پاؤنڈ اسٹرلنگ (GBP/USD) نے 1.3200-1.3250 کے کلیدی حمایتی زون کو کامیابی سے برقرار رکھا ہے۔ برطانیہ میں 3.10 فیصد کی سی پی آئی افراط زر اور بینک آف انگلینڈ کے سخت موقف کے باعث کیبل میں پیش قدمی کا امکان بڑھ رہا ہے۔
"usdjpy declined after statements from bank of japan" کے لیے 1092 نتائج۔
پاؤنڈ اسٹرلنگ (GBP/USD) نے 1.3200-1.3250 کے کلیدی حمایتی زون کو کامیابی سے برقرار رکھا ہے۔ برطانیہ میں 3.10 فیصد کی سی پی آئی افراط زر اور بینک آف انگلینڈ کے سخت موقف کے باعث کیبل میں پیش قدمی کا امکان بڑھ رہا ہے۔
عالمی فنانشل مارکیٹس (Global Financial Markets) میں حالیہ دنوں کے دوران ایک بار پھر شدیداتار چڑ ھاؤ دیکھنے میں آیا ہے۔ سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز ایک طرف فیڈرل ریزرو (Federal Reserve) کی جانب سے شرح سود (Interest Rates) میں متوقع اضافے ہیں، تو دوسری طرف مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی میں اضافہ ہے۔
یورپی سینٹرل بینک کی صدر کرسٹین لیگارڈ نے حال ہی میں ایک اہم بیان میں واضح کیا ہے کہ زون کی معیشت کا پھیلاؤ مختلف شعبوں اور ملکوں میں جاری ہے، تاہم ECB کیلئے افراط زر میں عالمی حالات کی وجہ سے اضافے کے تحت حالات اب زیادہ چیلنجنگ ہوتے جا رہے ہیں۔
یورو اور امریکی ڈالر (EUR/USD) کی جوڑی 1.13849 کی سطح پر فروخت کے دباؤ کا سامنا کر رہی ہے۔ امریکی 10 سالہ بانڈ ییلڈز میں 5.217% تک اضافے اور ڈالر انڈیکس (101.21) کی مضبوطی نے یورپی کرنسی کو بیک فٹ پر دھکیل دیا ہے۔
برطانوی پاؤنڈ (British Pound) نے آج کے یورپی سیشنز میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن مجموعی طور پر مارکیٹ کا رجحان (Market Sentiment) دباؤ کا شکار ہے۔ GBPUSD جوڑا 1.3245 کے قریب ٹریڈ ہو رہا ہے، جب کہ سرمایہ کاروں کی نظریں امریکی لیبر مارکیٹ کے اہم اعداد و شمار یعنی نان فارم پے رول (US NFP Data) پر مرکوز ہیں۔
امریکی فیڈرل ریزرو کی سخت پالیسی اور 10 سالہ ییلڈ کی 5.184 فیصد کی بلند سطح نے عالمی منڈیوں میں ری پرائسنگ کے عمل کو جاری رکھا ہوا ہے۔ افراط زر کے 3.35 فیصد پر قائم رہنے سے ابھرتی ہوئی معیشتوں پر شدید دباؤ ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کے آغاز پر ہی فروخت کا دباؤ دیکھا گیا، جس کے نتیجے میں بینچ مارک KSE100 انڈیکس میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔ معاشی اور سیاسی غیر یقینی صورتحال کے سائے میں سرمایہ کاروں کا رسک لینے کا رجحان محدود نظر آتا ہے
آج نئے ہفتے کے آغاز میں، مارکیٹ کا سب سے اہم موضوع EURUSD کی قدر میں کمی بن چکا ہے، جہاں یورو اور امریکی ڈالر (US Dollar) کا یہ جوڑا شدید دباؤ کے بعد نیچے آ گیا ہے۔
Bitcoin کی قیمت تقریباً 83,200 ڈالر اور Ethereum تقریباً 2,648 ڈالر کے قریب آگئی؛ تازہ دستیاب نرخوں میں دونوں اتوار کے مقابلے میں مزید کمزور رہے۔ BTC گزشتہ ہفتے کی تقریباً 87,300 ڈالر کی بلند سطح سے نیچے ہے۔ اب 82,900 سے 83,000 ڈالر کا علاقہ نگرانی میں ہے، جبکہ 85,000 کی واپسی بحالی کو تقویت دے گی۔ ETH دوبارہ 2,700 ڈالر سے نیچے آگیا ہے۔ 2,600 ڈالر کے قریب خریداروں کا ردعمل اہم ہوگا، جبکہ 2,750 سے 2,800 کا علاقہ بحالی کی اگلی آزمائش رہے گا۔ ایران کے بارے میں غیر یقینی، مہنگا تیل اور بلند امریکی بانڈ منافع کے ساتھ Nasdaq futures اور ایشیائی حصص بھی کمزور رہے؛ تاہم ہر کرپٹو حرکت کو ایک خبر سے منسوب نہیں کیا جاسکتا۔ پیر کی کمی نے حالیہ تیزی کا تسلسل کمزور کیا ہے، مگر بڑی بحالی ختم ہونے کا فیصلہ ابھی قبل از وقت ہے۔ امریکی مہنگائی اور روزگار کے اعداد، بانڈ منافع اور اگلے سیشن کی خریداری اہم ہوں گے۔
یورو نظام نے 21 ستمبر 2026 کو Pontes شروع کردیا، جس سے اہل اداروں کو ٹوکنائزڈ مالیاتی اثاثوں کے لین دین کا تصفیہ مرکزی بینک کے یورو میں کرنے کی سہولت ملی ہے۔ Pontes مالیاتی DLT پلیٹ فارمز کو TARGET Services سے جوڑتا ہے؛ ابتدائی نظام میں ادائیگی کا حتمی تصفیہ T2 میں متعلقہ منتقلی مکمل ہونے پر حاصل ہوتا ہے۔ ECB اپنے غیر زری پالیسی پورٹ فولیو کا محدود حصہ ٹوکنائزڈ سکیورٹیز میں لگانے کی تیاری کررہا ہے؛ خریداری کا وقت اور عملی تفصیلات ابھی طے ہونا باقی ہیں۔ مرکزی بینک کی رقم تک رسائی بعض ادارہ جاتی معاملات میں نجی تصفیہ ذرائع پر انحصار کم کرسکتی ہے، لیکن اس سے اسٹیبل کوائنز کا استعمال خود بخود ختم نہیں ہوتا۔ یہ پیش رفت Bitcoin یا Ethereum کی منظوری نہیں۔ اصل امتحان اداروں کی شرکت، تصفیے کے حجم، لاگت، قانونی تحفظ اور مختلف پلیٹ فارمز کے باہمی رابطے کا ہوگا۔
ADB نے ترقی پذیر ایشیا و بحرالکاہل کی نمو 2026 میں 5.0 فیصد اور 2027 میں 5.1 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی ہے؛ یہ پورے ایشیا کی یکساں شرح نہیں۔ 2026 کی Inflation پیش گوئی 4.3 سے کم کرکے 4.2 فیصد، جبکہ 2027 کی 3.4 سے بڑھا کر 3.5 فیصد کی گئی ہے؛ اگلے سال کی شرح پھر بھی رواں سال سے کم متوقع ہے۔ توانائی کی طویل رکاوٹ اور شدید El Niño خوراک، پانی، پن بجلی اور بعض خام مال کی رسد متاثر کرسکتے ہیں؛ کم پن بجلی متبادل ایندھن کی طلب بھی بڑھا سکتی ہے۔ بلند قرض شرح سود بڑھانے کی معاشی لاگت میں اضافہ کرسکتا ہے، مگر اثر ہر ملک میں یکساں نہیں؛ قرض کی مدت، کرنسی، شرح اور مرکزی بینک کی خودمختاری اہم ہیں۔ نجی سرمایہ کاری، سرکاری معاونت اور AI سے متعلق برآمدات نمو کو سہارا دیتی ہیں؛ تاہم ٹیکنالوجی حصص میں بڑی گراوٹ، بلند Bond Yields اور مضبوط ڈالر خطرات بڑھا سکتے ہیں۔ اس لیے نمو کی پیش گوئی کو حصص کی یقینی تیزی نہ سمجھا جائے۔
عالمی سرکاری بانڈ مارکیٹ میں بیئر اسٹیپننگ کا رجحان برقرار ہے، جہاں US 10Y ییلڈ 5.184% تک پہنچ گئی ہے۔ امریکی مالیاتی خسارے اور ٹریژری کی جانب سے بھاری سپلائی نے طویل المدتی شرح سود پر دباؤ برقرار رکھا ہوا ہے۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں