جاپان کے بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے اور Bank of Japan کے محتاط پالیسی مؤقف نے جاپانی ین کی بحالی کے امکانات کو محدود کر دیا ہے، جبکہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں USDJPY جوڑی 158.30 کے قریب پہنچ گئی ہے
"us jobless claims released which caused us dollar gains" کے لیے 926 نتائج۔
جاپان کے بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے اور Bank of Japan کے محتاط پالیسی مؤقف نے جاپانی ین کی بحالی کے امکانات کو محدود کر دیا ہے، جبکہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں USDJPY جوڑی 158.30 کے قریب پہنچ گئی ہے
مارکیٹ کا جائزہ GBP/USD میں حالیہ سیشنز کے دوران نمایاں بحالی دیکھی گئی ہے اور قیمت تقریباً 1.3371 تک پہنچ گئی ہے۔ مختصر مدت میں خریداروں کی سرگرمی مضبوط دکھائی دیتی ہے، تاہم قیمت اب ایک اہم ریزسٹینس زون کے قریب ہے جہاں سے یا تو تیزی مزید آگے بڑھ سکتی ہے یا منافع وصولی کے باعث عارضی کمی آ سکتی ہے۔ بڑی تصویر میں پاؤنڈ اب بھی محتاط صورتِ حال میں ہے۔ حالیہ بحالی کے باوجود قیمت کو پہلے 1.3400–1.3450 کے علاقے سے اوپر مستحکم ہونا ہوگا تاکہ مزید مضبوط ریکوری کے امکانات بڑھ سکیں۔ دوسری جانب 1.3300 کے نیچے واپسی مختصر مدتی تیزی کو کمزور کر سکتی ہے۔
مارکیٹ کا جائزہ EUR/USD میں 20 اکتوبر کو کچھ بحالی دیکھی گئی اور قیمت تقریباً 1.1228 تک پہنچ گئی۔ اس کے باوجود روزانہ اور چار گھنٹے کی قیمت کی ساخت میں مجموعی بیئرش رجحان برقرار ہے، کیونکہ قیمت گزشتہ کئی ہفتوں سے نچلی سطحوں کی جانب بڑھ رہی ہے۔ حالیہ سیشنز میں 1.1150–1.1160 کے علاقے سے بحالی کے بعد قیمت دوبارہ 1.1230 کے قریب پہنچ گئی ہے۔ اب 1.1235–1.1250 کا علاقہ خریداروں کے لیے اہم امتحان ہے۔ اگر قیمت اس ریزسٹینس کو عبور کرکے اس کے اوپر برقرار رہتی ہے تو مزید ریکوری ممکن ہے۔ دوسری جانب، اس علاقے سے مسترد ہونے کی صورت میں قیمت دوبارہ 1.1200 اور 1.1180 کی جانب آ سکتی ہے۔ 20 اکتوبر کو امریکی ڈالر میں کمزوری نے یورو کو کچھ سہارا دیا، تاہم فرانس کی سیاسی اور مالیاتی صورتحال سے متعلق خدشات یورو پر دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
UK Employment Report ریلیز کئے جانے اور برطانیہ میں بے روزگاری کی شرح توقعات سے کم رہنے کے بعد برطانوی پاؤنڈ نے امریکی ڈالر کے مقابلے (GBPUSD) میں اپنی تیزی کا رخ دوبارہ اختیار کر لیا ہے۔
جاپانی ین امریکی ڈالر کے مقابلے میں 158.50 کے قریب مستحکم ہے، کیونکہ سرمایہ کار جاپان کے تازہ افراط زر کے اعدادوشمار اور مرکزی بینکوں کی مالیاتی پالیسی سے متعلق آئندہ اشاروں کے منتظر ہیں
مارکیٹ کا جائزہ USD/JPY تقریباً 158.56 کے قریب ٹریڈ کر رہا ہے۔ حالیہ قیمت کی حرکت میں 157.60–157.80 کے علاقے سے ریکوری کے بعد خریداروں نے دوبارہ کنٹرول حاصل کیا ہے اور قیمت اب 158.50–158.60 کی اہم ریزسٹینس کے قریب پہنچ گئی ہے۔ ایک گھنٹے کی قیمت کی ساخت میں قلیل مدتی تیزی نمایاں ہے، جبکہ چار گھنٹے کی قیمت کی حرکت 157.60 کے قریب سے بحالی کو ظاہر کرتی ہے۔ تاہم، روزانہ کے تناظر میں قیمت ابھی بھی 159.00 اور اس سے اوپر موجود سابقہ بلند سطحوں سے نیچے ہے، اس لیے موجودہ تیزی کو مکمل ٹرینڈ کی تبدیلی قرار دینے کے بجائے ریکوری سمجھنا زیادہ محتاط ہوگا۔ اب مارکیٹ کی توجہ اس بات پر رہے گی کہ آیا خریدار 158.60 کے اوپر قیمت برقرار رکھتے ہیں یا اس علاقے میں فروخت کا دباؤ دوبارہ سامنے آتا ہے۔
مارکیٹ کا جائزہ USD/CAD میں حالیہ سیشنز کے دوران نمایاں فروخت کا دباؤ دیکھا گیا ہے۔ قیمت اکتوبر کے وسط میں تقریباً 1.4300 کی بلند سطح تک پہنچنے کے بعد مسلسل نیچے آئی اور اب 1.4090–1.4100 کے اہم سپورٹ ایریا کے قریب ٹریڈ کر رہی ہے۔ قیمت کی حالیہ حرکت میں Lower Highs اور Lower Lows کی ساخت قلیل مدتی بیئرش ٹرینڈ کی نشاندہی کرتی ہے۔ چار گھنٹے اور ایک گھنٹے کی قیمت کی حرکت بھی فروخت کنندگان کی برتری دکھاتی ہے، جبکہ روزانہ کے تناظر میں قیمت کی حالیہ گراوٹ اہم ہے کیونکہ اس نے اکتوبر کی تیزی کا بڑا حصہ واپس کر دیا ہے۔ اب مارکیٹ کے لیے بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا خریدار 1.4090 کے قریب قیمت کو سہارا دے پاتے ہیں یا اس سطح کے نیچے بریک ڈاؤن مزید کمی کا راستہ کھولتا ہے۔
مارکیٹ کا جائزہ USD/JPY تقریباً 158.44 کے قریب ٹریڈ کر رہا ہے۔ قیمت نے ستمبر میں 153.00 کے علاقے سے نمایاں ریکوری کی، تاہم اکتوبر میں 158.50 سے 159.00 کے قریب فروخت کا دباؤ سامنے آیا۔ اس وقت مارکیٹ ایک محدود رینج میں ہے اور اگلی سمت کے لیے اہم سپورٹ اور ریزسٹینس لیولز پر نظر رکھنا ضروری ہے۔ روزانہ کی قیمت کی ساخت میں ڈالر کی طویل مدتی مضبوطی اب بھی نمایاں ہے، لیکن حالیہ اتار چڑھاؤ بتاتا ہے کہ 158.50–159.00 کا علاقہ خریداروں کے لیے اہم رکاوٹ بن سکتا ہے۔ قلیل مدت میں قیمت کی سمت کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ آیا خریدار موجودہ سطح سے اوپر بریک آؤٹ برقرار رکھتے ہیں یا فروخت کنندگان قیمت کو دوبارہ 158.00 اور 157.80 کی جانب دھکیلتے ہیں
آج کے ایشیائی سیشن کے دوران ڈالر نے معمولی برتری حاصل کی، لیکن مارکیٹ میں کسی بڑی یکطرفہ نقل و حرکت کے بجائے ایک محدود رینج (Range Play) کی کیفیت دیکھی جا رہی ہے۔
نیشنل بیورو آف اسٹیٹسٹکس آف چائنا کی جانب سے جاری کردہ Chinese GDP نے نہ صرف مارکیٹ کی 4.4% کی توقعات کو پیچھے چھوڑ دیا بلکہ عالمی فنانسل مارکیٹس بالخصوص فاریکس اور کموڈٹیز میں ایک نئی تحریک پیدا کر دی ہے
اسٹیبل کوائنز کی دنیا کی سب سے بڑی جاری کنندہ کمپنیوں میں سے ایک، سرکل کا عالمی سطح پر 40 نئے ممالک میں نیٹ ورک پھیلانے کا حالیہ اعلان اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ڈیجیٹل ڈالر اب روایتی بینکاری کے نظام کو نچلی سطح پر چیلنج کر رہا ہے۔
عالمی فاریکس مارکیٹ میں جمعہ کے روز یورپی ٹریڈنگ سیشن کے دوران اہم تبدیلی دیکھی گئی ہے، جہاں GBPUSD بظاہر امریکی ڈالر کے مقابلے میں اپنی برتری قائم رکھنے میں کامیاب دکھائی دیتا ہے۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں