معروف انسٹی ٹیوشنل پلیٹ فارم "بٹ مائن ایمریشن ٹیکنالوجیز" نے کرپٹو مارکیٹ میں ایک اور بڑی ہلچل مچاتے ہوئے کروڑوں ڈالر کی مالیت کے مزید ایتھیریئم ٹوکن خرید لیے ہیں۔
"nzdusd tryiing to get recovery momentum in the cautius market ahead of us cpi" کے لیے 542 نتائج۔
معروف انسٹی ٹیوشنل پلیٹ فارم "بٹ مائن ایمریشن ٹیکنالوجیز" نے کرپٹو مارکیٹ میں ایک اور بڑی ہلچل مچاتے ہوئے کروڑوں ڈالر کی مالیت کے مزید ایتھیریئم ٹوکن خرید لیے ہیں۔
Novartis کے del-desiran مطالعے کے منفی نتائج کے بعد امریکی تجارت میں Dyne تقریباً 18 فیصد، Sarepta 9 فیصد سے زیادہ اور PepGen 5 فیصد سے زیادہ گر گئے۔ Dyne کے ACHIEVE پروگرام میں بھی ہاتھ کھولنے کا وقت، یعنی vHOT، بنیادی پیمانہ ہے؛ اسی مماثلت نے اس کے آئندہ نتائج کے بارے میں تشویش بڑھائی ہے۔ ACHIEVE کے رجسٹریشن توسیعی گروپ میں 71 شرکا شامل ہیں اور اہم نتائج 2027 کی پہلی سہ ماہی میں متوقع ہیں؛ اس ماہ پیش ہونے والے اعداد الگ گروپ سے متعلق ہیں۔ Sarepta اور PepGen کے علاج مختلف طریقوں اور مراحل میں زیرِ تحقیق ہیں؛ Novartis کا نتیجہ ان کی افادیت یا حفاظت پر براہِ راست فیصلہ نہیں دیتا۔ تازہ فروخت DM1 علاج کے شعبے میں خطرے کے نئے جائزے کی عکاسی کرتی ہے۔ vHOT ناقابلِ استعمال ثابت نہیں ہوا، جبکہ مثبت ابتدائی اعداد یا خوراک بڑھانے کی سفارش بھی منظوری کی ضمانت نہیں۔
امریکی ہنگامی خام تیل ذخیرہ (SPR) گزشتہ ہفتے تقریباً 12 لاکھ بیرل کم ہوکر 28 کروڑ 54 لاکھ بیرل رہ گیا؛ یہ نومبر 1982 کے بعد کم ترین سطح ہے۔ مارچ میں ذخیرہ تقریباً 41 کروڑ 50 لاکھ بیرل تھا؛ اس تقابلی مقدار سے موجودہ سطح تقریباً 12 کروڑ 96 لاکھ بیرل، یعنی 31 فیصد کم بنتی ہے۔ امریکہ نے 17 کروڑ 20 لاکھ بیرل جاری کرنے کا اعلان کیا تھا، جو عالمی سطح پر 40 کروڑ بیرل تیل اور تیار مصنوعات کی مربوط فراہمی کے منصوبے کا حصہ ہے۔ تبادلے کے تحت حاصل کیا گیا تیل کمپنیوں کو اضافی بیرل کے ساتھ واپس کرنا ہے؛ تاہم مستقبل کی واپسی موجودہ دستیاب ذخیرے میں شمار نہیں کی جاسکتی۔ Brent تقریباً 98 ڈالر کے آس پاس اور خلیجی رسد خطرات کی زد میں ہے؛ کم SPR فوری امریکی قلت ثابت نہیں کرتا، مگر نئے جھٹکے سے نمٹنے کی گنجائش محدود کرتا ہے۔ تجارتی ذخائر اور ملکی پیداوار اس سے الگ ہیں۔
عالمی مارکیٹس میں ایک بار پھر جغرافیائی سیاسی تناؤ سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ مغربی ٹیکساس انٹرمیڈیٹ، جو کہ امریکی خام تیل کی قیمتوں کا بنیادی معیار ہے، میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
ایران نے امریکہ کے خلاف براہ راست Iran US economic warfare (ایران اور امریکہ کے درمیان اقتصادی جنگ) اور میزائل حملوں کی دھمکی دی ہے، جس سے نہ صرف خطے میں جنگ کا دائرہ وسیع ہونے کا خدشہ ہے بلکہ عالمی توانائی کی سپلائی لائنز بھی شدید خطرے میں ہیں۔
سولانا نیٹ ورک نے اپنے ٹرانزیکشن سائز کو تین گنا سے زیادہ بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے، جسے Solana Transaction v1 upgrade کہا جاتا ہے۔ اس بڑی تبدیلی کے بعد ڈویلپرز کو پیچیدہ ٹریڈز اور بڑے سمارٹ کانٹریکٹس چلانے کے لیے زیادہ جگہ ملے گی۔
اگست کی تجارتی رپورٹ Chinese Trade Balance نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ چینی معیشت عالمی سپلائی چین (Supply Chain) میں کتنی گہری جڑیں رکھتی ہے۔
نئی تاریخی بلند سطح: لندن میٹل ایکسچینج (LME) پر تانبا 14,533 ڈالر فی میٹرک ٹن کی نئی تاریخی بلند ترین سطح کو چھو گیا، جس نے جنوری کا ریکارڈ توڑ دیا۔ ذخائر کا جغرافیائی تضاد: امریکہ میں تانبے کے ذخائر ریکارڈ سطح پر پہنچ چکے ہیں، جبکہ چین (SHFE) اور لندن کے گوداموں میں فوری دستیاب دھات نایاب ہو رہی ہے۔ شنگھائی میں 85 فیصد کمی: چین میں شنگھائی فیوچرز ایکسچینج کے زیرِ نگرانی ذخائر مارچ کے وسط کی بلند سطح سے گر کر صرف 63,000 ٹن رہ گئے ہیں، جو جنوری 2024 کے بعد کم ترین سطح ہے۔ امریکی ٹیرف کا اثر: متوقع امریکی تجارتی محصولات اور قیمتوں کے فرق نے عالمی تانبے کے بہاؤ کا رخ زبردستی امریکی گوداموں کی طرف موڑ دیا ہے۔ فوری رسد کا خطرہ: اگر LME سے دھات کا اخراج جاری رہا اور چین میں سپلائی بحال نہ ہوئی، تو مجموعی عالمی پیداوار کے باوجود فزیکل مارکیٹ میں شدید تنگی برقرار رہے گی۔
موجودہ حالات میں UAE Energy Exports Security کا معاملہ صرف ایک علاقائی مسئلہ نہیں رہا، بلکہ یہ عالمی معیشت کی سمت کا تعین کرنے والا ایک بنیادی عنصر بن چکا ہے۔
ایک زمانے میں ایتھریم (Ethereum) کا طاقتور حریف سمجھا جانے والا نیٹ ورک، ہارمونی (Harmony Blockchain)، اپنے نیٹ ورک کو بند کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔
عالمی مارکیٹس میں جب بھی جغرافیائی سیاسی ( تنازعات شدت اختیار کرتے ہیں، تو اس کے براہ راست اثرات توانائی کے شعبے اور کموڈیٹیز کی قیمتوں پر پڑتے ہیں۔ موجودہ تناظر میں، US Iran conflict نے سرمایہ کاروں اور پالیسی سازوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کر لی ہے۔
چین کی وزارتِ خزانہ کی جانب سے تقریباً 54 ارب ڈالر، یعنی لگ بھگ 360 ارب یوآن، کے بڑے Capital Injection نے اسی لیے عالمی سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کی ہے۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں