ شرح کو اوپر دھکیلنے میں کردار ضرور ادا کیا، لیکن ماہانہ 1.2 فیصد اور WPI میں 2.0 فیصد کا اضافہ ظاہر کرتا ہے کہ مارکیٹ میں قیمتوں کا تازہ دباؤ موجود ہے۔ دیہی آبادی پر زیادہ بوجھ: دیہی مہنگائی 12.2 فیصد رہی جبکہ شہری مہنگائی 10.4 فیصد ریکارڈ کی گئی، جس کی بنیادی وجہ دیہی کنزمپشن باسکٹ میں اشیائے خورونوش کا زیادہ وزن ہے۔ اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی: 11.5 فیصد پالیسی ریٹ اور 11.1 فیصد ہیڈ لائن CPI کے درمیان حقیقی شرحِ سود کا فرق سکڑ کر محض 0.4 فیصد (40 bps) رہ گیا ہے، جس نے 14 ستمبر کے MPC اجلاس میں شرحِ سود میں فوری کٹوتی کے امکانات کو محدود کر دیا ہے۔
KSE-100 انڈیکس نے 174,600 کی اہم سپورٹ سطح سے نیچے گرنے کے بعد ایک مثبت ریکوری کا مظاہرہ کیا ہے، جو مارکیٹ میں استحکام کی کوششوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ تاہم، انڈیکس اب بھی اپنی اوپننگ سے نیچے ہے، اور وسیع تر مارکیٹ کی شرکت کے بغیر پائیدار رجحان کی تصدیق مشکل ہے۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں