پاکستان بیورو آف شماریات کے مطابق ہیڈلائن افراط زر 11.10 فیصد پر آنے کے بعد اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے 11.50 فیصد پالیسی ریٹ کے باعث مثبت حقیقی شرح سود بحال ہو چکی ہے، جس سے آئندہ مانیٹری پالیسی اجلاس میں مزید ریٹ کٹ کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔
"australian cpi report released which caused decline in audusd" کے لیے 1133 نتائج۔
پاکستان بیورو آف شماریات کے مطابق ہیڈلائن افراط زر 11.10 فیصد پر آنے کے بعد اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے 11.50 فیصد پالیسی ریٹ کے باعث مثبت حقیقی شرح سود بحال ہو چکی ہے، جس سے آئندہ مانیٹری پالیسی اجلاس میں مزید ریٹ کٹ کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔
پاکستان کی معیشت 11.50% پالیسی ریٹ اور 11.10% افراط زر کے ساتھ مثبت حقیقی شرح سود کے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ بیرونی کھاتوں کے استحکام اور آئی ایم ایف پروگرام کے تحت USD/PKR 276.83 پر متوازن قائم ہے۔
عالمی فاریکس مارکیٹ میں ڈالر انڈیکس 101.92 پر مستحکم رہا جبکہ EUR/USD، GBP/USD اور USD/JPY میں مختلف رجحانات دیکھے گئے۔ انٹربینک مارکیٹ میں USD/PKR کی تازہ ترین صورتحال کا مکمل تجزیہ۔
GBP/USD نے 1.32078 کے نچلے درجے کا دفاع کرتے ہوئے 1.32220 پر معمولی برتری برقرار رکھی ہے۔ برطانیہ کی 3.10 فیصد مہنگائی اور 1.3200 کی تکنیکی بنیادیں اس استحکام کو سہارا دے رہی ہیں۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی آنے والی مانیٹری پالیسی میٹنگ میں 11.10 فیصد کی سی پی آئی مہنگائی اور 11.50 فیصد پالیسی ریٹ کے تناظر میں 50 سے 100 بیسس پوائنٹس کی کٹوتی کا قوی امکان ہے۔
پاکستان کی معیشت 11.50% پالیسی ریٹ اور 11.10% CPI افراط زر کے ساتھ مثبت حقیقی شرح سود کے دور میں قائم ہے۔ انٹربینک مارکیٹ میں USD/PKR 0.33% کی بہتری کے ساتھ 276.82 پر بند ہوا، جبکہ KSE-100 انڈیکس 168,155 پوائنٹس پر معاشی استحکام کی عکاسی کر رہا ہے۔
امریکی 10 سالہ بانڈ ییلڈ 5.237% اور ڈالر انڈیکس 102.01 پر پہنچنے سے فیڈرل ریزرو کی سخت مالیاتی پالیسی کا تسلسل ثابت ہو رہا ہے۔ افراط زر کی 3.35% سطح پر موجودگی عالمی اثاثوں کے لیے اہم خطرہ ہے۔
ڈالر انڈیکس کی 101.94 کی سطح پر مضبوطی نے عالمی رسک‑آن لہر کو کمزور کر کے مارکیٹ کو خطرہ‑آف رجیم کی طرف موڑ دیا، حالانکہ امریکی CPI 3.35% پر مستحکم رہنے سے ڈس انفلیشن کی امید برقرار ہے۔
24 قیراط سونا 2,000 روپے اضافے سے 440,636 روپے فی تولہ ہوگیا۔ 10 گرام سونا 377,774 روپے، جبکہ چاندی 50 روپے بڑھ کر 6,578 روپے فی تولہ رہی۔ مقامی نرخ کے ساتھ رپورٹ کردہ عالمی حوالہ 20 ڈالر بڑھ کر 4,181 ڈالر فی اونس ہوگیا۔ جمعہ کی تیزی نے جمعرات کی کمی کا تقریباً دو تہائی حصہ واپس لیا؛ دونوں سیشنز کی مجموعی تبدیلی اب بھی 1,000 روپے منفی ہے۔ پیر سے جمعہ تک جاری کردہ فی تولہ نرخ 437,336 سے 441,636 روپے کی پرائس رینج میں رہے۔
EUR/USD 1.12700 پر -0.18% گرا، جبکہ DXY 101.84 پر -0.25% کم ہوا۔ USD کی کمزوریت کے باوجود یورپی کرنسی کی کمی نے پہلے کی اپ‑ٹرن تھیسس کو بدل دیا۔
USD/JPY تقریباً 158.03 پر ہے۔ 158.25–158.50 کے اوپر قیمت برقرار رہنا مزید تیزی کی پہلی اہم شرط ہے۔ 157.30–157.50 فوری سپورٹ ہے، جبکہ 156.80–157.00 کے نیچے بریک ڈاؤن حالیہ ریکوری کو کمزور کرسکتا ہے۔ بڑے پرائس ایکشن میں ستمبر کی گراوٹ کے بعد 153.50 کے قریب سے ریکوری ہوئی ہے، جبکہ قلیل مدتی پرائس ایکشن میں خریداروں نے Higher Highs and Higher Lows بنانے کی کوشش کی ہے۔ بینک آف جاپان (BoJ) نے ستمبر میں پالیسی ریٹ بڑھا کر 1.25 فیصد کردیا تھا، جبکہ امریکی فیڈرل ریزرو نے 16 ستمبر کو Fed Funds Target Range کو بڑھا کر 3.75–4.00 فیصد کردیا۔ آج مارکیٹ کی توجہ امریکی Nonfarm Payrolls (NFP)، بے روزگاری کی شرح اور اجرتوں کے اعداد پر ہے، کیونکہ یہ امریکی شرح سود اور ڈالر کی سمت کے لیے اہم ہوسکتے ہیں۔ ستمبر کے لیے مارکیٹ کی توقع تقریباً 90,000 نئی ملازمتوں اور 4.1 فیصد بے روزگاری کی شرح کی ہے۔
عالمی مارکیٹ میں ڈالر انڈیکس کی مضبوطی کے باوجود XAU/USD کی قیمت $4,180.88 پر مستحکم رہی۔ پاکستان میں 24 قیراط فی تولہ سونا 441,200 روپے پر ٹریڈ ہو رہا ہے، جبکہ تکنیکی سیٹ اپ کنسولیڈیشن کا اشارہ دے رہا ہے۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں