Chart Pro 👤 لاگ ان (Login)

تلاش

"what is the us pce report and how iit effects the financial markets" کے لیے 541 نتائج۔

یورپی حصص میں کمی، Brent 98.5 ڈالر پر: کمزور جرمن برآمدات اور ECB کا فیصلہ توجہ کا مرکز
یورپی حصص میں کمی، Brent 98.5 ڈالر پر: کمزور جرمن برآمدات اور ECB کا فیصلہ توجہ کا مرکز

یورپی اوپن میں STOXX 600 تقریباً 0.2 فیصد، DAX 0.3 فیصد اور CAC 40 تقریباً 0.4 فیصد نیچے رہے، جبکہ FTSE 100 تقریباً مستحکم رہا؛ یہ ابتدائی سیشن کی تصویر ہے، حتمی اختتامی قیمتوں کی رپورٹ نہیں۔ Brent تقریباً 98.5 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے سے توانائی رسد، کاروباری لاگت اور مہنگائی کے خدشات بڑھے، تاہم ہر یورپی شعبے پر اس کے اثرات یکساں نہیں ہوں گے۔ جرمن برآمدات جولائی میں ماہانہ 0.8 فیصد اور درآمدات 5.7 فیصد کم ہوئیں؛ تجارتی فاضل 21.3 ارب یورو ہوگیا، مگر برآمدات سالانہ بنیاد پر اب بھی بڑھی ہیں۔ Novartis میں تقریباً 8.8 فیصد کمی کا تعلق del-desiran کے مطالعے سے تھا، جبکہ Sandoz تقریباً 2.9 فیصد بڑھا؛ کمپنی مخصوص عوامل کو معاشی دباؤ سے الگ دیکھنا ضروری ہے۔ ECB کا فیصلہ 10 ستمبر کو متوقع ہے؛ اگست کا ابتدائی افراط زر 3.3 فیصد ہے، لیکن آئندہ پالیسی کے لیے توانائی کے ساتھ اجرتیں، بنیادی مہنگائی اور نمو بھی اہم ہیں۔

محمد اظہر سلیم ·
سولانا بلاک چین میں بڑی ٹرانزیکشنز کا انقلاب اور کرپٹو انڈسٹری کا ردعمل۔
سولانا بلاک چین میں بڑی ٹرانزیکشنز کا انقلاب اور کرپٹو انڈسٹری کا ردعمل۔

سولانا نیٹ ورک نے اپنے ٹرانزیکشن سائز کو تین گنا سے زیادہ بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے، جسے Solana Transaction v1 upgrade کہا جاتا ہے۔ اس بڑی تبدیلی کے بعد ڈویلپرز کو پیچیدہ ٹریڈز اور بڑے سمارٹ کانٹریکٹس چلانے کے لیے زیادہ جگہ ملے گی۔

Robina Adeel ·
PSX  میں کاروباری سرگرمیوں کا شدید مندی سے آغاز
PSX میں کاروباری سرگرمیوں کا شدید مندی سے آغاز

PSX میں کاروباری ہفتے کے آغاز پر شدید فروخت کا دباؤ دیکھا گیا، جس کے نتیجے میں بینچ مارک KSE100 انڈیکس تقریباً 800 پوائنٹس تک گر گیا۔ سرمایہ کاروں میں غیر یقینی کی لہر دوڑ گئی ہے کیونکہ مقامی اور بین الاقوامی عوامل بیک وقت مارکیٹ پر اثر انداز ہو رہے ہیں

Adeel khalid ·
پاکستان کا تجارتی خسارہ 18.1 فیصد بڑھ گیا: اگست کی ماہانہ بہتری کیوں گمراہ کن ہو سکتی ہے؟
پاکستان کا تجارتی خسارہ 18.1 فیصد بڑھ گیا: اگست کی ماہانہ بہتری کیوں گمراہ کن ہو سکتی ہے؟

خسارے میں سالانہ اضافہ: مالی سال 27 کے پہلے دو ماہ (2MFY27) میں تجارتی خسارہ 18.1 فیصد بڑھ کر 7.12 ارب ڈالر تک جا پہنچا، جس کے نتیجے میں تجارتی خلا میں 1.09 ارب ڈالر کا خالص اضافہ ہوا۔ درآمدات بمقابلہ برآمدات: ملکی درآمدات کی سالانہ رفتار (13%) برآمدات کی نمو (7%) کے مقابلے میں تقریباً دو گنی تیز رہی۔ اگست کی ماہانہ حقیقت: اگست کا خسارہ جولائی کے مقابلے میں 19.7 فیصد کم ہو کر 3.17 ارب ڈالر رہا، لیکن اس کی بنیادی وجہ برآمدات کا بڑھنا نہیں بلکہ درآمدات میں 17.7 فیصد اور برآمدات میں 15 فیصد کی بیک وقت ماہانہ گراوٹ تھی۔ سالانہ بگاڑ برقرار: ماہانہ ریلیف کے باوجود اگست 2026 کا تجارتی خسارہ اگست 2025 کے مقابلے میں 10.4 فیصد زائد رہا، جبکہ اگست کی سالانہ امپورٹ نمو (7.4%) ایکسپورٹ نمو (3.8%) سے دو گنی رہی۔ تیل اور روپے کا منظرنامہ: جولائی میں پیٹرولیم درآمدات میں 5.2 فیصد کی سالانہ کمی تھی، لیکن ستمبر میں خام تیل کا 92 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرنا نئے خطرات لا رہا ہے۔ فی الوقت 17.12 ارب ڈالر کے سرکاری ذخائر روپے کو 277.41 پر مختصر مدتی استحکام فراہم کر رہے ہیں۔

محمد اظہر سلیم ·
پاکستان میکرو ہفتہ وار آؤٹ لک: 3 ارب ڈالر یورو بانڈ کے باوجود مہنگائی، تجارتی خسارہ اور تیل بڑا امتحان
پاکستان میکرو ہفتہ وار آؤٹ لک: 3 ارب ڈالر یورو بانڈ کے باوجود مہنگائی، تجارتی خسارہ اور تیل بڑا امتحان

یورو بانڈ فنانسنگ: پاکستان نے دو حصوں (Dual-Tranche) پر مشتمل 3 ارب ڈالر کے یورو بانڈز جاری کیے، جن کے لیے عالمی سرمایہ کاروں کی جانب سے 6 ارب ڈالر کی زبردست مانگ سامنے آئی۔ مہنگائی کی بحالی: اگست میں قومی سالانہ CPI بڑھ کر 11.1 فیصد ہو گئی، جبکہ شہری کور افراطِ زر 8.8 فیصد اور دیہی کور 8.5 فیصد پر برقرار رہی۔ تجارتی خسارے کا پھیلاؤ: جولائی اور اگست میں تجارتی خسارہ 18.1 فیصد بڑھ کر 7.12 ارب ڈالر تک جا پہنچا، کیونکہ درآمدات کی رفتار برآمدات سے تقریباً دو گنا تیز رہی۔ اسٹیٹ بینک کے ذخائر: 28 اگست تک مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر 17.12 ارب ڈالر اور مجموعی ملکی سیال ذخائر 22.53 ارب ڈالر رہے، جبکہ انٹربینک میں USD/PKR ریٹ 277.41 پر مستحکم رہا۔ عالمی تیل کا خطرہ: برینٹ خام تیل ہفتے کے اختتام پر 92.68 ڈالر پر بند ہوا؛ 5 ستمبر سے ڈیزل کی قیمت میں 3.74 روپے کا اضافہ معیشت میں پیداواری لاگت کے نئے خدشات پیدا کر رہا ہے۔

محمد اظہر سلیم ·
ناروے کے 2.3 ٹریلین ڈالر کے خودمختار فنڈ کی نئی بانڈ حکمتِ عملی: امریکی سرکاری قرض میں 80 ارب ڈالر کی ممکنہ کٹوتی، لیکن ڈالر سے انخلا نہیں
ناروے کے 2.3 ٹریلین ڈالر کے خودمختار فنڈ کی نئی بانڈ حکمتِ عملی: امریکی سرکاری قرض میں 80 ارب ڈالر کی ممکنہ کٹوتی، لیکن ڈالر سے انخلا نہیں

بنیادی سفارش: نارجس بینک انویسٹمنٹ مینجمنٹ (NBIM) نے اپنے بانڈ اشاریے میں سرکاری بانڈز کا وزن 70 فیصد سے کم کر کے 50 فیصد کرنے کی باضابطہ تجویز دی ہے۔ امریکی ٹریژریز پر اثر: نئی ساخت نافذ ہونے کی صورت میں امریکی سرکاری قرض میں فنڈ کی ہولڈنگز میں اندازاً 80 ارب ڈالر کی کمی بن سکتی ہے۔ وزن میں ردوبدل: بینچ مارک میں امریکی سرکاری قرض کا حصہ 34.1 فیصد سے کم ہو کر 21.9 فیصد رہ جائے گا، تاہم مجموعی امریکی ڈالر اثاثوں کا وزن 52.5 فیصد کے قریب مستحکم رہے گا۔ نفاذ کا ٹائم فریم: یہ فوری فروخت نہیں ہے؛ قانون سازوں کی منظوری کی صورت میں بھی اس پالیسی پر عملی عمل درآمد 2027 کے وسط سے پہلے متوقع نہیں۔ حکمتِ عملی کا اصل رخ: یہ پیش رفت امریکی ڈالر سے انخلا نہیں، بلکہ امریکی سرکاری بانڈز سے سرمایہ نکال کر نسبتاً زیادہ منافع بخش مارگیج بیکڈ سیکیورٹیز اور دیگر امریکی کارپوریٹ قرضوں میں منتقل کرنے کی اندرونی ری بیلنسنگ ہے۔

محمد اظہر سلیم ·
🤖

اردو مارکیٹس اسسٹنٹ

لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ

تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں