ریاض کے ہنگامی اجلاس میں Mecca Defence Agreement کو فعال کرنے اور سعودی عرب میں عسکری تعیناتی کے اعلان نے خطے کی جیو پولیٹیکل (Geopolitical) صورت حال کو ایک بالکل نئے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔
"hubco 3qfy26 financial performance analysis pakistan ipp sector" کے لیے 591 نتائج۔
ریاض کے ہنگامی اجلاس میں Mecca Defence Agreement کو فعال کرنے اور سعودی عرب میں عسکری تعیناتی کے اعلان نے خطے کی جیو پولیٹیکل (Geopolitical) صورت حال کو ایک بالکل نئے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔
پاکستان کی معیشت 11.50 فیصد پالیسی ریٹ اور 11.10 فیصد افراط زر کے ساتھ مثبت حقیقی شرح سود کے بل بوتے پر توازن برقرار رکھے ہوئے ہے، جہاں روپیہ انٹربینک میں 277.10 پر مستحکم ہے۔
USD/CAD میں تیزی کا رجحان برقرار ہے اور قیمت اس وقت 1.4260 کے قریب ٹریڈ کر رہی ہے۔ مجموعی Price Structure میں Higher Highs اور Higher Lows نمایاں ہیں، جبکہ حالیہ خریداری نے جوڑی کو اہم Resistance Zone کے قریب پہنچا دیا ہے۔
سندھ کے وزیرِ اعلیٰ مراد علی شاہ کی جانب سے تھر کول بلاک ٹو کے فیز تھری (Thar Coal Block II Phase III) کے افتتاح نے ملکی توانائی اور مالیاتی منظر نامے میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔
پاکستان کی مچھیوں اور سمندری خوراک کی برآمدات یعنی Pakistan Seafood Exports میں رواں مالی سال کے پہلے سہ ماہی (1QFY27) کے دوران شاندار اضافہ دیکھا گیا ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں KSE-100 انڈیکس 168,155 پر گراوٹ کے ساتھ بند ہوا، جبکہ کارپوریٹ نتائج کے سیزن سے قبل انسٹی ٹیوشنل فنڈز کا توجہ بینکنگ، ای اینڈ پی اور فرٹیلائزر سیکٹرز پر مرکوز ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس 11.10 فیصد افراطِ زر اور 11.50 فیصد پالیسی ریٹ کی موجودگی کے باعث 40 بیسس پوائنٹس کی مثبت حقیقی شرحِ سود موجود ہے، جس سے آئندہ مانیٹری پالیسی میٹنگ میں شرحِ سود میں 50 تا 100 بیسس پوائنٹس کمی کا راستہ صاف نظر آتا ہے۔
وال اسٹریٹ پر اینویڈیا کی $1,090 کی سطح عبور کرنے اور ٹیسلا کے 4.65 فیصد اضافے نے 'میگنیفشینٹ 7' کی بلش پیش قدمی کو نئی طاقت دی ہے، جبکہ بینکنگ سیکٹر میں معمولی دباؤ قائم ہے۔
پاکستان بیورو آف شماریات کے مطابق ہیڈلائن افراط زر 11.10 فیصد پر آنے کے بعد اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے 11.50 فیصد پالیسی ریٹ کے باعث مثبت حقیقی شرح سود بحال ہو چکی ہے، جس سے آئندہ مانیٹری پالیسی اجلاس میں مزید ریٹ کٹ کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔
پاکستان کی معیشت 11.50% پالیسی ریٹ اور 11.10% افراط زر کے ساتھ مثبت حقیقی شرح سود کے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ بیرونی کھاتوں کے استحکام اور آئی ایم ایف پروگرام کے تحت USD/PKR 276.83 پر متوازن قائم ہے۔
ڈالر انڈیکس (DXY) کی 101.92 پر پیش قدمی کے نتیجے میں عالمی سونا $4,140.52 کی سطح پر آ گیا ہے۔ پاکستان میں 24 قیراط سونا 441,000 روپے فی تولہ پر برقرار ہے جبکہ تکنیکی ڈھانچہ بئریش دباؤ کی نشان دہی کر رہا ہے۔
انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر 276.82 روپے پر ٹریڈ ہو رہا ہے جبکہ مثبت حقیقی شرح سود روپے کو بنیادی سہارا فراہم کر رہی ہے۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں