ٹوکیو میں قائم کمپنی Metaplanet نے جب اپنی کارپوریٹ حکمت عملی کو تبدیل کر کے بٹ کوائن ٹریژری اسٹریٹجی (Bitcoin Treasury Strategy) اپنائی، تو اس نے عالمی سطح پر سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کر لی۔
"suits from sec is creating problems for legal tokens according to the experts" کے لیے 582 نتائج۔
ٹوکیو میں قائم کمپنی Metaplanet نے جب اپنی کارپوریٹ حکمت عملی کو تبدیل کر کے بٹ کوائن ٹریژری اسٹریٹجی (Bitcoin Treasury Strategy) اپنائی، تو اس نے عالمی سطح پر سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کر لی۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج ابتدائی سیشن کے دوران جو مندی دیکھی گئی ہے، اس نے سرمایہ کاروں کو ایک بار پھر محتاط رہنے پر مجبور کر دیا ہے
سولانا نیٹ ورک نے اپنے ٹرانزیکشن سائز کو تین گنا سے زیادہ بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے، جسے Solana Transaction v1 upgrade کہا جاتا ہے۔ اس بڑی تبدیلی کے بعد ڈویلپرز کو پیچیدہ ٹریڈز اور بڑے سمارٹ کانٹریکٹس چلانے کے لیے زیادہ جگہ ملے گی۔
اگست کی تجارتی رپورٹ Chinese Trade Balance نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ چینی معیشت عالمی سپلائی چین (Supply Chain) میں کتنی گہری جڑیں رکھتی ہے۔
AUD/USD اس وقت 0.72 کے اوپر مضبوط ہے اور اس کا short term trend مثبت نظر آ رہا ہے۔ مضبوط Australian GDP growth اور RBA کی شرح سود میں اضافے کی توقعات Australian Dollar کو سپورٹ کر رہی ہیں۔ دوسری جانب Fed کی شرح سود کی پالیسی اور US CPI رپورٹ pair کی اگلی سمت کے لیے اہم ہوں گی۔ 0.7225 اہم resistance ہے، جبکہ 0.7198 اور 0.7180 اہم support levels ہیں۔ 0.7225 کے اوپر مضبوط break ہونے کی صورت میں 0.7278AUD/USD کی طرف بڑھ سکتا ہے، جبکہ 0.7198 سے نیچے جانے پر مزید correction کا امکان بڑھ سکتا ہے۔
موجودہ حالات میں UAE Energy Exports Security کا معاملہ صرف ایک علاقائی مسئلہ نہیں رہا، بلکہ یہ عالمی معیشت کی سمت کا تعین کرنے والا ایک بنیادی عنصر بن چکا ہے۔
بٹ کوائن 79,000 ڈالر کی حد کے قریب ٹریڈ کر رہا ہے جبکہ مارکیٹ میں کیپیٹل روٹیشن (capital rotation) جاری ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں KSE-100 انڈیکس نے آج 177,167 پر کھلنے کے بعد 0.97 فیصد کی نمایاں گراوٹ کے ساتھ 173,636 پوائنٹس پر بندش دی، جو 174,600 کی اہم سپورٹ سطح سے نیچے ہے۔ یہ گراوٹ مارکیٹ میں بڑھتے ہوئے بیئرش دباؤ اور پچھلی رینج باؤنڈ ریکوری کی تھیسس کی نفی کی نشاندہی کرتی ہے۔
1.1600EUR/USD کے اہم support کے قریب مستحکم ہے۔ مضبوط US jobs data کے باوجود US Dollar اپنی gains کو مکمل طور پر برقرار نہیں رکھ سکا۔ ECB کی آنے والی policy decision اور US CPI data اس ہفتے pair کی اگلی direction کے لیے اہم ہوں گے۔ 1.1600 کے اوپر رہنے کی صورت میں EUR/USD کے لیے 1.1650 اور 1.1700 اہم levels ہیں۔ 1.1700 کے اوپر breakout مزید bullish momentum پیدا کر سکتا ہے۔ دوسری طرف 1.1600 سے نیچے sustained break ہونے کی صورت میں 1.1575 اور 1.1545 اگلے downside levels بن سکتے ہیں۔
چین کی وزارتِ خزانہ کی جانب سے تقریباً 54 ارب ڈالر، یعنی لگ بھگ 360 ارب یوآن، کے بڑے Capital Injection نے اسی لیے عالمی سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کی ہے۔
AUD/USD میں Australian Dollar کی سمت کئی اہم عوامل سے متاثر ہو رہی ہے۔ RBA کی interest rate توقعات اور Fed کی monetary policy مارکیٹ کے اہم عوامل ہیں۔ US CPI اور PPI جیسے inflation data سے USD کی strength متاثر ہو سکتی ہے۔ Australia کے GDP، inflation اور employment data بھی اہم ہیں۔ China کی economic growth اور iron ore demand AUD کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے۔ Commodity prices اور global risk sentiment بھی Pair کی movement پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ Technical Analysis میں 0.7150، 0.7100 اور 0.7000 اہم Support levels ہیں جبکہ 0.7200، 0.7250 اور 0.7300 اہم Resistance levels ہیں۔ آنے والے economic data اور central bank expectations AUD/USD کی اگلی سمت طے کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
خسارے میں سالانہ اضافہ: مالی سال 27 کے پہلے دو ماہ (2MFY27) میں تجارتی خسارہ 18.1 فیصد بڑھ کر 7.12 ارب ڈالر تک جا پہنچا، جس کے نتیجے میں تجارتی خلا میں 1.09 ارب ڈالر کا خالص اضافہ ہوا۔ درآمدات بمقابلہ برآمدات: ملکی درآمدات کی سالانہ رفتار (13%) برآمدات کی نمو (7%) کے مقابلے میں تقریباً دو گنی تیز رہی۔ اگست کی ماہانہ حقیقت: اگست کا خسارہ جولائی کے مقابلے میں 19.7 فیصد کم ہو کر 3.17 ارب ڈالر رہا، لیکن اس کی بنیادی وجہ برآمدات کا بڑھنا نہیں بلکہ درآمدات میں 17.7 فیصد اور برآمدات میں 15 فیصد کی بیک وقت ماہانہ گراوٹ تھی۔ سالانہ بگاڑ برقرار: ماہانہ ریلیف کے باوجود اگست 2026 کا تجارتی خسارہ اگست 2025 کے مقابلے میں 10.4 فیصد زائد رہا، جبکہ اگست کی سالانہ امپورٹ نمو (7.4%) ایکسپورٹ نمو (3.8%) سے دو گنی رہی۔ تیل اور روپے کا منظرنامہ: جولائی میں پیٹرولیم درآمدات میں 5.2 فیصد کی سالانہ کمی تھی، لیکن ستمبر میں خام تیل کا 92 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرنا نئے خطرات لا رہا ہے۔ فی الوقت 17.12 ارب ڈالر کے سرکاری ذخائر روپے کو 277.41 پر مختصر مدتی استحکام فراہم کر رہے ہیں۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں