پاکستانی روپے نے آج انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں اپنی گراوٹ کو روکا ہے اور 277.53 پر ٹریڈ کر رہا ہے، جو پچھلے سیشن کے مقابلے میں معمولی بہتری ہے۔ تاہم، عالمی ڈالر کی مضبوطی اور مقامی درآمدی دباؤ کے پیش نظر یہ استحکام نازک ہے۔
"euro got bullish momentum us dollar is in defensive mood" کے لیے 545 نتائج۔
پاکستانی روپے نے آج انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں اپنی گراوٹ کو روکا ہے اور 277.53 پر ٹریڈ کر رہا ہے، جو پچھلے سیشن کے مقابلے میں معمولی بہتری ہے۔ تاہم، عالمی ڈالر کی مضبوطی اور مقامی درآمدی دباؤ کے پیش نظر یہ استحکام نازک ہے۔
ایران نے امریکہ کے خلاف براہ راست Iran US economic warfare (ایران اور امریکہ کے درمیان اقتصادی جنگ) اور میزائل حملوں کی دھمکی دی ہے، جس سے نہ صرف خطے میں جنگ کا دائرہ وسیع ہونے کا خدشہ ہے بلکہ عالمی توانائی کی سپلائی لائنز بھی شدید خطرے میں ہیں۔
عالمی سونے کی قیمت (XAU/USD) $4,400 کی نفسیاتی سپورٹ سطح کے قریب اپنی 'range-bound consolidation' کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ DXY میں معمولی کمی نے سونے کو کچھ ریلیف فراہم کی ہے، جبکہ پاکستان میں 24 قیراط سونے کی قیمت میں 1.55% کا نمایاں اضافہ مقامی ڈیمانڈ میں اضافے کی نشاندہی کرتا ہے۔ تاہم، امریکی ٹریژری ییلڈز میں مسلسل اضافہ اور فیڈرل ریزرو کی سخت مانیٹری پالیسی کے امکانات سونے پر بنیادی دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
پاکستانی روپے (PKR) امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں اپنی قدر کھو رہا ہے، انٹربینک مارکیٹ میں 277.66 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ درآمدی دباؤ اور مقامی طلب اس گراوٹ کی اہم وجوہات ہیں، جبکہ عالمی ڈالر کی کمزوری بھی PKR کو سہارا دینے میں ناکام رہی ہے۔
اگست کی تجارتی رپورٹ Chinese Trade Balance نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ چینی معیشت عالمی سپلائی چین (Supply Chain) میں کتنی گہری جڑیں رکھتی ہے۔
آج جاپانی ین نے اپنی تمام بڑی حریف کرنسیوں کے مقابلے میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کئی ماہ کی بلند ترین سطح کو چھو لیا ہے۔ جبکہ اس کے خلاف امریکی ڈالر یعنی USDJPY رواں سال کے کم ترین حصوں تک آ چکا ہے۔
عالمی سونے کی قیمت (XAU/USD) $4,400 کی نفسیاتی سطح پر استحکام دکھا رہی ہے، جبکہ DXY میں معمولی کمی نے اسے کچھ ریلیف فراہم کیا ہے۔ تاہم، امریکی ٹریژری ییلڈز میں اضافہ اور فیڈرل ریزرو کی سخت مانیٹری پالیسی کے امکانات سونے پر دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہیں، جس سے 'bearish trend continuation' کے ساتھ 'range-bound consolidation' کا رجحان غالب ہے۔
پاکستانی روپے (PKR) انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں اپنی گراوٹ جاری رکھے ہوئے ہے، آج 277.62 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ درآمدی ادائیگیوں کا دباؤ اور عالمی ڈالر کی مضبوطی اس رجحان کے اہم محرکات ہیں۔
ہیڈ لائن مہنگائی: قومی سالانہ CPI جولائی کے 9.2 فیصد سے بڑھ کر اگست میں 11.1 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ ماہانہ رفتار 1.2 فیصد رہی۔ بیس ایفیکٹ اور اصل دباؤ: اگست 2025 کی کم بنیاد نے سالانہ شرح کو اوپر دھکیلنے میں کردار ضرور ادا کیا، لیکن ماہانہ 1.2 فیصد اور WPI میں 2.0 فیصد کا اضافہ ظاہر کرتا ہے کہ مارکیٹ میں قیمتوں کا تازہ دباؤ موجود ہے۔ دیہی آبادی پر زیادہ بوجھ: دیہی مہنگائی 12.2 فیصد رہی جبکہ شہری مہنگائی 10.4 فیصد ریکارڈ کی گئی، جس کی بنیادی وجہ دیہی کنزمپشن باسکٹ میں اشیائے خورونوش کا زیادہ وزن ہے۔ اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی: 11.5 فیصد پالیسی ریٹ اور 11.1 فیصد ہیڈ لائن CPI کے درمیان حقیقی شرحِ سود کا فرق سکڑ کر محض 0.4 فیصد (40 bps) رہ گیا ہے، جس نے 14 ستمبر کے MPC اجلاس میں شرحِ سود میں فوری کٹوتی کے امکانات کو محدود کر دیا ہے۔
پاکستان کی معاشی تاریخ میں ایک اہم موڑ اس وقت آیا جب حکومت نے ملکی مالیاتی ڈھانچے کو مضبوط کرنے کے لیے Dollar Settled Bond جیسا ایک نیا اور منفرد قدم اٹھانے کا اعلان کیا
کرپٹو کرنسی کی دنیا میں اس بار نہ صرف مجموعی مارکیٹ میں بہتری آئی ہے، بلکہ چند خاص شعبوں نے حیرت انگیز ریکارڈ بھی قائم کیے ہیں۔
گزشتہ روز کے سیشن میں تقریباً ایک فیصد کی گراوٹ کے بعد KSE100 انڈیکس نے جمعرات کی صبح زبردست واپسی کی۔ کاروبار کے ابتدائی منٹوں میں انڈیکس 950 سے زائد پوائنٹس اوپر چلا گیا اور 175734.10 کی سطح تک پہنچ گیا۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں